اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کسانوں کا بھارت بند: بہار میں آرجے ڈی سمیت اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج

پٹنہ، (یو این آئی )
زرعی اصلاحات سے متعلق پاس بلوں کے خلاف کسانوں کے یک روزہ ملک گیر ہڑتال کی حمایت میں آج بہار میں بھی اہم اپوزیشن راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی)، کانگریس اور بایاں محاذ سمیت سبھی اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کیا لیکن ریاست میں بند کا کہیں کوئی خاص اثر نہیں دیکھا گیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے زرعی اصلاحات سے متعلق بلوںکے پاس ہونے کے بعد ملک بھر کی کسان تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتیں اس کی مسلسل مخالفت کر رہی ہیں۔ اسی ضمن میں کسان تنظیموں نے جمعہ کو ان بلوں کی مخالفت میں یک روزہ ملک گیر بند کا اعلان کیا تھا جس سے بہار میں آرجے ڈی سمیت سبھی اپوزیشن جماعتوں نے اپنی حمایت دی ہے۔

مظاہرہ کر رہے آرجے ڈی کارکنان کی قیادت اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے کی ۔ قانون ساز اسمبلی میں پارٹی لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی کے دس سرکلر روڈ واقع رہائش سے ٹریکٹر چلاتے ہوئے تیجسوی یادو کی قیادت میں آرجے ڈی کارکنان کا قافلہ نکلا۔ زرعی اصلاحات بلوں اور مرکز کی نریندر مودی حکومت کے خلا ف پارٹی کارکنان کی بھیڑ نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھی۔ اس دوران آرجے ڈی رکن اسمبلی اور وزیر صحت تیج پڑتاپ یادو بھی مارچ میں شامل ہوئے اور بلوں کے خلاف احتجاج کیلئے اپنے منفرد انداز میں مسٹر تیجسوی یادو کے ٹریکٹر کی چھت پر جابیٹھے، جس سے راہگیروں کی توجہ ان کی جانب مرکوز ہوگئی۔ کارکنان میں غضب کا جوش وخروش دیکھا گیا۔ پٹنہ کے اہم چوک ۔ چوراہوں اور سڑکوںپر آر جے ڈی کارکنان کا ہجوم دیکھا گیا۔

اس موقع پر تیجسوی یادو نے کہاکہ مرکز کی نریندر مودی حکومت نے ان داتا کو اپنے فنڈ داتا کی کٹھ پتلی بنا دی ہے۔ یہ بل کسان مخالف ہے جس سے کسان لاچار، پریشان، مایوس اور ٹوٹ چکا ہے۔ مرکزی حکومت کا سال 2020 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کا وعدہ تو پورا نہیں ہو پائے گا لیکن ان بلوں کے قانون بن کر نافذ ہونے سے کسان غریب ضرور ہوجائیں گے۔ انہوں نے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی ڈبل انجن حکومت پر بھی سبھی شعبوں کے پرائیوٹائیزیشن کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ ایک زرعی شعبہ بچا تھا اس کا بھی ان بلوں کے ذریعہ پرائیوٹائزیشن کر دیا گیا۔

اپوزیشن لیڈر نے وزیراعلیٰ نتیش کمار پر حملہ بولتے ہوئے کہاکہ بہار پہلی ایسی ریاست ہے جہاں سال 2006 میں انہوں نے پی ایم سی ایکٹ کو ختم کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ ” جنتادل یونائٹیڈ (جے ڈی یو) نے پہلے کہا تھاکہ بل میں کم ازکم امدادی قیمت ( ایم ایس پی) کی وضاحت ہونی چاہئے، میں وزیراعلیٰ مسٹر کمار سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ بہار میں ایم ایس پی کیوں نہیں ہے۔ ددریں اثناء بایاں محاذ نے ان بلوں کی مخالفت میں پٹنہ میں جگہ ۔ جگہ مارچ نکالا۔ پٹنہ کے بدھ اسمرتی پارک سے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسوادی۔ لینن وادی ( سی پی آئی۔ مالے ) کے قومی جنرل سکریٹری دیپانکر بھٹہ چاریہ کی قیادت میں کسان احتجاجی مارچ نکالا گیا۔ اس مارچ میں سی پی آئی۔ مالے کے ہزاروں کارکنان شامل ہوئے جو ان بلوں کی مخالفت میں نعرے لگارہے تھے۔

وہیں جن ادھیکار پارٹی کے قومی صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو کی قیادت میں سینکڑوں کارکنان نے مارچ کیا۔ مارچ جیسے ہی پٹنہ کے ویر چند پٹیل مارگ واقع بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے ریاستی دفتر کے قریب پہنچا وہاں دونوں جماعتوں کے کارکنان آپس میں الجھ گئے۔ جاپ کا پرامن مارچ پرتشدد جھڑپ میں تبدیل ہوگیا۔ بتایا جاتاہے کہ اس دوران دونوں فریق کے کئی کارکنان زخمی ہوگئے۔

دار الحکومت پٹنہ کے علاوہ بہار کے لگ بھگ سبھی اضلاع میں آر جے ڈی سمیت سبھی اپوزیشن جماعت نے ان بلوں کی مخالفت میں مظاہرئے کئے۔ دربھنگہ سے یہاں موصول رپورٹ کے مطابق بلوں کی مخالفت کیلئے رکن اسمبلی للت یادو، بھولا یادو اور ضلع صدر نریش یادو کی قیادت میں سینکٹروں ٹریکٹر پر سوار آرجے ڈی کارکنان نے کرپوری چوک سے لہیریا سرائے تک جلو نکلا۔ وہیں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنان نے ایکمی گھاٹ کے نزدیک دربھنگہ۔ سمستی پور سڑک کے کنارے، جاپ کارکنان نے مبی کے نزدیک قومی شاہراہ نمبر۔57 کے پاس جبکہ سی پی آئی۔ مالے کے اراکین نے چھوٹے۔ چھوٹے علاقوں میں احتجاجی مارچ کیا ۔ لیکن ضلع میں کہیں بھی نہ تو بند کا اثر دکھا اور نہ ہی سڑکوں کو جام کیا گیا۔

اسی طرح بھاگلپور سے یہاں ملی اطلاع کے مطابق آرجے ڈی کارکنان نے اسٹیشن احاطہ سے کلکٹریٹ تک مارچ نکالا اور ضلع مجسٹریٹ کے نام سے ایک میمورنڈم سونپا۔ ضلع میں بھی بند کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا۔ ان کے علاوہ دیگر سبھی اضلاع میں بھی آرجے ڈی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاج و مظاہرات کئے گئے لیکن بند کا کوئی خاص اثر نہیں رہا۔

نیوز ایجنسی (یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close