اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کرناٹک: 10 اضلاع میں سیلابی صورتحال، 5 افراد ہلاک

کرناٹک کے 10 اضلاع میں صورتحال سنگین ہوگئی ہے جہاں سیلاب کے نتیجہ میں عام زندگی مفلوج ہوگئی۔ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں بارش سے متعلق واقعات میں 5افراد ہلاک ہوگئے۔

بیلگاوی‘ گوا اور ممبئی کے درمیان سڑک کا رابطہ ٹوٹ گیا کیو ں کہ سیلاب سے متاثرہ کئی اضلاع میں مٹی کے تودے کھسک گئے۔ چار ماڈی گھاٹ کے سکشن میں 5سے زائد مقامات پر زمین کے تودے کھسکنے سے ریلوے حکام گوا جانے والی ٹرین کو منسوخ کرنے پر مجبو رہوگئے۔ کرناٹک اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے گوا اور ممبئی چلائی جانے والی بسوں کو معطل کردیا کیوں کہ قومی اور ریاستی شاہراہوں پر بڑے پیمانے پر زمین کے تودے کھسک گئے اورسڑکو ں پردرخت گرگئے۔ متاثرہ مواضعات میں سیلاب کا پانی پلوں اور کلورٹس کے اوپر سے بہہ رہا ہے۔

بیلگاوی میں ہی سرکاری ذرائع کے مطابق 800 سے زائد مکانات یاتو گرگئے ہیں یا پھر ان کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ عوام گذشتہ ایک ہفتہ سے نیند سے محروم ہیں کیوں کہ دریائے کرشنا‘ گھٹاپربھا اور مالا پربھا پڑوسی ریاست مہاراشٹرا جہاں کے آبگیر علاقوں میں مسلسل بارش ہورہی ہے کے ریزروائرس سے بڑی مقدار میں پانی چھوڑنے کے بعد خطرہ کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ اگرچہ کہ شمالی کرناٹک کے اضلاع بشمول بیلگاوی‘ یادگیر‘ رائچور‘ کلبرگی میں گذشتہ 15دنوں سے سیلاب کی صورتحال ہے‘ پڈوگو‘ چکمگلور‘ شیموگہ‘ جنوب مغربی مانسون کے زیراثر ہیں جہاں کے مالناڈ اور مغربی گھاٹ کے علاقوں میں زندگی مفلوج ہوگئی ہے۔ متاثرہ علاقوں کے متعلقہ ضلع حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پر تعلیمی اداروں کے لئے تعطیل کا اعلان کیا ہے کیوں کہ سڑکوں پر پانی گھٹنوں برابر جمع ہوگیا ہے اور ٹرانسپورٹ کی سہولت معطل ہوگئی ہے۔

سرکاری ذرائع نے یواین آئی کو بتایا کہ مہاراشٹرا کی جانب سے 3.6لاکھ کیوزک سے زائدپانی چھوڑا گیا۔ پانی کے بہاو کی بنیاد پر مزید پانی 4لاکھ کیوزک تک چھوڑا جاسکتا ہے۔ کرناٹک حکومت کو انتباہ دیا گیا کہ وہ الماٹی ریزروائر کی آبی سطح برقرار رکھے جو پہلے ہی پر ہوچکا ہے۔ ضلع حکام نے 20سے زائد راحت مراکز کھولے ہیں۔ سیلاب کے سبب اٹھانی‘ چکوڑی‘ رائے باغ‘ کاگواڈ‘ حکیری‘ مودا لاگی اور خانہ پور تعلقہ جات شدید طور پر متاثر ہوئے۔ ہزاروں ایکر پر پھیلی فصلیں بہہ گئیں اور 1048کلومیٹر طویل سڑکوں کو نقصان پہنچا۔ ڈیمس اور چیک ڈیمس خطرہ کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں۔ سیلاب کے سبب 21واٹر پائپ لائن روٹس اور 2571 پولس کو بھی نقصان پہنچا۔ کئی علاقے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں۔ 24گھنٹے فوج‘ این ڈی ڈی آر ایف‘ ایس ڈی ڈی آر ایف‘ محکمہ فائر بریگیڈ کے ملازمین اور ماہر غوطہ خور خدمات انجام دے رہے ہیں۔

حکام نے پڈوگو ضلع میں ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے جہاں پر مٹی کے تودے کھسکنے کی اطلاعات ہیں۔سیاحوں اور مقامی افراد کو انتباہ دیا گیا ہے کہ وہ پانی میں نہ جائیں۔ ان سے یہ بھی خواہش کی گئی ہے کہ وہ سڑکوں پر جہاں پانی گھٹنوں کے اوپر تک بہہ رہا ہے‘ چلنے میں احتیاط کریں۔ بہ حیثیت مجموعی کرناٹک کے اضلاع سیلاب کے سبب متاثر ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close