اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کرناٹک: وزیر شیوکمار، ملند دیورا، نسیم خان پولیس حراست میں

باغی اراکین اسمبلی سے ملاقات کرنے بھی نہیں دیا گیا

کرناٹک کے کانگریس و جنتا دل حکومت کو بچانے کے لئے آج جب یہاں کرناٹک کے وزیر شیوکمار ممبئی کے مضافات میں واقع ایک ہوٹل جہاں کانگریس کے باغی اراکین اسمبلی قیام پذیر ہیں، انہیں منانے کے لئے ہوٹل پہنچے تو پولیس کی بھاری جمعیت نے شیوکمار سمیت سابق مرکزی وزیر ملند دیورا، کانگریس ڈپٹی اپوزیشن لیڈر محد عارف نسیم خان کو اپنی حراست میں لے لیا اور انہیں ممبئی یونیورسٹی کے گیسٹ ہاوس میں نظر بند کر کے رکھ دیا گیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق آج علی الصبح شیوکمار جب پوائی علاقہ میں واقع ریننسن ہوٹل پہنچے تو یہ علاقہ پولیس چھاونی لگ رہا تھا۔ مقامی ڈپٹی کمشنر آف پولیس اور اعلی پولیس افسران نے شیو کمار کو ہوٹل میں جانے سے روک دیا جسکے بعد انہوں نے اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی یہ آمد باغی اراکین اسمبلی کے مدعو کئے جانے پر ہی عمل میں آئی تھی نیز ان کا اسی ہوٹل میں کمرہ بھی بک تھا لیکن پولیس نے نظم و نسق کا بہانہ بنا کر انہیں اس ہوٹل میں قیام کرنے سے روک دیا۔ اس موقع پر باغی اراکین اسمبلی کے کئی ایک حمایتی بھی موجود تھے جنہوں نے شیوکمار واپس جانے کے نعرے بھی لگائے۔ اسی درمیان باغی اراکین اسمبلی نے ممبئی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اس لئے انہیں بھرپور تحفظ فراہم کیا جائے۔ شیو کمار کو جب ہوٹل میں جانے سے روک دیا گیا تو وہ ہوٹل کے روبرو ہی ملند دیورا، سنجے نروپم اور نسیم خان کے ہمراہ سڑک پر احتجاج کرنے بیٹھ گئے جس کے بعد پولیس نے انہیں اور دیگر کانگریسی لیڈران و کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

اس موقع پر اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ کرناٹک میں جمہوری طریقے سے منتخب ہوئی کانگریس و جنتادل کی حکومت کوگرانے کے لئے بی جے پی کی جانب سے مسلسل کوششیں جاری ہیں اورجس کے لئے مرکزی حکومت سے لے کر دیگر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کی مشینری کا غلط استعمال کرتے ہوئے بی جے پی کی جانب سے جمہوریت کا گلا گھوٹنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آمرانہ ذہنیت رکھنے والی بی جے پی لیڈران کا واحد ایجنڈا حزبِ مخالف کی حکومت نہ چلنے دینے کا ہے۔ اس کے لئے سام،دام،دنڈ،بھید کا استعمال اور حکومتی مشینری کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ گوا، منی پور، اروناچل پردیش وبہار میں اسی کا استعمال کرتے ہوئے بی جے پی نے اقتدار حاصل کیا ہے اوراب مغربی بنگال وکرناٹک میں بی جے پی کی وہی کوشش شروع ہے۔

سابق مرکزی وزیر ملند دیورا نے کہا کہ کرناٹک حکومت گرانے کے لئے مرکزی حکومت کے ساتھ مہاراشٹر کی فڑنویس حکومت بھی کوششیں کررہی ہے۔ ریاست کے وزراء عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے کرناٹک حکومت گرانے میں مصروف ہیں۔ بی جے پی کے لیڈران کے ذریعے کانگریس کے ممبران اسمبلی کو ذاتی طیارے سے ممبئی لاکر فائیواسٹار ہوٹلوں میں انہیں رکھا جارہا ہے۔ ملک کی سب سے امیر پارٹی بی جے پی کی جانب سے پیسوں کا لالچ دے کر اور اقتدار کا غلط استعمال کرکے دباوڈالا جارہا ہے۔ یہ جمہوریت کی بدقسمتی اور انتہائی افسوسناک باب ہے۔بی جے پی کی ان حرکتوں سے ملک میں جمہوریت کو زبردست خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اسی درمیان ممبئی پولیس نے رینائسنس ہوٹل کے درمیان میں دفع 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت چار سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close