تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

کانگریس کے انتخابی منشور ’سنكلپ پتر‘ میں تمام طبقات کے لیے دلکش وعدے

کانگریس نے ہریانہ اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے ’سنكلپ پتر‘ میں بنیادی طور پر خواتین کو بااختیار بنانے کو بنیاد بناتے ہوئے ریاست میں خواتین کو سرکاری نوکریوں میں 33 فیصد اور پنچايتي راج اداروں اور مقامی اداروں میں 50-50 فیصد ریزرویشن اور عورت کی ملکیت والی املاک کو ہاؤس ٹیکس میں 50 فیصد کی چھوٹ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

پارٹی کے جنرل سکریٹری اور ریاستی امور کے انچارج غلام نبی آزاد نے پارٹی منشور کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی طرز پر ’سنكلپ پتر‘ بتاتے ہوئے اس میں بیوہ، مطلقہ، غیر شادی شدہ خواتین، معذور افراد اور خواجہ سراؤں کو 5100 روپے ماہانہ دینے، خط افلاس سے نیچے کی خواتین کو ماہانہ 2000 روپے چولہا خرچ رقم دینے کا بھی وعدہ کیا۔ منشور میں کسان، تاجر، بے روزگاروں سمیت تمام طبقات کے لیے دلکش وعدے کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر ریاستی صدر اور سابق مرکزی وزیر کماری شیلجا، پارٹی اراکین کے لیڈر اور سابق وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا، منشور کمیٹی کی صدر اور رکن اسمبلی کرن چودھری، سابق وزیر ریل پون کمار بنسل اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

منشور میں کسانوں کی 24 گھنٹے میں قرض معافی، فصل انشورنس قسطوں کا بھی بوجھ ختم کرنے، فصل خراب ہونے پر معاوضہ رقم میں اضافہ، گڈ گورننس، تعلیم، صحت اور حفاظت کا وعدہ کرتے ہوئے پارٹی نے کم از کم تنخواہ بڑھانے، مزدوروں کو ای ایس آئی کارڈ جاری کرنے، سرکاری اہلکاروں کیلئے پنجاب کی طرز پر گریڈ لاگو کرنے، 7 ویں پے کمیشن کی سفارشات لاگو کرنے، ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی اور ایک میڈیکل کالج بنانے، ہر باشندے کو صحت، غریبوں کو بلا معاوضہ طبی سہولت، نشا سے آزادی، آٹوموبائل قانون میں جرمانہ کی رقم ختم کرنے، غیر قانونی کالونیوں میں بنیادی سہولیات، دیہات میں لال ڈورے کی توسیع، پہلی سے 12 ویں تک کے طلباء کی اسکالر شپ میں اضافہ، پسماندہ طبقوں کی کریمی لیئر آٹھ لاکھ روپے تک سالانہ کرنے، خط افلاس سے نیچے کے خاندانوں کو گھر کی تعمیر کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے اور مرمت کیلئے 50 ہزار روپے دینے، ایس سی اورایس ٹی باقی ماندہ عہدوں کو بھرنے، پسماندہ طبقوں کو 100-100 گز کے پلاٹ دینے، ہر خاندان میں قابلیت کی بنیاد پر ایک کو نوکری دینے، روزگار ملنے تک گریجویٹ کو 7000 اور پوسٹ گریجویٹ کو دس ہزار روپے ماہانہ الاؤنس، پرائیویٹ سیکٹر کی صنعتوں اور تنصیبات کی ملازمتوں میں نوجوانوں کے لیے 75 فیصد ریزرویشن کا بندوبست کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

منشور میں کانگریس نے حاملہ خواتین کو تین ماہ تک سے لے کر بچے کی پیدائش تک 3500 روپے اور بچے کی پانچ سال کی عمر تک 5000 روپے ماہانہ، چار فیصد سود پر خواتین کو خود روزگار کے لئے چار فیصد کی شرح سود پر قرض، خواتین اور طلباء کو روڈ ویزکی بسوں میں مفت سفر، خواتین کے لئے مفت کالج کی تعلیم، 55 سال کی عمر کی خواتین کے لئے 5100 روپے ماہانہ بڑھاپے کی پنشن، پسماندہ طبقے کی اکیلی خاتون کی بیٹی کی شادی پر ایک لاکھ روپے کا شگن دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

منشور میں، ریاست میں بےروزگاروں کے لئے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی مہم چلانے، شیڈول کاسٹس کمیشن کے قیام ، صفائی ملازمین کو 5000 روپے ماہانہ کا جوکھم الاؤنس اور گاؤں اور شہروں، 50 ہزار صفائی کارکنوں کی تقرری کرنے پسماندہ طبقات کی پہلے اور دوسرے کی نوکری میں 27 فیصد ریزرویشن، خانہ بدوش، ٹاریواس اور خانہ بدوش کے لئے 5 فیصد اضافی ریزرویشن، غریبوں کو دو روپے فی کلوگرام کی شرح پر، چاول اور گندم، نوکریوں کے لئے نوجوانوں کو گاڑیاں خریدنے پر قرضوں میں 20 فیصد سبسڈی، صنعتی کاری کو فروغ دینا، پسماندہ علاقوں میں صنعتوں کو اسٹامپ ڈیوٹی میں 50 فیصد چھوٹ۔ وعدہ کیا ہے۔

پارٹی نے دو ایکڑ تک کاشتکاروں کو مفت بجلی کی ادائیگی، زرعی منڈی کی فیس ایک فیصد کرنے، فصلوں کی انشورینس کی قسط حکومت برداشت کرے گی، ناقص فصلوں کے لئے کاشتکاروں کو بروقت معاوضہ یقینی بنانے اور ایسی صورت میں فی ایکڑ پر 12000 روپے معاوضہ دینے، دودھ دینے والے جانوروں کا مفت انشورنس، ہر ضلع میں جدید زرعی سائنسی مرکز قائم کرنا، ٹیوب ویلوں کے لئے بجلی کا کنکشن جاری کرنا، کسان اور زرعی مزدور کی موت پر بالترتیب تین اور پانچ لاکھ روپے معاوضہ اور گنا کسانوں کے بقایہ ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close