اپنا دیشتازہ ترین خبریں

کانگریس کی صدر جمہوریہ سے ملاقات، امت شاہ کو بر طرف کرنے کا مطالبہ

کانگریس کے ایک وفد نے دہلی فسادات کے سلسلے میں جمعرات کو صدر کووند سے ملاقات کی اور مرکزی وزیر داخلہ کو عہدے سے برطرف کرنے اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں پارٹی کے ایک وفد نے یہاں راشٹرپتی بھون میں مسٹر کووند سے ملاقات کرکے دہلی فسادات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ وفد نے صدر کو ایک میمورنڈم بھی سونپا جس میں کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت عوامی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے اس لیے مسٹر شاہ کو مرکزی وزیر داخلہ کے عہدے سے برخاست کیا جانا چاہیے۔

وفد میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے رہنما غلام نبی آزاد، راجیہ سبھا میں ڈپٹی اپوزیشن رہنما آنند شرما اور پارٹی کے سینیئر رہنما پی چدمبرم، احمد پٹیل، اے کے اینٹنی، ملک ارجن کھڑگے، رندیپ سرجے والا اور دیگر رہنما شامل تھے۔ صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد محترمہ گاندھی نے صحافیوں سے کہا کہ مرکزی حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوئی ہے لہٰذا وزیر داخلہ کو عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔

کانگریس نے میمورنڈم میں کہا کہ قومی دارالحکومت نئی دہلی میں مسلسل فسادات ہورہے ہیں اور مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ آئینی ذمہ داری کو پورا نہیں کر رہے ہیں۔ مرکزی حکومت اور دہلی کے نومنتخب ریاستی حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات نہیں کیے گئے اور خاموش تماشائی بنی رہی جس کی وجہ سے سوچی سمجھی سازش کے تحت فسادات اور لوٹ پاٹ جاری رہا۔ عوامی اور نجی جائداد کا کافی نقصان ہوا۔

مرکزی حکومت اور وزیر داخلہ کی بے اثری کے سبب کم ازکم 34 افراد کی موت ہوگئی اوور 200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے لیے دہلی کے وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ اور مرکزی حکومت کو ذمہ دار مانا جانا چاہیے۔ دہلی میں فساد کے اس وسیع تشدد کو بھانپنے میں خفیہ ایجنسیاں پوری طرح سے ناکام رہیں۔ علاوہ ازیں جو بھی اس سلسلے میں اطلاعات ملی تھیں ان کی بنیاد پر بھی تیاری نہیں کی گئی۔ پولیس دستوں کی تعیناتی میں تاخیر بھی کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ مکمل صورتحال کے پیش نظر وزیر داخلہ اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اس لیے انھیں علیٰ الفور عہدے سے برطرف کیا جانا چاہیے۔ میمورنڈم کے مطابق سماج میں نفرت اور تقسیم کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے جو تشویش کا باعث ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close