تازہ ترین خبریںدلی نامہ

کانگریس اور ’آپ‘ کے اتحاد کی گنجائش نکالنے کی آخری کوشش

اگر کانگریس دہلی، ہریانہ اور چندی گڑھ میں اتحاد کرے، تو ہم اب بھی اتحاد کے لئے تیار ہیں: منیش سسودیا

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
2019 کے پارلیمانی انتخابات میں دہلی میں اتحاد کے لئے بھلے ہی کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے راستے بند ہو گئے ہوں، لیکن کہیں نہ کہیں ابھی بھی امید کی کرنیں نظر آ رہی ہیں اور دونوں ہی جانب سے اتحاد کی گنجائش نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جہاں کانگریس کی جانب سے یہ اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اتحاد کے بھلے ہی راستے بند ہو گئے ہوں لیکن کھڑکیاں کھلی ہیں، وہیں عام آدمی پارٹی کی جانب سے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے آ ج یہ صاف کر دیا کہ اگر کانگریس اتحاد کے ہمارے فارمولہ پر راضی ہے تو ہم بھی بی جے پی کو ہرانے کےلئے اتحاد کرنے کو تیار ہیں۔ جس کو کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے اتحاد کی آخری کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالانکہ گزشتہ روز ہریانہ میں جے جے پی کے ساتھ ’آپ‘ کا سات اور تین کے فارمولے پر اتحاد ہو گیا ہے۔ لیکن پھر بھی ’آپ‘ نے دہلی کے ساتھ ہریانہ اور چنڈی گڑھ میں کانگریس سے اتحاد کی بات دہرائی ہے۔

پارٹی آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے آج کہا کہ اگر کانگریس چاہے تو ابھی بھی وقت ہے، مودی اور شاہ کی جوڑی کو 18 سیٹوں پر ہرایا جاسکتا ہے، اگر کانگریس دہلی کے ساتھ ہریانہ اور چندی گڑھ میں بھی اتحاد کرنے کےلئے تیار ہے تو ہم بھی اتحاد کےلئے تیار ہیں۔

وہیں دوسری جانب دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کانگریس پر حملہ بولتے ہوئے یہ بھی کہا کہ گزشتہ ایک ماہ سے اتحاد کے معاملے میں کانگریس کا جو رویہ رہا ہے اس سے ایک بات صاف ہوگئی ہے کہ کانگریس کی منشا بی جے پی کی تاناشاہی سے ملک کو بچانا نہیں بلکہ بی جے پی کو جیتنے میں مدد کرنے کی ہے۔

انھوں نے کہاکہ آج ملک میں جس طرح کا افرا تفری کا ماحول بنا ہوا ہے اس کو دیکھتے ہوئے عام آدمی پارٹی نے طے کیا تھا کہ مودی اور امت شاہ کی تاناشاہی کو ختم کرنے کےلئے ہم بی جے پی مخالف سبھی پارٹیوں سے ہاتھ ملانے کو تیار ہیں۔ سسودیا نے کہاکہ پارٹی کا ماننا ہے کہ اگر ساری بی جے پی مخالف پارٹیاں متحد ہوکر الیکشن لڑیں تو مودی اور امت شاہ کی جوڑی کو توڑا کر ملک کو ان کی تاناشاہی سے آزاد کرایا جاسکتا ہے۔ دہلی کے حالات کو دیکھتے ہوئے کئی مخالف پارٹیوں نے بھی ہمیں صلاح دی کہ دہلی میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا جائے۔ تاکہ بی جے پی کو ہرایا جاسکے اور اسی لئے کانگریس لیڈران سے کئی مرتبہ بات چیت بھی ہوئی۔

منیش سسودیا نے کہاکہ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ اتنی بڑی پارٹی کانگریس ملک کے اوپر منڈلا رہے خطرے کو سمجھ کیوں نہیں پا رہی ہے؟ اتحاد کے معاملہ پر کانگریس کا رویہ بیحد افسوس ناک رہا ہے اور ایک ماہ کا قیمتی وقت بھی برباد ہوا۔ انہوں ںے کہاکہ اب گزشتہ ایک ہفتہ سے دوبارہ کانگریس نے عام آدمی پارٹی کے لیڈران سے بات چیت شروع کی، ہم نے کانگریس کے سامنے بی جے پی کو 32 سیٹوں پر روکنے کی تجویز رکھی، ان میں 7دہلی کی، 10 ہریانہ، 13 پنجاب، 1چنڈی گڑھ اور 2 گوا کی سیٹیں ہیں۔ ابھی ان 32 سیٹوں پر بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ اگر کانگریس اس تجویز پر غور کرتی تو بی جے پی کو 32 سیٹوں کا سیدھا نقصان ہوتا۔

منیش سسودیا نے کہاکہ کانگریس نے کہاکہ ہم صرف دہلی میں ہی اتحاد کرنا چاہتے ہیں، کیا ایسا کرکے کانگریس باقی سیٹوں بی جے پی کو جتانا چاہتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ کانگریس نے جان بوجھ کر فیصلہ لینے میں تاخیر کی ہے تاکہ بی جے پی کو اپنی انتخابی حکمت عملی الیکشن پالیسی بنانے کا وقت مل سکے۔ ہماری پارٹی دہلی میں اپنے بل پر جیت سکتی ہے مگر جیتنا ہی ہمارا مقصد نہیں ہے بلکہ آئین کا تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

منیش سسودیا نے کہاکہ اب یہ کانگریس کو طے کرنا ہے کہ اس وقت ان کی ترجیح مودی۔شاہ کی جوڑی کو ہرانا ہے یا زیادہ سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا ریکارڈ بنانا ہے۔ انھوں نے کہاکہ گوا کےلئے وقت نکل چکا ہے اور کانگریس کی مانے تو پنجاب میں دونوں ہی پارٹیاں ایک دوسرے کے مخالف ہیں، وہاں بھی اتحاد نہ کرنا ایک بار سمجھ میں آتا ہے، لیکن ہریانہ اور چندی گڑھ میں اتحاد نہ کرنے کی کانگریس کی کیا وجہ ہے یہ سمجھ میں نہیں آ تا۔ منیش سسودیا نے کہا کہ ہم کانگریس کو کہنا چاہتے ہیں کہ اگر کانگریس دہلی کے ساتھ ہریانہ اور چندی گڑھ میں بھی اتحاد کرنے کےلئے تیار ہے تو ہم اب بھی اتحاد کےلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مودی اور امت شاہ کی جوڑی اس ملک کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے، اس جوڑی کو رو کنے کے لئے عام آدمی پارٹی سبھی بی جے پی مخالف پارٹیوں سے ہاتھ ملانے کو تیار ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close