تازہ ترین خبریںکھیل کھلاڑی

ڈوپ ٹیسٹ کے لئے تیار ہوا بی سی سی آئی

ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کئی برس تک قومی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی کے تحت آنے کی مخالفت کرنے کے بعد آخر اب اپنے کرکٹروں کے ڈوپ ٹیسٹ کے لیے تیار ہو گیا ہے۔

بی سی سی آئی نے رضامندی ظاہر کردی ہے کہ وہ قومی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (ناڈا) کے تحت اپنے کرکٹروں کا ڈوپ ٹیسٹ کرائے گا۔ یہ فیصلہ بی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹو راہل جوہری اور جنرل منیجر (کرکٹ آپریشنز) صبا کریم کی کھیل سیکرٹری رادھے شیام جھلانيا اور ناڈا کے ڈائریکٹر جنرل نوین اگروال کے ساتھ جمعہ کو میٹنگ کے بعد منظر عام پر آیا۔

جوہری نے میٹنگ کے بعد کہاکہ ہمیں قانون پرعمل کرنا ہوگا اور بی سی سی آئی موجودہ قانون پر عمل کرنے کے لئے مصروف عمل ہے۔ ہم دونوں نے جس مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے ہیں اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ناڈا کے قانون کو قبول کر لیا ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ بی سی سی آئی کا نظم دیکھ رہی منتظمین کی کمیٹی کے پاس کیا منتخبہ ادارے کی غیر موجودگی میں ایسا فیصلہ کرنے کا حق ہے، جوہری نے کہاکہ کسی کے لئے بھی قانون موجود ہے اور اس لئے آپ اور میں اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتے کہ کون قانون پر عمل کرے گا۔

بی سی سی آئی نے اپنے کھلاڑیوں کو ڈوپ ٹیسٹ کرانے کے لیے مسلسل ناڈا کی مخالفت کی تھی، لیکن حال میں نوجوان کرکٹر پرتھوی شا کے ڈوپ ٹیسٹ میں پکڑے جانے اور ان پر آٹھ ماہ کی پابندی لگنے کے بعد یہ بات دوبارہ لازمی ہو گئی تھی کہ بی سی سی آئی کو ناڈا کے تحت آنا ہی ہوگا۔

جوهري نے کہا کہ بی سی سی آئی نے اس معاملے میں اپنی طرف سے متعدد خدشات اٹھائے تھے لیکن وزارت کھیل کے ان خدشات کو ختم کرنے کرنے کی یقین دہانی کے بعد کرکٹ بورڈ ناڈا کے تحت آنے کو تیار ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے کئی خدشات اٹھائے اور انہیں قسط وار طریقے سے وزارت کے سامنے رکھا اور وہ ان تمام خدشات کا حل نکالنے کے لیے تیار ہو گئی۔

بی سی سی آئی کی سب سے بڑی فکر کھلاڑیوں کے پتہ ٹھکانے قوانین کو لے کر تھی جس میں کرکٹر کا مقابلہ سے باہر ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس اصول کو کھلاڑیوں کی رازداری کی خلاف ورزی تصور کیا جا رہا تھا اور ساتھ ہی ہائی پروفائل کرکٹروں کی حفاظت کو ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

اس اصول کے تحت ہر کھلاڑی کو ایک منشور میں ایک سال میں تین سیٹ تاریخوں کو بتانا تھا جب وہ مقابلہ میں حصہ نہ لے رہے ہوں اور نمونے جمع کرنے کو لے کر ناڈا کے ڈوپ کنٹرول افسر کو دستیاب ہوں۔اگر کوئی کھلاڑی ان تمام تاریخوں پر موجود ہونے میں ناکام ہو جاتا ہے تو وہ عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی خلاف ورزی پر معتوب ہو سکتا ہے۔ ایسے ہی ایک خلاف ورزی پر ویسٹ انڈیز کے آندرے رسل کو ایک سال کے لیے معتوب کر دیا گیا تھا۔

کھیل سیکرٹری جھلانيا نے کہاکہ بی سی سی آئی نے ہمارے سامنے ڈوپ ٹیسٹ کے معیار، پیتھولجسٹ کی قابلیت اور نمونے جمع کرنے جیسے تین مسئلے اٹھائے تھے، ہم نے ان کو پورا یقین دلایا کہ جو خصوصیت وہ چاہتے ہیں وہ ان کو دستیاب کرائی جائے گی لیکن اس کے لیے انہیں کچھ فیس دینی پڑے گی۔ اونچے درجے کی سہولت تمام قومی کھیل فیڈریشنوں کے لئے ایک برابر ہے اور بی سی سی آئی سے کوئی رعایت نہیں ہے۔ انہیں قانون کو ماننا ہوگا۔

بی سی سی آئی نے بڑی سطح کے ٹیسٹ کے طریقوں کے اخراجات میں جو آنے والا فرق ہے اس کو برداشت کرنے کی بات قبول کی ہے۔ جوہری نے کہا کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے اور اگر اخراجات میں کوئی فرق آتا ہے تو بی سی سی آئی اس کو ادا کرے گا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close