تازہ ترین خبریںرمضان کی بہاریں

ڈاکٹروں کی رائے:

چھوٹی الائچی کوٹ کر سادہ چھاچھ یا پھیکے ٹھنڈے دودھ میں استعمال کریں: ڈاکٹر احمد حسین جعفری

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
رمضان المبارک کے بابرکت ایام جاری ہیں۔ ماہ صیام میں روزہ دار مختلف اقسام وانواع کی خورد و نوش اشیاء کے استعمال کے سبب اکثر روزہ دار مختلف پریشانیوں میں مبتلہ ہو جاتے ہیں۔ تیز گرمی کے موسم میں کن غذاﺅں کا استعمال کیا جائے کہ روزہ باآسانی گذر سکے۔ اس سلسلے میں معروف طبیب ڈاکٹر احمد حسین جعفری نے کہاکہ گرمی میں سب سے زیادہ ضروری ہے کہ پیٹ بھر کر اور ثقیل کھانا نہ کھایا جائے۔ رازہ دار کو گرمی کے موسم میں پیاس کا احساس نہ ہو اس کےلئے ضروری ہے کہ سحری میں دودھ دہی چھاچھ، دہی کی لسّی، پھلوں کے جوس وغیرہ کا استعمال کیا جائے۔ تیز مرچ مصالے، تلے بھنی ثقیل کھانوں سے بچیں۔ ان کے استعمال سے روزہ کے دوران جلن، ایسیڈٹی، اپھارہ، بدہضمی، کھٹی ڈکاریں وغیرہ کی شکایت ہوتی ہے۔

ڈاکٹر احمد حسین جعفری نے صلاح دی کہ روزہ دار کو چہائے کہ ہلکی اور پورٹین والی غزاﺅں گوشت یا سبزی کے شوربے والے سالن کے ساتھ تازی توے کی بنی روٹی کھائیں۔ تندور کی میدے کی رو ٹی کا استعمال نہ کریں۔ سحری میں کھجور دودھ کا شربت تازے پھلوں کا جوس کا استعمال کریں۔ ختم السحر تک وقفے وقفے سے پانی پیتے رہیں۔ پیاس کی شدت کو کم کرنے کےلئے چھوٹی الائچی کے دو تین دانے چبالیں یا ان کو کوٹ کر سادہ چھاچھ یا پھیکے ٹھنڈے دودھ میں ملا کر پئیں۔ اس میں چینی یا نمک نہ ملائیں۔

ڈاکٹر احمد جعفری نے کہاکہ کھجور اور دودھ جسم کےلئے مکمل غذا ہے اس کاشیک بناکر سحر و افطار میں کرنے سے جسم میں توانائی باقی رہے گی اور کمزوری احساس تک نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ شدت کی گرمی کا موسم اور ورزہ طویل ہے اس لئے پیاس کا احساس زیادہ ہوتا ہے، جسم میں پانی کی کمی نہ اس کےلئے دھوپ میں نہ نکلیں کیوں کہ دھوپ میں پسینہ آنے سے پانی کی کمی ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اس کےلئے الیکٹرال پاﺅڈر، گلوکوز، پاﺅڈر، نمک چینی اور لیمو کی شکنجی، دودھ، چھاچھ کا استعمال کریں، پیٹ بھر زیادہ ٹھنڈہ پانی یا شربت نہ پئیں۔ بلکہ وقفے وقفے سے پانی یا شربت پئیں۔

ڈاکٹر احمد حسین جعفری نے کہاکہ اگر شوگر یاکسی اور بیماری کی دوا کوئی کھاتا ہے تو وہ بغیر ڈاکٹر کی اجازت کے روزہ نہ رکھے۔ روزہ دار کو چاہئے کہ روزہ افطار کے بعد اکثر پیش ا ٓنے والی پریشانی میں خود ڈاکٹر نہ بنیں بلکہ ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور طبیب کے مشورہ سے دوا لیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close