تازہ ترین خبریںدلی نامہ

ڈاکٹروں نے ‘دہلی کی فضائی آلودگی کو سزائے موت جیسی’ بتایا

دیوالی سے پہلے ہی دہلی این سی آر میں فضائی آلودگی کی سطح بڑھ گئی ہے. بڑھتی فضائی آلودگی کی وجہ سے دہلی این سی آر میں رہنے والے لوگوں کو سانس لینے میں کافی پریشانی ہو رہی ہے. دہلی این سی آر کے کئی علاقوں میں فضائی معیار گرتی جا رہی ہے. جس سے کئی علاقوں میں فضائی آلودگی کی سطح پی ایم 2.5 پر پہنچ گئی ہے.

آپ کی جانکاری کے لئے بتا دیں کہ پی ایم 2.5 باریک زرّات ہوتے ہیں اور پی ایم 2.5 بڑھنے پر ہی اسموگ کی سطح بڑھتی ہے. رپورٹ کی مانیں تو بھارتی دارلحکومت نئی دہلی کی فضا دنیا کے کسی بھی بڑے شہر کے مقابلے میں آلودہ ترین ہے اور عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کی مانیں تو ہرسال اسموگ کے باعث دس لاکھ ہندوستانی اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں

اس مہنے یعنی نومبر کی شروعات ہی سے 2 کروڑ سے زائد جانوں پر مشتمل نئی دہلی کے اسپتالوں میں دم گھٹنے سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے. نئی دہلی کے سرگنگارام اسپتال میں امراض سینہ کے ماہر سرجن سری نواس کے گوپی ناتھ جنہوں نے حال ہی میں 29سالہ کمار کولاحق پھیپھڑوکی بیماری کا علاج کیا ہے انکا اس فضائی آلودگی کے بارے میں کہنا ہے کہ ’’دہلی کی آلودہ ہوا اُس کے لئے سزائے موت کی طرح ہے، اسپتال سے باہر جاکر شہر کی گندی ترین فضا میں وہ کتنے عرصے زندہ رہ سکے گا”

سرجن سری نواس کے گوپی ناتھ کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں بد ترین وقت اس وقت ہوتا ہے جب مذہبی تہوار دیوالی کے موقع پر بڑے پیمانے پر آتش بازی سے شہر کی فضا اور بھی زیادہ آلودہ ہوجاتی ہے انکا اپنے مریضوں کے بارے میں کہنا ہے کہ اسپتال میں ہواکے معیار کو برقرار رکھا جاتا ہے لیکن تہوار کے آس پاس جب اُن کا مریض اسپتال سے ڈسچارج ہوکر اس آلودہ ہوا میں جاتا ہے تو وہ اُسے ضرور متاثر کرے گی

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close