تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

چندر شیکھر آزاد نے بنائی نئی پارٹی، بی ایس پی کے کئی لیڈروں کی شمولیت

بھیم آرمی چیف نے کیا ’آزاد سماج پارٹی‘ کا اعلان ٭نیلا ہی ہوگا پارٹی کا پرچم ٭نوئڈا میں منعقدہ جلسہ میں آزاد قومی صدر منتخب ٭کئی سابق ایم پی اور ایم ایل اے ہوئے شامل

نئی دہلی/نوئیڈا (انور حسین جعفری)
دلت سماج میں ایک بڑا چہرا بن کر ابھرے بھیم آرمی چیف چندر شیکھر آزاد نے آخر کار اپنی نئی سیاسی پارٹی کا اعلان کر دیا ہے۔ جو ملک بھر میں دلتوں کی رہنما مانی جانے والی سابق وزیر اعلی اتر پردیش مایاوتی اور ان کی پارٹی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کیلئے بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔

بھیم آرمی چیف چندر شیکھر آزاد کی نئی سیاسی پارٹی کا نام ’آزاد سماج پارٹی‘ (اے ایس پی) رکھا گیا ہے۔ جبکہ پارٹی کے جھنڈے کا رنگ بھی ’نیلا‘ ہی ہوگا۔ نوئیڈا کے سیکٹر 70، گاؤں بسئی میں بھیم آرمی چیف آزاد نے آج آئین کا حلف لیکر ’آزاد سماج پارٹی‘ (اے ایس پی) کے قیام کا اعلان کیا۔ جلسہ میں اتفاق رائے سے چندر شیکھر آزاد کو آزاد سماج پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس پروگرام میں حصہ لینے کیلئے 28 سابق ایم ایل اے اور 6 سابق ممبران اسمبلی بھی پہنچے۔

پہلے یہ پروگرام دہلی میں ہونا تھا لیکن دہلی میں کورونا وائرس کی وباء کے پیش نظر تمام عوامی اجلاس پر لگی پابندی کے بعد یہ جلسہ دہلی سے متصل نوئیڈا میں منعقد کیا گیا۔ جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کرکے بھیم آرمی چیف چندر شیکھر آزاد کو اپنی حمایت دی۔ اس پروگرام کے انعقاد سے قبل ہی آج صبح ہی جلسہ گاہ کا ماحول بگڑ گیا تھا۔ بھیم آرمی کے کارکنان جب جلسہ گاہ پہنچے تو وہاں تالا لگا تھا جو یہ کہہ کر بند کر دیا گیا کہ پولیس کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔ اگرچہ کچھ دیر کیلئے ماحول خراب ہوا، لیکن پھر سمجھا بجھا کر کارکنان تالہ کھول کر ہال میں بیٹھ گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بھیم آرمی کے حامی ملک کی کئی ریاستوں سے اس پروگرام میں حصہ لینے آئے تھے۔

نوئیڈا پولیس کے ڈی سی پی سنٹرل زون ہریش چندر کا کہنا ہے کہ بھیم آرمی کو پروگرام کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس کے باوجود لوگوں نے زبردستی گیٹ کھول کر پروگرام کیا۔ جو غیر قانونی ہے، لہذا اس پروگرام کرنے والوں اور اس میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ نوئیڈا پولیس نے کورونا وائرس کے سبب بھیم آرمی کے پروگرام پر پابندی عائد کردی تھی۔ جس جگہ پارٹی کا اعلان ہونا تھا وہاں پولیس نے تالا لگا کر نوٹس چسپا کر دیا تھا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے آپ کوئی جلسہ عام اور کسی بھی قسم کا کوئی پروگرام نہیں کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سہارنپور میں دلتوں اور ٹھاکروں کے مابین تصادم کے بعد بھیم آرمی کے بانی اور چیف چندر شیکھر آزاد غیر معمولی طور پر دلت سماج کے رہنما کا بڑا چہرا بن کر ابھرے تھے۔ سہارنپور جیل سے رہائی کے بعد آزاد مرکزی اور یوپی حکومت کو مسلسل چیلنج کر رہے ہیں۔ چندر شیکھر آزاد کے اس اقدام سے 2022 میں ہونے والے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں یوپی کی سیاست میں ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔ حال میں ملک بھر میں سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت میں جاری احتجاجی دھرنوں کی حمایت کرنے میں آزاد چرچہ میں رہے اور ان کو جیل بھی جانا پڑا تھا ساتھ ہی آزاد پر کئی روز کیلئے دہلی میں داخلے پر پابندی اور سی اے اے، این آرسی مخالف دھرنے میں شرکت پر ورک لگا دی گئی تھی۔ جس سے چندر شیکھر آزاد ملک بھر میں نہ صرف دلت سماج میں ایک بڑے لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں بلکہ مسلم سماج میں بھی ایک معروف نام بن گیا ہے۔ جو بہوجن سماج پارٹی کیلئے یوپی سمیت دیگر ریاستوں کے انتخابات میں بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close