تازہ ترین خبریںدلی نامہ

چاہے کچھ بھی کرنا پڑے، کچی کالونیوں کی رجسٹریاں کراکر دم لوں گا

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں کچی کالونیوں کا بل نہ لانے پر کجریوال کے تیور سخت

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی میں اسمبلی انتخابات قریب ہو نے سے دہلی میں کچی کا لونیوں کو پکا کر نے پر سیاست شروع ہو گئی ہے۔ بی جے پی مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں کچی کالونیاں کی رجسٹریاں کرا نے کابل نہ لانے پر مرکز کے تئیں سخت تیور دکھاتے ہوئے دہلی کے وزیر اعلی اورند کجریوال نے آج سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

کجریوال نے کہاکہ بی جے پی کی مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں کچی کالونیوں کو پکا کر نے کابل نہ لانے سے یہ صاف ہو گیا ہے کہ کچی کالونیوں کی رجسٹری پر ان کی نیت خراب ہے۔وزیر اعلی نے کہا کہ ہم نے دہلی میں حکومت بننے کے فوری بعد 12 نومبر 2015 کو کچی کالونیوں کو مستقل کرنے کی تجویز بھیجی تھی اور پھر 4 سال تک مسلسل رجسٹری کیلئے جدوجہد کی اوردباؤ بنایا۔

انہوں نے کچی کالونیوں کی رجسٹریوں کا کام کام روکنے کے لئے تمام طرح کی کوششیں کیں، سیٹیلائٹسروے کو منع کیا، ٹی ایس ایم سروے کرانے کو کہا،تا کہ چار پانچ سال کا وقت لگ سکے،لیکن ہم نے پھر بھیہار نہیں مانی اور مرکزی حکومت پر کچی کالونیوں کی رجسٹری کیلئے قانون بنانے کا چار سال دباؤ برقرار رکھا۔اسی دباؤ میں کچھ دنوں پہلے مرکزی کابینہ نے کچی کالونیوں کی رجسٹری کے بل کی منظوری تو دے دی، لیکن اب اسے دوبارہ لٹکا دیا گیا ہے۔

وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہا کہ کچی کالونیوں میں رہنے والے فکر نہ کریں، ہم ساری کالونیوں کو پکا کراکر ہی چین کی سانس لیں گے۔میں کجریوال لوگوں کے ہاتھ میں رجسٹری دلاؤں گا، کچی کالونی میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کو ان کا حق دلوا کر ہی دم لوں گا۔ وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہا کہ نے کہا ان لوگوں نے پہلے آپکے سی سی ٹی وی کیمروں کو لگنے سے روکا، ہم نے اسے کرایا، انہوں نے آپ کے محلہ کلینک کو روکا، ہم نے اس کو کرا یا اور اب کچی کالونیوں کا بل رو ک رہے ہیں لیکن میں کچی کا لو نیوں کی رجسٹری کراکر ہی دم لوں گا۔ اس کیلئے مجھے چاہے جوبھی کرنا پڑے۔

وزیر اعلی نے کہاکہ میں دہلی کے عوام کو واضح کر دوں کہ جیسے ہر رکاوٹ کو در کر کے سی سی ٹی وی لگوائے، محلہ کلینک کھلواے، اسی طرح رجسٹری بھی کراکر رہیں گے۔ وزیر اعلی کجریوال نے کہاکہ پانچ سال پہلے کچی کالونیوں کا برا حال تھا۔2015 کے اسمبلی انتخابات کے دوران کچی کالونیوں ہم جاتے تھے تو وہاں رہ رہے لوگوں کی پریشانی سے رو بہ رو ہوت تھے، ہم نے تبھی لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ حکومت بننے کے بعد کچی کالونیوں کو اس زندگی سے باہر نکالا جائے گا۔

گزشتہ پانچ سال میں کچی کالونیوں کی کایاپلٹ ہوئی ہے، سڑکوں کوتعمیر کرایا گیا، سیور لائن ڈلوائی گئیں،اب 24 گھنٹے اور دو سو یونٹ تک مفت بجلی مل رہی ہے، لوگوں کو مفت پانی مل رہا ہے،سی سی ٹی وی کیمرے لگ گئے، ممبر اسمبلی فنڈ سے کچی کالونیوں میں گیٹ لگوائے گئے، محلہ کلینک کا سب سے زیادہ فائدہ ان کالونیوں میں رہ رہے لوگوں کو ہو رہا ہے۔

وزیر اعلی نے کہاکہ گزشتہ پانچ سال میں کچی کالونیوں میں رہ رہے لوگوں کا معیار زندگی بالکل بدل گیا ہے، سرکاری اسکولوں میں بچے اب نجی اسکول کی سطح کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم نے 6 ہزار کروڑ خرچ کر کے پانی، نالی، سیور اور بجلی کا بندوبست کر دیاہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close