اپنا دیشتازہ ترین خبریں

چالیس ہزار کروڑ روپئے کے لئے وزیر اعلیٰ بنے تھے فڑنویس، بی جے پی لیڈر کا انکشاف

کرناٹک کے بی جے پی لیڈر اور ایم پی اننت کمار ہیگڈے کے ایک بیان نے مہاراشٹر میں سیاسی زلزلہ پیدا کر دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں بی جے پی نے دیویندر فڑنويس کو اکثریت نہ ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ بنانے کا ڈرامہ رچا تھا تاکہ مرکز سے ریاست کو ملے 40 ہزار کروڑ روپے کے فنڈز واپس لوٹا دیا جائے اور شیوسینا، کانگریس اور این سی پی اتحاد اقتدار میں آنے کے بعد اس کا غلط استعمال نہ کرے۔

بتا دیں کہ اس بیان کے سامنے آنے کے بعد این سی پی کے ترجمان نواب ملک نے کہاکہ اگر ایسا کیا گیا ہے تو یہ مہاراشٹر کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے اور اس کا جواب فڑنویس ہی نہیں بلکہ مرکز کی مودی حکومت کو بھی دینا ہوگا۔ ہیگڈے نے اپنے بیان میں کہاہے کہ فڑنویس کو وزیراعلی بنانے کا ناٹک اس لیے رچا گیا تاکہ فنڈ کو شیوسینا کے اتحاد سے بچایا جائے، حالانکہ ان کے پاس اکثریت نہیں تھی۔

واضح رہے کہ کانگریس، این سی پی، شیوسینا کی قیادت میں حکومت سازی کی کوشش میں لگی تھی، اس وقت اچانک راتوں رات صدر راج ہٹاکر فڑنویس کو وزیراعلی بنا دیا گیا اور انہوں نے 80 گھنٹے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس سلسلہ میں این سی پی کے لیڈر اجیت پوار کو نائب وزیر اعلی بنایا گیا تھا۔

اننت کمار کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے یہ ڈرامہ رچا اور فڑنویس نے حق ادا کرتے ہوئے پندرہ گھنٹے میں فنڈ واپس کر دیا۔ اس طرح شیوسینا اتحاد کو چالیس ہزار کروڑ فنڈ نہیں مل سکا۔ دوسری طرف فڑنویس نے بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر اننت ہیگڑے کے بیان کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہاکہ ’’میں نے کوئی ایسا فیصلہ نہیں لیا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد پالیسی پر مبنی کوئی بھی بڑا فیصلہ انھوں نے نہیں لیا اور جو بھی الزام ان پر عائد کیا گیا ہے وہ پوری طرح سے غلط ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close