اپنا دیشتازہ ترین خبریں

پی چدمبرم کی ضمانت عرضی پر سپریم کورٹ میں فیصلہ محفوظ

سپریم کورٹ نے آئی این ایکس میڈیا منی لانڈرنگ معاملے میں تہاڑ جیل میں بند سابق مرکز وزیر پی چدمبرم کی ضمانت عرضی پر آج اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

جسٹس آر بھانومتی، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس ہرشی کیش رائے کی بنچ نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے پیش سالسٹر جنرل تشار کمار مہتا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفو ظ رکھ لیا۔ وہیں عدالت نے ای ڈی سے اب تک کی جانچ رپورٹ مہر بند لفافے میں طلب کی۔

ای ڈی نے مسٹر چدمبرم کی ضمانت عرضی کی مخالفت کرتے ہو ئے دعوی کیا کہ وہ جیل میں رہتے ہوئے بھی معاملے کے اہم گواہوں کو متاثر کررہے ہیں۔ مسٹر مہتا نے کہا کہ اقتصادی جرائم سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں کیوں کہ وہ نہ صرف ملک کی معیشت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ انتظامیہ میں لوگوں کے یقین کو بھی ٹھیس پہونچاتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ تفتیش کے دوران ای ڈی کو بینک کے بارہ ایسے کھاتوں کے بارے میں پتہ چلا جن میں جرائم سے حاصل کردہ رقم جمع کیا گیا۔ ایجنسی کے پاس الگ الگ ملکوں میں خریدی گئی بارہ جائیدادوں کی تفصیلات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں مجرموں کی مدت کو ضمانت منظور کرانے کی بنیاد نہیں بننا چاہئے۔ مسٹر چدمبرم کی طرف سے سینئر وکیل کپل سبل اور ابھیشیک منوسنگھوی نے کل دن بھر بحث کی تھی۔اسکے بعد مسٹر مہتا نے آج دلائل مکمل کئے۔

مسٹر چدمبرم نے دہلی ہائی کورٹ کی طرف سے پندرہ نومبر کو ضمانت عرصی مسترد کئے جانے کے خلاف عدالت عظمی کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ اس سے پہلے مسٹر سبل نے اپنی دلیل میں کہا تھا کہ ریمانڈ عرضی میں ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ مسٹر چدمبرم گواہوں کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ جب کہ وہ تو ای ڈی کی حراست میں تھے۔ سابق مرکزی وزیر مسٹر چدمبرم کی اس لئے ضمانت منظور نہیں کی گئی جیسے وہ رنگا بلا ہوں۔ انہوں نے کہا تھا”کیا ای ڈی افسران یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ای ڈی کے دفتر میں جہاں فون بھی دستیاب نہیں ہے وہاں سے میں گواہوں کو متاثر کررہا تھا۔“

مسٹر سبل نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ہائی کورٹ نے ای ڈی کے تینوں اہم دلائل (ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا خدشہ‘ فلائٹ رسک‘ گواہوں کو متاثر کرنے کا خدشہ) کو ٹھکرادیا۔ اس کے باوجود صرف یہ کہتے ہوئے ضمانت منظور کرنے سے انکار کردیا کہ مسٹر چدمبرم گواہوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ انہیں اس گھپلے کا سرغنہ ثابت کردیا گیا جب کہ اس سلسلے میں کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close