اپنا دیشتازہ ترین خبریں

پھر شروع ہوئی ایوارڈ واپسی: مودی حکومت کے شہریت بل پر فلم ساز کا احتجاج، لوٹایا ’پدم شری‘

ایوارڈ واپسی کا دور ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے. لیکن اس وقت یہ عدم رواداری کے معاملے پر نہیں بلکہ شہریت ترمیم بل کی مخالفت میں شروع ہوا ہے.حکومت ہند نے 2006 میں فلم ساز اربم شیام شرما کو پدم شری ایوارڈ سے نوازا تھا. جسے اب قریب 13 سال بعد انہوں نے ‘شہریت ترمیم بل’ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنا پدم شری ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے.

آپ کی جانکاری کے لئے بتا دیں کہ 2006 میں منی پوری سنیما اور فلموں میں اہم شراکت کے لئے سابق صدر اے پی جی عبدالکلام نے شرما کو اس اعزاز سے نوازا تھا. میں منی پوری فلم اور فلموں میں اہم شراکت کے لئے روانہ سابق صدر ڈےپيجے عبدالکلام نے اربم شیام شرما کو اس اعزاز سے نوازا تھا. مسٹر شرما منی پور کے ایک معروف فلم ساز اور میوزک ساز ہیں. اس موقعے پر انہوں نے کہا کہ "منی پور کے عوام کو تحفظ کی ضرورت ہے. 500 سے زیادہ اراکین والے ایوان (لوک سبھا) میں ریاست کے صرف ایک یا دو رکن ہیں. ایسے میں پارلیمنٹ کے اندر ملک کے شمال مشرقی حصے کی آواز کیا اور کیسی ہوگی.”

مسٹر شرما نے کہا کہ "چھوٹے یا بڑے ریاست کے ناطے مرکزی حکومت ہمارا احترام کرے. اسے آبادی کی بنیاد پر نہیں دیکھنا چاہئے. میں یہ مسئلہ اس وجہ سے اٹھا رہا ہوں. کیونکہ شمال مشرقی ریاستیں مشترکہ طور پر جب کوئی چیز حکومت کے سامنے پیش کریں، تو حکومت کو اس چیز پر غور کرنا چاہئے. لیکن اگر حکومت ایسا نہیں نہیں کرتی ہے، تو لازم ہے کہ ہم اس کی مخالفت کریں گے. ”

غور طلب ہے کہ شمال مشرقی ریاستوں میں کئی سماجی تنظیمں مودی حکومت کی طرف سے شہریت بل میں کئے گئے ترمیم کی مسلسل مخالفت کر رہی ہیں. یہ بل شہریت قانون 1955 میں ترمیم کے لئے لایا گیا ہے. اس بل کے قانون بننے کے بعد افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان کے ہندو، سکھ، بدھ مت، جین، پارسی اور عیسائی مذہب کے ماننے والے اقلیتی فرقوں کو 12 سال کے بجائے 6 سال ہندوستان میں گزارنے پر ہندوستانی شہریت ملنے کا راستہ صاف ہو جائے گا.

شمال مشرقی ریاستوں میں اس بل کو لیکر لوگوں کا ایک بڑا طبقہ مخالفت کر رہا ہے. کانگریس، ٹی ایم سی، سی پی ایم سمیت کچھ دیگر پارٹیاں مسلسل اس بل کی مخالفت کر رہی ہیں. دوسری جانب حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ بل صرف آسام تک محدود نہیں ہے. اس بل کے ذریعے پاکستان میں ہراساں ہوکر گجرات، راجستھان، دہلی، مدھیہ پردیش سمیت دوسری ریاستوں میں آئے مہاجرین کو بھی راحت ملے گی.

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close