اپنا دیشتازہ ترین خبریں

پٹودہ تحصیل میں دلہن لانا بنا ایک خواب

200 سے زائد کنوارے شادی کے انتظار میں بوڑھے ہو رہے ہیں

ممبئی (پی این این)
پورا شمالی ہندسیلاب کے نرغے میں ہے۔ 20 لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ 21 اضلاع بری طرح تباہ ہیں۔ ایسے عالم میں جہاں پانی ایک طرف تباہی کا سبب بن رہا ہے وہیں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں شدید آبی بحران ہے۔ اس آبی بحران کی وجہ سے ان علاقوں میں ترقیاتی منصوبہ کار آمد ہو رہے ہیں بلکہ سماجی زندگیوں پر بھی آبی بحران کا اثر پڑ رہا ہے۔

مہاراشٹر میں ایک ایسا علاقہ بھی ہے، جہاں آبی بحران کی وجہ سے 200 سے زائد نوجوانوں کی شادیاں نہیں ہو رہی ہیں، 50 تو شادی کے انتظار میں آدھی عمر گزار چکے ہیں۔ ان علاقوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے نوجوانوں کو روزگار بھی حاصل نہیں ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس علاقہ کے نوجوانوں سے کوئی شادی کیلئے تیار بھی نہیں ہے۔ مہاراشٹر کے بیڈ کے پٹودہ تحصیل تو ایسا ہے جہاں اپنی بیٹی کی شادی کرنا کوئی بھی نہیں چاہتا۔ 50 نوجوان تو شادی کی عمر پار کر چکے ہیں لیکن اب بھی 200 سے زائد کنوارے جن کی عمریں 20 سے 25 کے درمیان ہے۔ ان کے سر پر سہرا باندھنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

پٹودہ تحصیل میں پانی کی زبردست قلت ہے۔ لڑکی والے جب یہاں کے حالات کو دیکھتے ہیں تو کان پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں وہ جب یہاں آکر گاؤں کی عورتوں کو پانی کیلئے جدو جہد کرتے دیکھتے ہیں تو اپنی بیٹی کی شادی سے صاف انکار کر دیتے ہیں۔ گراؤنڈ واٹر سروے اینڈ ڈوپلمنٹ ایجنسی پونے کے مطابق پٹودہ تحصیل کے 77 ایسے گاؤں ہیں جہاں پانی کی کمی تین میٹر سے بھی زائد نیچے ہیں۔ ڈومری گاؤں کے حالات تو اور خستہ ہے، ڈھائی ایکٹر زمین کے مالک 34 سالہ نتن گزشتہ چار برسوں سے اپنے لئے دلہن ڈھونڈ رہے ہیں لیکن خوبرو ہونے کے باوجود کوئی ان سے اپنی بیٹی کی شادی کرنا نہیں چاہتا۔ لڑکی والوں کا کہنا ہے کہ خوبصورتی اور زمین دیکھ کر ہم شادی نہیں کریں گے۔ یہاں کی عورتیں پانی کیلئے کس طرح جدو جہد کر رہی ہیں یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

خاص بات تو یہ ہے کہ ان گاؤوں میں موبائل کنکٹوٹی کی بھی سہلوت نہیں ہے۔ آج کی دلہن واٹس ایپ کی شیدائی ہے۔ 29 سالہ کسان ویبھو نے شادی کی امیدیں توڑ دی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا ایک رشتہ دار بھی دلہن کھوجنے میں ناکام رہا ہے اور وہ بوڑھا ہورہا ہے اور میں چند برسوں میں بوڑھا ہوجاؤں گا۔ گاؤں کے زیادہ تر لوگ مراٹھا طبقہ کے ہیں اور اپنے طبقہ کے باہر شادی نہیں کرتے مگر ان کی برادری اس گاؤں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ ڈپٹی سرپنچ سریکھا کا کہنا ہے کہ 25,30 سال کے 200 سے زائد کنوارے نوجوان دلہن کھوجنے کیلئے جدو جہد کر رہے ہیں جس طرح گاؤں کے لوگوں کو پانی کیلئے جد وجہد کرنی پڑ رہی ہے اسی طرح نوجوانوں کو دلہن کھوجنا بھی ایک ٹیڑھی کھیر ہے۔ گوکہ گاؤں کیلئے پانی کے ٹینکروں کی منظوری دینے کیلئے سرکاری سطح پر بھی رابطہ کیا گیا ہے لیکن کامیابی نہیں ملی ہے۔

گاؤں کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں یہاں خشک سالی ہے دو برسوں میں یہاں کے نوجواب امیدیں کھو چکے ہیں۔ بیشتر نوجوان روزگار کیلئے ممبئی، پونے، ناسک کی طرف رخ کر رہے ہیں ان نوجوانوں کی سوچ یہ ہے کہ شہر جاکر نوکری ملنے پر ان کی شادی ہوسکتی ہے، مگر 200 سے زائد نوجوان ایسے ہیں جن کے پاس اپنی پراپرٹی ہے جسے چھوڑنا بھی ممکن نہیں ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close