بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

پٹنہ میں سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف وکلاء کا عظیم الشان مظاہرہ

سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف روز بروز مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے۔ آج سینکڑوں وکلاء نے بھی پٹنہ سول کورٹ کے سامنے احتجاج کیا۔ وکلاء کا کہنا تھاکہ حکومت سی اے اے قانون کو جلد ازجلد واپس لے کیونکہ یہ قانون ہمارے آئین کی روح کے منافی ہے۔

ایڈوکیٹ آفاق احمد نے کہاکہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سمیت تمام کے تمام وزراء ابھی تک غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں کہ یہ قانون کسی کو شہریت دینے والا ہے اور لینے والا نہیں ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ قانون کچھ لوگوں کو شہریت دیتا ہے لیکن کروڑوں افراد کی شہریت پر سوالیہ نشان کھڑا کردیگا جب یہ این پی آر اور این آر سی لائیں گے اور اس حکومت کے تمام وزراء بالخصوص وزیر داخلہ اپنی مختلف تقاریر اور صدرجمہوریہ ہند نے اپنے خطبہ میں اور وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں بار بار کہہ چکے ہیں کہ ہم این آر سی لائیں گے۔ تب تو یہ قانون ایسے ہی غلط ہے کہ آپ اس قانون کے ذریعہ چند ہزار افراد کو شہریت دینے کے بہانے کروڑوں افراد کی شہریت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیں گے یہ تو بالکل غیر انسانی غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل ہے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

ایڈوکیٹ انجم باری نے کہاکہ سی اے اے ہندوستان کی اقلیتوں، پسماندوں، دلتوں، آدیباسیوں، خواتین سب کیلئے خطرناک قانون ہے جو بالکل غیر آئینی اور غیر جمہوری اور آئین کی روح کے خلاف ہے اس لئے ہم وکلاء اس کی مذمت کرتے ہیں اور پر زور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سیاہ قانون کو واپس لے۔انہوں نے کہاں کے وزیر داخلہ لوگوں کے سامنے کہتے ہیں کہ گاندھی جی نے کہا تھاکہ جو بھی ہندو پاکستان سے جب ہندوستان آنا چاہے تو آسکتے ہیں اس میں بھی وزیر داخلہ آدھی باتوں کو لوگوں کے سامنے بتاتے ہیں حالانکہ راشٹر وادی مسلمانوں کا بھی گاندھی نے تذکرہ کیا ہے اور کہاکہ وہ بھی اگر ہندوستان آنا چاہیں تو انہیں بھی کھلے دل سے قبول کیا جانا چاہئے۔

دیگر وکلاء نے بھی خطاب کیا اور کہاکہ اگر ہندوستان پناہ گزینوں کو پناہ دینے کا خواہشمند ہے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھنا چاہتا ہے تو کس نے منع کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کریں۔ حکومت کو چاہئے کہ ایک مضبوط رفیوجی پالیسی وضع کرے اور تمام رفیوجیز جو ملک میں ہیں ان کے ساتھ حسن معاشرت کا معاملہ کرے ۔ لیکن سیاست کرنے سے حکومت کو باز آنا چاہئے۔ یہ حکومت ہر مسئلہ کو ہندومسلمان کے چشمے سے دیکھنے کی عادی ہوگئی ہے اور ہر جگہ اسے ووٹ کی سیاست نظر آتی ہے اور اسی فرقہ وارانہ خطوط پر عمل پیرا بھی ہے۔ ہم اس قانون کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس قانون کو واپس لے ورنہ معزز سپریم کورٹ تو اس قانون کو رد کرے گا ہی اس میں کوئی دور رائے نہیں ہے۔

مظاہرے میں شریک مشہور صحافی اشرف استھانوی نے اپنے شاعرانہ انداز میں کہاکہ
قائم تو کرو ظالم تم ہی کوئی پیمانہ۔
جان کر کرتے ہو تم مشق ستم ہم کو۔
ہم بھی تو جانتے ہیں کیسے ہوتے ہیں دیوانے۔

مظاہرہ میں شریک دیگر وکلاء میں پنکج یادو، انورالہدیٰ، آفاق احمد، سازیب احمد، غیاث الدین، شوکت کریم، انجم باری، محمد ندیم، امیشور پرساد، گھنشیام تیواری، مہاویر پرساد ، ارشد جمیل، ارشد ہاشمی وغیرہم سمیت سینکڑوں کی تعداد میں وکلاء، سماجی شخصیات نے شرکت کی اور حکومت مخالف نعرے بازی کی اور سی اے اے، این آر سی، این پی آر واپس لو وغیرہ جیسے فلک شگاف نعروں سے فضا ئیں گونج اٹھی۔

تمام وکلاء نے کہاکہ مرکزی حکومت کی فرقہ ورانہ خطوط پر سیاست ملک کی اتحاد وسالمیت کے لئے انتہائی خطرناک ہے اس لئے حکومت کو اپنے ناپاک عزائم سے باز آنا چاہئے ور تمام سیکولر ہندوستانیوں کو اس حکومت کے خلاف احتجاج بلند کرنا چاہئے۔ یہ تمام سیکولر ہندوستانیوں کا فریضہ بنتا ہے۔ کہ وہ آئیں اور آئین کو بچائیں جب آئین بچے گا تم ہم سب بچیںگے ورنہ کوئی نہیں بچے۔ آج جمہوریت نازک دور سے گذر رہی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سمیت سابقہ جج صاحبان بھی کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے اسے تمام لوگوں کو مل کر بچانا ہوگا۔ جو بھی آئین میں اعتماد رکھتا ہے سبھوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کو بچائیں اور ملک کو بچائیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close