بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

پٹنہ میں بارش سے تباہی کیلئے نتیش اور سشیل ذمہ دار: گری راج

مرکزی وزیر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سنیئر لیڈر گری راج سنگھ گذشتہ دنوں شدید بارش کی وجہ سے دارالحکومت پٹنہ میں ہوئے آبی جما]؟[ کے لئے آج وزیراعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیراعلیٰ سشیل کمار مودی کو سیدھے طور سے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

مسٹر سنگھ نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرکے کہاکہ پٹنہ میں بارش سے تباہی کیلئے وزیراعلیٰ نتیش کمار اورنائب وزیراعلیٰ سشیل کمار مودی ذمہ دارہیں۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ منہ دیکھ کر راحتی اشیائکی تقسیم نہ کی جائے۔ مرکزی وزیر نے اس سے قبل بدھ کو پٹنہ میں آبی جما کے لئے بہارکی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھاکہ اس بد تر حالت کیلئے صرف قدرت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ یہ تو سسٹم اور انتظامیہ کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ ریاستی حکومت نے صرف لوگوں کوالرٹ کیا لیکن آبی نکاسی کے لئے خود اپڈیٹ نہیں ہوئی۔

انہوں نے اسے اپنی اندرونی تکلیف بھی بتائی تھی۔اسی طرح بی جے پی کے ریاستی صدر اور مغربی چمپارن سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سنجے جیسوال نے سوشل نیٹورکنگ سائٹ فیس بک پر اپنے پوسٹ میں پٹنہ میں آبی جما کے لئے افسران کوذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے لاپرواہ افسران کے خلاف دس دنوں میں کاروائی کرنے کو بھی کہا تھا۔ ڈاکٹر جیسوال نے بھی نتیش حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا تھاکہ بارش رکنے کے 24 گھنٹے بعد بھی پانی کانہیں نکلنا یہ بتانے کیلئے کافی ہے کہ لاپرواہی ہوئی ہے۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی مسلسل آبی جما]؟[ والے علاقوں میں محنت کر رہے ہیں لیکن نالے کی صفائی اور سمپ موٹر چلانے میں ان کا کوئی بھی کردار نہیں ہے۔ تباہی کے چار دن بعد بھی ٹھیک سے راحتی اشیائکی تقسیم نہیں کی جاسکی ہے۔وہیں سابق مرکزی وزیر اور رکن پارلیمنٹ رام کرپال یادو نے سیلاب متاثر ہ علاقوں میں راحت نہیں ملنے کی وجہ سے کل اپنی ہی حکومت کے انتظامیہ پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا تاکہ اس مصیبت میں افسران کام نہیں کر رہے ہیں۔

ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ ان کے علاقے میں راحت کا کوئی کام نہیں ہورہاہے۔سب ڈویژنل افسرنے فون پر تو با ت کی لیکن جب انہیں متاثرہ علاقے میں ساتھ چلنے کیلئے کہا گیا تو وہ تیار نہیں ہوئے۔ حالانکہ سب ڈویژنل افسرنے کہاکہ وہ کسی افسرکو بھیج دیں گے لیکن کوئی بھی افسر نہیں پہنچا۔ انہوں نے کہاکہ عوامی نمائندہ ہونے کی وجہ سے انہیں علاقے کے لوگوں کے درمیان تو جا نا ہی ہے اورایسے میں اب لوگ انہیں ماریں گے۔ انہوں نے بے بسی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ لوگوں تک راحت پہنچانا افسران کاکام ہے لیکن افسران کام نہیں کر رہے ہیں۔

ریاستی حکومت کے خلاف بی جے پی لیڈران کے جاری حملوں پر پلٹ وارکرتے ہوئے جے ڈی یوکے رکن کونسل ڈاکٹر رنبیر نندن نے کہاکہ آبی جما سے متاثرہ دارالحکومت کی عوام کے مابین چل رہے راحتی کام کو لیکر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے۔ حد تو یہ ہے کہ شہری ترقیات، صحت اور پبلک ہیلتھ انجینئر وزیر کے جماعت (بی جے پی) کے لیڈران ہی وزیر کے کام کی بھر پور تنقید کرتے ہوئے آبی جما کیلئے وزیرکو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ وہ بھی تب جب دار الحکومت کے اراکین اسمبلی کی درخواست پر وزیر اعلیٰ شہری ترقیات منصوبہ پر اربوں روپے خرچ ڈرنیج سسٹم، نالے کی صفائی اور سمپ ہاس کی تعداد بڑھانے پر ہوئی ہے۔

ڈاکٹر نندن نے کہاکہ کچھ لوگ ان بیانات کے ذریعہ وزیراعلیٰ نتیش کمار کے خلاف بھی بیان دے رہے ہیں۔ حقیقت ہے کہ دہائیوں سے بھی زیادہ وقت سے دار الحکومت کی اسمبلی سیٹوں پر بی جے پی کے ایم ایل اے بنتے رہے ہیں۔موجودہ پٹنہ کی میئر بھی بی جے پی کی ہیں۔ اگر سمپ ہاس خراب ہے تو اسے ٹھیک کرانا کس کی ذمہ داری ہے۔ اتنے سالوں سے دارالحکومت کے رکن اسمبلی رہے ہیں تو یہاں کی تاریخ اور جغرافیہ کی جانکاری کس کے پاس رہنی چاہئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close