بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

پٹنہ: سی اے اے کے خلاف آج ساتویں دن بھی دھرنا و احتجاج جاری

سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف آج ساتویں دن بھی دار الحکومت پٹنہ کے سبزی باغ میں دھرنا و مظاہرہ جاری ہے۔ دھرنے میں موجود ایک طالب علم ریاض احمد نے اشعار کے ذریعہ دھرنے میں موجود لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش۔ انہوں نے کہاکہ”چمن میں اختلاط رنگ و بو سے بات بنتی ہے۔ تم ہی تم ہو تو کیا تم ہو ہم ہی ہم ہیں کیا ہم ہیں“۔

مسٹر ریاض نے کہاکہ جس طرح چمن میں مختلف اقسام کے رنگ بو اور مختلف اقسام کے پھل پھول ہوتے ہیں جس سے چمن کی زینت بنتی ہے اسی طرح یہ ہمارا ملک مختلف مذاہب، طبقات، رنگ ونسل، ذات برادری کے مجموعے کا ملک ہے اور تمام افراد اس ملک کے باشندے اور اس کی زینت ہیں اور تمام کے حقوق برابر ہیں۔ لیکن آج کی یہ موجودہ حکومت جو فرقہ ورانہ خطوط پر ملک کو تقسیم کرنے کے درپے ہے اور ہمارے ملک کی خوبصورتی اور اس کی گنگا جمنی تہذیب کو ختم کر دینے کے درپے ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ اس ملک میں ایک ہی طرح کا پھول ہو جو ممکن نہیں ہے۔ یہ اس ملک کی روایت بھی نہیں ہے اور یہ ملک کبھی بھی اس کو گوراہ نہیں کرسکتا۔

سی اے اے کے ذریعہ اس حکومت نے ملک کے باشندوں کے درمیان تفریق اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کو ہم کبھی معاف نہیں کر سکتے اور ہم اس فرقہ ورانہ نظریے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ہم اس حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جو سی اے اے این آر سی اور این پی کے خلاف آوزیں بلند ہورہی ہیں اسے غور سے سنے اور اپنے ناپاک عزائم سے باز آئے اور ملک کی پر امن فضا کو مکدر کرنے کی کوشش نہ کرے۔مسٹر ریاض نے دھرنا میں موجود مرد و خواتین سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اپنے حقوق کیلئے اپنی آواز بلند کرتے رہنا ہے اس وقت تک ان آوازوں کو بلند کرتے رہنا ہے جب تک کہ حکومت ہمارے مطالبات تسلیم نہ کرلے۔

دھرنا میں موجود طالب اعیان نے بھی خطاب کیا اور کہاکہ ہم یہیں پیدا ہوئے ہیں اور اسی مٹی میں دفن ہوںگے ہمارے آباﺅ اجدادکی قبریں یہاں ہیں ہم یہاں سے جانے والے نہیں اور ہماری شہریت کے ثبوت کیلئے جو کاغذات طلب کئے جارہے ہیں ہم کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا وجود ہی ہماری شہریت کی علامت ہے۔ حکومت کی طرف سے جو بھی غیر آئینی قوانین نافذ کئے جائیںگے ہم ان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سی اے اے این آر سی اور این پی آکو جلد ازجلد واپس لے۔

دھرنے میں موجود ایک چھ سالہ بچہ عدنان جو بلا توقف لوگوں کے ساتھ نعرے بازی کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ ہمیں آزادی چاہئے، این آر سی سے، این پی آر سی، سی اے اے سے، ہمیں آزادی چاہئے پڑھنے کی، لکھنے کی، بولنے کی، کھانے کی، پینے کی۔ لوگ عدنان کی آواز میں آواز ملا کر اس کی ہمت افزائی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ آج دھرنے کا ساتواں دن ہے اور بلا توقف دھرنا شب ورز جاری ہے۔ شہر عظیم آباد سمیت ریاست کے دور دراز علاقوں سے لوگ دھرنا مقام پر اکٹھا ہورہے ہیں اور اپنی باتیں رکھ رہے ہیں ہندو مسلمان، سکھ عیسائی ہر کوئی آکر اپنی بات رکھ رہا ہے اور سبھوں کا یہی نعرہ ہے۔ ہندو مسلم سکھ عیسائی ہم ہیں آپس میں بھائی بھائی۔ دھرنے میں طلباءو طالبات، بوڑھے بچے، جوان سبھی شریک رہتے ہیں اور مقررین کی باتوں کو سنتے ہیں اور ان کی باتوں پر تالیاں بجاتے ہیں۔ ہر دن کوئی نہ کوئی سیاسی، سماجی شخصیت دھرنا مقام پر حاضر ہوتی ہے اور دھرنا سے خطاب کرتی ہے۔

واضح رہے کہ ابھی تک جن مشہور شخصیتوں نے دھرنا سے خطاب کیا ہے ان میں بہار اسمبلی کے سابق اسپیکر ادئے نارائن چودھری، کنہیا کمار، پپو یادو، عمران پڑتاپ گڑھ، شیوانند تیواری، ڈاکٹر احمد عبدلحئی سمیت معزز شخصیات شامل ہیں۔ دھرنا پر سابق میئر افضل امام، سابق ایم ایل سی انور احمد، سابق وارڈ پارشد شہزادی بیگم اور موجودہ وارڈ پارشد اسفر احمد بھی موجود رہتے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close