بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

پٹنہ سبزی باغ: سی اے اے کے خلاف مسلسل پانچویں دن بھی احتجاج جاری

بہار کے دار الحکومت پٹنہ کے سبزی باغ میں دھرنا اور احتجاج آج پانچویں دن بھی بدستور جاری ہے۔ تمام مظاہرین کا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ ہم اپنے مطالبات کی حمایت میں جمے رہیں گے۔ جب تک کہ حکومت اس کالے قانون کو واپس نہیں لے لیتی ہے۔ سی اے اے کے خلاف ریاست کے دیگر مقامات پر بھی دھرنا و مظاہرہ شروع ہوگئے ہیں۔ پھلواری شریف، سیوان، دربھنگہ، مظفر پور سمیت ریاست کے دیگرمقامات پر بھی بھی لوگ سی اے اے، این آر سی اور این پی کے خلاف دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں۔

دھرنےمیں شامل ایک اسی سالہ خاتون نے صحافیوں سے کہاکہ ہم کاغذ کہاں سے لائیں ہم لوگ دیہات میں رہتے ہیں اور کبھی آگ تو کبھی سیلاب اسی میں ہماری زندگی کٹتی رہتی ہے اس کے بعد یہ سرکار ہم سے کاغذ مانگ رہی ہے تو ہم کاغذ کہاں سے لائیں گے۔ حکومت نے ہم لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ حکومت کو شرم آنی چاہئے کہ ہم بزرگ مائیں بہنے ہیں روڈ پر بیٹھی ہیں اور حکومت سننے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اس سے زیادہ بے شرمی کی کوئی ہوہی نہیں سکتی ہے۔

واضح رہے کہ مظاہرین کی ہمت افزائی کیلئے دھرنے کے چوتھے دن مشہور نوجوان شاعر عمران پڑتاپ گڑھی دھرنا میں شریک ہوئے اور دھرنے کے مقام سے خطاب کیا انہوں نے فیض کے اشعار سے لوگوں کے اندر جوش و ولولہ پیدا کرنے کی کوشش کی ساتھ ہی حب الوطنی کے نغمات بھی پیش کئے۔

ہم بھی دیکھیں گے لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے فیض کے ان اشعار نے دھوم مچارکھی ہے۔ جہاں بھی جائیں وہاں لوگ فیض کے ان اشعار کو پڑھ کر مجلسوں میں جو لوگوں کے اندرو روح پھونکنے کاکام کر رہے ہیں۔ بوڑھے بچے، نوجوان سب فیض کے ان اشعار کو گنگنا رہے ہیں۔ لگتا ہے کہ فیض نے یہ اشعار ان ہی ایام کی مناسبت سے کہے تھے۔ جسے دیکھو سب کہتا نظرآرہا ہے کہ لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔ دھرنا میں شریک افراد مختلف طرح کے نعرے لگاتے نظر آرہے ہیں جیسے این آر سی پر ہلہ بول سی اے اے پر ہلہ بول، این پی آر پر ہلہ بول۔ تو کبھی مرکزی حکومت کے خلاف مظاہرین نعرے بازی کرتے دکھ رہے ہیں۔

الغرض کہ مظاہرین کا بس ایک ہی نعرہ ہے کہ حکومت سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کو واپس لے اور ملک کی عوام کو پریشان کرنا بند کرے ۔ اگر حکومت ان قوانین کو واپس نہیں لیتی ہے تو ہم بھی اپنے گھروں کو واپس جانے والوں میں سے نہیں ہے۔ شب روز دھرنا جاری ہے۔ بالخصوص شام کے وقت لاکھوں کی تعداد دھرنا مقام پر جمع ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں آمد ورفت میں مشکلات کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے لیکن پھر بھی مظاہرین عام لوگوں کے آنے جانے کا خیال رکھتے ہیں۔ خواتین کا بھی خاص خیال رکھتے ہیں تاکہ انہیں کوئی پریشانی لاحق نہ ہو اور پر امن مظاہرہ جاری رہے۔ دھرنا کے منتظمین اس بات کا پورا خیال رکھ رہے ہیں کہ عام لوگوں کو اس دھرنے سے کوئی پریشانی نہ ہو۔ کیونکہ یہ دھرنا صرف حکومت تک اپنی آواز پہنچانے کیلئے نہ کہ عام لوگوں کو کسی طرح کی پریشان کرنے کیلئے۔

شاہین باغ کے بعد سبزی باغ کا دھرنا عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس لئے جب سورج ڈھلتا ہے تب لوگوں کا ہجوم بڑھنا شروع ہو جاتاہے اور یہ ہجوم قریب ایک بجے رات تک رہتا ہے پھر کچھ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں اور کچھ لوگ دھرنا مقام پر ہی اپنی رات گذار لیتے ہیں ۔ یوں دن رات دھرنا جاری ہے اور لوگ دھرنا مقام پر اسٹیج سے اپنی باتیں رکھتے ہیں۔ رات کے دس بجے بعد لاؤڈ اسپیکر کو بند کر دیاجاتاہے اور طلباءو طالبات سمیت دھرنا میں شریک لوگ اشعار اور دیگر نعروں کے ذریعہ دھرنا میں شریک لوگوں کا دل بہلاتے ہیں اور ساتھ ہی مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہیں اور این آر سی این پی آر سی اے کو واپس لو جیسے نعرے بلا توقف لگاتے رہتے ہیں۔ دھرنے کے چوتھے دن پپو یادو بھی پہنچے اور مظاہرین کی ہمت افزائی کی اور ریاستی و مرکزی حکومت پر جم کر برسے۔

اس سے قبل دھرنے میں مختلف سیاسی و سماجی شخصیات خطاب کرچکے ہیں جس میں سابق بہار اسمبلی اسپیکر ادئے نارائن چودھری، جے این یو کے سابق طلباء یونین صدر اور مشہور امریکی جریدہ فوربس میگزین میں بارہواں مقام پانے والے کنہیا کمار سمیت متعدد لیڈران بھی مظاہرین کی حوصلہ افزائی کیلئے پہنچے اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ سبزی باغ دھرنا کو کامیاب بنانے میں محلہ اور اطراف کے لوگوں کی خاص اہمیت ہے بالخصوں سابق میئر افضل امام مسلسل دھرنا میں نظر آرہے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close