تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

پولیس اور عوامی نمائندوں کی موجودگی میں جانوروں کی ’بلی‘

راجستھان میں جانوروں کی ’بلی‘ پر روک کے باوجود ضلع چتوڑ گڑھ میں ایک شكتی پيٹھ پر ہر سال کی طرح نوراتراکی نومي پر آج پولیس اور ہزاروں لوگوں کے ساتھ عوامی نمائندوں کی موجودگی میں بلی دیئے جانے کا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کے اكولا تھانہ علاقہ کے تانا گاؤں میں واقع پہاڑی پر واقع چامنڈا ماتا مندر پر ہر سال کی طرح پیر کو بھی تانا کے ٹھاکر اور بھوپال ساگر پنچایت کمیٹی کے نائب پردھان بھیم سنگھ جھالا کے خاندان کی جانب سے جانوروں کی بلی کے تحت ایک بھینسے کی مندر کے سامنے بلی دی گئی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں لوگوں کے ساتھ عوامی نمائندوں کی موجودگی میں ہوئے اس بلی کے انعقاد کے عینی شاہد پولیس اہلکار بھی بنے لیکن روایت اور ٹھاکر خاندان کے خوف کی وجہ سے انہوں نے بلی روکنے کے کوئی کوشش نہیں کی۔

ایس ایچ او رمیش مینا نے بتایا کہ وہاں اس طرح کی روایت کو انہوں نے بھی سنا ہے، لیکن آج وہ كپاسن میں ڈیوٹی پر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مندر پر ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں قانون و انتظام کنٹرول کے لئے اكولا تھانے کے اسسٹنٹ ایس ایچ او جگدیش وجے ورگيہ کے ساتھ تین نوجوان اكولا تھانے سے اور دو جوان كپاسن تھانے سے لگوائے گئے تھے جن سے اس کی رپورٹ لی جائے گی۔ ضلع کلکٹر چیتن رام دیوڑا اور پولیس سپرنٹنڈنٹ انل كيال کے نوٹس میں جانور کی بلی کا معاملہ لائے جانے پر تحقیقات کروانے کی ہدایات دیئے ہیں، دونوں ہی حکام نے معاملہ کو سنگین بتایا ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ لوگوں کا ماننا ہے کہ قربانی کے بعد سر کٹا بھینسہ اگر چار سو فٹ کی پہاڑی سے لڑھکتا ہوا نیچے تک آ جاتا ہے تو اگلے سال علاقے میں اچھی برسات ہوگی اور اگر درمیان میں ہی پھنس جاتا ہے تو یہ اچھی برسات نہ ہونے کا اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close