تازہ ترین خبریںدلی نامہ

پوری دہلی ہے ان-لاک، تو سلاٹر ہاؤس کیوں ہیں لاک؟

دہلی میٹ مرچینٹس ایسوسی ایشن کا بکرا منڈی اور سلاٹر ہاؤس کو فوری کھولے جانے کا مطالبہ ٭ ساڑھے تین مہینے سے گوشت کاروباری پریشان حال

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
راجدھانی دہلی میں ان-لاک-1 اور 2-میں مارکیٹ، منڈیاں ، بازار اور صنعتیں کھولے جانے کے باوجود کورونا کے وقت میں قوت مدافعت کے اہم ضروری گوشت کیلئے دہلی کے غازی پور میں واقع بکرا منڈی، لائف اسٹاک اور سلاٹر ہاؤس اب تک نہ کھولے جانے سے گوشت کاروباری پریشانی کے عالم میں ہیں۔ اس کیلئے ایسوسی ایشن نے وزارت داخلہ، وزیر خوراک وخوراک وسائل، دہلی کے ایل جی، دہلی کے وزیر اعلی، ایسٹ ایم سی ڈی کے میئر، کمشنر ایسٹ ایم سی ڈی، ویٹر نری ڈائرکٹر ایسٹ ایم سی ڈی کو خط لکھ کر انہیں گوشت کاروباریوں کے حالات سے باخبر کیا ہے اور میمورنڈم میں لائف اسٹاک مارکیٹ اور سلائٹر ہاؤس کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دہلی مرچینٹس ایسوسی ایشن کے ذمہ داران نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ غازی پور میں واقع سلائٹر ہاؤس، بکرا اور گوشت منڈی ساڑھے تین مہینے سے زائد مکمل طریقے سے بند ہیں، جس کے سبب گوشت کاروباری فاقہ کشی کرنے پر مجبور ہیں۔ ذمہ داران نے بتایا کہ سلائٹر ہاؤس 22 مارچ سے مکمل بند ہے۔ جبکہ ای ڈی ایم سی ڈی کو یہاں سے سالانہ 8 کروڑ روپئے ریونیو حاصل ہوتا ہے، جو سرکار کا بھی نقصان ہے، وہیں ایک دن میں قریب 9 ہزار جانور کاٹے جاتے ہیں اور پوری دہلی میں تقریباً 90 فیصد گوشت کی بھرپائی غازی پور سے ہی ہوتی ہے۔

دہلی میٹ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے صدر ارشد حبیب قریشی نے بتایا کہ ہم نے مرکزی ڈاکٹر ہرشوردھن اور دہلی کے وزیر عمران حسین کے سامنے اپنے مسائل رکھے، مگر ان کی جانب سے اب تک کوئی خاطر خواہ قدم نہیں اٹھایا گیا، وہیں ہمارے وفد نے میئر نرمل جین سے ملاقات کرکے گوشت کاروباریوں کی تکالیف سے آگاہ کیا۔ منڈی اور سلاٹر ہاؤس بند ہونے سے صرف گوشت کے کاروباری ہی نہیں بلکہ مختلف طبقے اور مذاہب کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ مختلف صوبوں سے لوگ بھینس وبکرے راجدھانی لاکر فروخت کرتے تھے، مگر منڈی بند ہونے سے اس سے جڑے لاکھوں لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سینئر ڈاکٹر کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ کورونا کے وقت میں قوت مدافعت کے لئے گوشت کی بہت ضرورت ہے، ایسے میں ایم سی ڈی کو توجہ دیکر گوشت منڈی کو کھول دینا چاہئے۔

چیف پیٹران محمد یونس احمد قریشی نے کہاکہ غازی پور سلائٹر پوری دہلی کو گوشت دستیاب نہیں کرا پاتا ہے، کیونکہ آبادی بہت بڑھ گئی ہے، اسلئے ہمارا مطالبہ ہے کہ نارتھ اور ساؤتھ ایم سی ڈی میں بھی سلائٹر ہاؤس قائم کیا جائے، کیونکہ دہلی میں 80 فیصد سے زائد گوشت خور ہیں اور شہریوں کو غذا فراہم کرنا ایم سی ڈی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دکشت نے قریش برادری کے ایک بڑے پروگرام میں دارالحکومت میں 4 سلائٹر ہاؤس بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر اسکے بعد تمام سرکاروں نے قریش برادری کے اہم مسائل کو نظر انداز کیا ہے۔

سیکٹری جنرل محمد ارشاد قریشی عرف بابا نے کہاکہ ہم کو ہر طرف سے صرف تسلی دی جا رہی ہے، وہیں مزدور بھکمری کا شکار ہو رہے ہیں، لیکن اب ہمارا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے، ہم انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر ہمارے مطالبات کو فوری نہیں مانا گیا تھا اور ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوں گے اور بہت جلد قریش برادری احتجاج کی شکل میں ایم سی ڈی کا گھیراؤ کرے گی۔ کیونکہ موجودہ وقت میں ہمارے بچوں کی روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔

ارشاد قریشی نے کہا کہ عیدالاضحٰ مسلمانوں کا اہم ترین تہوار ہے۔ بہت سے مسلمان سلائٹر ہاؤس میں ہی بھینس اور بکرا ذبح کراتے ہیں اور وہاں سے خرید کر بھی لاتے ہیں، اس کو سامنے رکھتے ہوئے جلد ازجلد بکرا اور بھینس منڈی کو کھولا جانا چاہئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close