اپنا دیشتازہ ترین خبریں

پلوامہ ہلاکتوں کے خلاف کشمیر اور جموں کے مختلف حصوں میں مکمل ہڑتال

جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے سرنو نامی گاؤں میں مسلح تصادم کے مقام پر سیکورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 7عام شہریوں کے جاں بحق اور درجنوں دیگر کے زخمی ہونے کے خلاف وادی کشمیر اور خطہ جموں کے مختلف حصوں بالخصوص چناب ویلی کے بانہال، بھدرواہ، ڈوڈہ اور کشتواڑ قصبوں میں اتوار کے روز مکمل ہڑتال کی گئی جس سے معمول کی زندگی معطل ہوکر رہ گئی۔

مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے شہری ہلاکتوں کے خلاف تین روزہ ماتمی ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ ہڑتال کے دوران احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سری نگر کے پائین شہر کے بیشتر حصوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رکھی گئیں۔ ضلع پلوامہ میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت چار یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے پر پابندی عائد کر رکھی گئی ہے۔ کشمیر یونیورسٹی اور سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر نے پیر کے روز تک لئے جانے والے امتحانات کی معطلی کا پیشگی اعلان کر رکھا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق پلوامہ ہلاکتوں کے خلاف وادی بھر میں اتوار کو ضلع، قصبہ و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی گاڑیاں بھی سڑکوں سے غائب رہیں۔ سری نگر کے سیول لائنز میں ہر اتوار کو لگنے والا سنڈے مارکیٹ مکمل طور پر بند رہا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق صوبہ جموں کے مختلف حصوں بالخصوص چناب ویلی کے بانہال، بھدرواہ، کشتواڑ اور ڈوڈہ قصبوں میں اتوار کو پلوامہ ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے دوران ان قصبوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔ انجمن اسلامیہ بھدرواہ کے صدر پرویز احمد شیخ نے پلوامہ ہلاکتوں کو انتہائی بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے اتوار کو چناب ویلی میں ہڑتال کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ نہتے شہریوں کو مارنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close