اپنا دیشتازہ ترین خبریں

پرینکا ریڈی قتل معاملہ: مظاہرین نے گھیرا تھانہ، پولیس نے کیا لاٹھی چارج

تھانے پر بڑی تعداد میں مظاہرین کے پیش نظر ملزمین کو عدالت لے جانا پولیس کے لئے چیلنج... ملزمین کو میڈیکل جانچ کے لئے نہیں لے جا سکی اسپتال.... تھانے میں بلائی گئی ڈاکٹروں کی ٹیم

ویٹنری ڈاکٹر پرینکا ریڈی کے قتل میں پولیس کی لاپرواہی کو لے کر شادنگر تھانہ کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔ ہزاروں مظاہرین نے ملزمین کو عدالت لے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے سڑک کو جام کر دیا۔ پولیس نے ان لوگوں کو قابو کرنے کے لئے دو بار لاٹھی چارج کیا۔ پولیس کی لاٹھی چارج میں کئی مظاہرین کو چوٹیں آئی ہیں۔ بھاری بھیڑ کے سبب پولیس ملزمین کو اسپتال نہیں لے جا سکی۔ پولیس کو ملزمین کا میڈیکل ٹیسٹ کرانے کے ڈاکٹروں کو پولیس تھانہ ہی بلانا پڑا۔

ہفتہ کی صبح پرینکا ریڈی کے قتل کے چاروں ملزمین کو شادنگر پولیس تھانے میں لایا گیا۔ پولیس کو ان چاروں کو میڈیکل جانچ کے بعد شادنگر کے کورٹ میں پیش کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔ جب ڈاکٹر کے قتل کے ملزمین کو تھانے میں لانے کی خبر لوگوں کو ملی تو ہزاروں لوگ اور خواتین تنظیموں کے کارکنان پولیس تھانے کے قریب جمع ہو گئے۔ ڈاکٹر کے قتل میں پولیس کی لاپرواہی اور ملزمین کو بھیڑ کو سونپنے کی مانگ کو لے ہزاروں لوگوں نے تھانہ گھیر کر مظاہرہ کیا۔ بے قابو ہوتے مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کو دو بار لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ پولیس کے لاٹھی چارج سے کئی مظاہرین زخمی ہو گئے۔ مظاہرین نے اسپتال اور کورٹ جانے والے راستے کو جام کر دیا۔ خواتین تنظیموں کے ساتھ بڑی تعداد میں خواتین بھی پولیس اسٹیشن پر پہنچ گئیں اور ملزمین کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔

پولیس نے مظاہرین کا غصہ دیکھ کر میڈیکل ٹیم کو پولیس تھانے میں بلانے کا فیصلہ لیا۔ پولیس کی سخت سیکورٹی میں شادنگر اسپتال کے ڈاکٹر سرینواس اور سریندر کو پولیس تھانے لایا گیا۔ خبریں لکھے جانے تک پولیس تھانے سے شادنگر کے کورٹ کے تین کلومیٹر طویل راستے پر سڑک کے دونوں جانب ہزاروں کی بھیڑ جمع رہی۔ مظاہرین کی بھاری بھیڑ کو دیکھتے ہوئے بڑی تعداد میں پولیس اور سیکورٹی فورس کی تعیناتی کرنی پڑی۔ لوگوں کی مخالفت کو دیکھتے ہوئے ملزمین کو عدالت میں پیش کرنے کے لئے لے کرجانا پولیس کیلئے ایک چیلنج ثابت ہوا۔

کیا ہے پورا معاملہ:
بتا دیں کہ 27 سالہ ویٹرنری خاتون ڈاکٹر پرینکا ریڈی بدھ کو كوللر واقع جانوروں کے کلینک گئی تھیں۔ انہوں نے اپنی اسکوٹی کو شادنگر کے ٹول پلازہ کے قریب پارک کر دیا تھا. لیکن رات میں جب وہ واپس آئیں تو ان کی اسکوٹی پنکچر تھی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی بہن کو فون کیا اور اس کی اطلاع دی۔ بہن نے پرینکا کو ٹول پلازہ جانے اور کیب سے آنے کی صلاح دی۔

ایسا بتایا جا رہا ہے کہ کچھ دیر بعد جب پرینکا کی بہن نے دوبارہ فون ملایا تو وہ سويچ آف تھا۔ اہل خانہ نے پرینکا سے بات نہ ہونے کے وجہ سے وہ اس کی تلاش کرتے ہوئے شادنگر ٹول پلازہ پر پہنچے لیکن وہ نہیں ملی اور دوسرے دن صبح شادنگر کے انڈر کے ساتھ اس کے جلی ہوئی لاش ملی۔ جس کی اطلاع راہ گیروں نے پولیس کو اطلاع دی. پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ باتیں سامنے آ رہیں ہیں کہ خاطیوں نے ہی اسکوٹی کا ٹائر پنکچر کیا تاکہ اسے آسانی سے نشانہ بنایا جاسکے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close