تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

پرویز مشرف کی سزائے موت ختم، سزا سنانے والی عدالت ہی غیر قانونی: ہائی کورٹ

پاکستان کے لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو آئین سے غداری کے جرم میں خصوصی عدالت سے دی جانے والی سزائے موت ختم کرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف اس عدالت کے قیام کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا ہے بلکہ ٹرائل کے سارے عمل کو بھی کالعدم کر دیا ہے۔

مشرف نے دسمبر 2019 میں ہائی کورٹ میں سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی اور ان کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی، بغیر کسی اختیار اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خارج کرنے کا مطالبہ کیا۔ کورٹ نے مشرف کی عرضی کی سماعت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق صدر کے خلاف ملک سے بغاوت کا معاملہ جس میں انہیں موت کی سزا سنائی گئی، قانون کے مطابق تیار نہیں کیا گیا تھا۔

ہائی کورٹ کی تین رکن بنچ نے حالانکہ مشرف کو سزائے موت دینے کے خصوصی عدالت کے فیصلے کو درستگی کے سلسلے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا لیکن عرضی گذار کے وکیل نے کہا ہے کہ خصوصی عدالت کی تشکیل غیر قانونی قرار دینے کے بعد اس کے ذریعہ دیا گیا فیصلہ بھی غلط ہے۔ واضح رہے کہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کرکے آئین کو معطل کرنے کے لئے پاکستانی حکومت کی جانب سے2013میں دائر کئے گئے ایک معاملے میں مشرف کو 17 دسمبر 2019 کو سزائے موت سنایا تھا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close