اپنا دیشتازہ ترین خبریں

پرنب مکھرجی، بھوپین ہزاریکا، ناناجی دیشمکھ بھارت رتن سے سرفراز

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے سابق صدر پرنب مکھرجی کو آج یہاں ملک کے سب سے بڑے شہری اعزاز بھارت رتن سے نوازا۔ ان کےعلاوہ سماجی کارکن ناناجی دیشمکھ اور موسیقار اور گلوکار بھوپین ہزاریکا کو بعد از مرگ اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

راشٹرپتی بھون میں ایک زبردست تقریب میں مسٹر کووند نے سند اور علامتی نشان دئے۔ان تینوں ممتاز شخصیات کو17ویں یوم جمہوریہ کی شام بھارت رتن سے نوازنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مسٹرمکھرجی بھارت رتن سے نوازے گئے ملک کے ایسے چھٹے شخص ہیں جو صدرکے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ ان میں سے سروپلی رادھا کرشنن اور ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو صدر بننے سے پہلے ہی یہ اعزاز مل چکا تھا۔

مسٹر مکھرجی کی پیدائش، مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع کے کرناہر شہر کے ایک چھوڑے سے گاؤں مراتی میں 11 دسمبر، 1935 کو ہوئی تھی۔ ان کے والد کامدا کنکر مکھرجی علاقے کے مشہور مجاہد آزادی تھے اور آزادی کی لڑائی میں اپنا فعال کردار ادا کرنے کےلئے وہ 10 برسوں سے زیادہ وقت تک جیلوں میں قید رہے۔

اس وقت کی کلکتہ یونیورسٹی سے متعلق سوری ودیاساگر کالج سے گریجویشن کا امتحان پاس کرنے کے بعد مسٹر پرنب مکھرجی نے تاریخ اور پولیٹیکل سائنس میں پوسٹ گریجویشن اور قانون کی پڑھائی کی۔انہوں نے لمبے وقت تک ٹیچر،ایک وکیل اور صحافی کے طورپر بھی کام کیا۔مسٹر مکھرجی کی سیاسی زندگی کی شروعات سال 1969میں ہوئی،جب وہ پہلی بار راجیہ سبھا کےلئے منتخب ہوئےتھے۔اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے ان کی قابلیت سے متاثر ہوکر صرف 35سال کی عمر میں انہیں 1969میں کانگریس پارٹی کی جانب سے راجیہ سبھا کا رکن بنایا تھا۔اس کے بعد وہ 1975،1981،1993 اور 1999 میں راجیہ سبھا کےلئے پھر سے منتخب ہوئے۔

مسٹر مکھرجی لوک سبھا کےلئے پہلی بار مغربی بنگال کے جنگی پورا پارلیمانی حلقےسے 2004 میں منتخب کئے گئے تھےاور اسی علاقے سے دوبارہ 2009 میں بھی لوک سبھا کےلئے چنے گئے۔ وہ لمبے وقت تک ملک کے وزیر خزانہ، وزیر دفاع، یوجنا آیوگ کے نائب صدر وغیرہ عہدوں پر رہے۔ انہیں جولائی 2012 میں ملک کا 13واں صدر منتخب کیا گیا۔ مسٹر مکھرجی کی اہلیہ محترمہ شبھرا مکھرجی کا انتقال ہوچکا ہے اور ان کے خاندان میں بیٹا ابھیجیت مکھرجی اور بیٹی شرمشٹھا مکھرجی ہیں۔

ناناجی دیشمکھ کی پیدائش 11اکتوبر1916کو اور انتقال 27فروری 2010 میں ہوا تھا۔ان کا اصل نام چنڈیکا داس امرت راو دیشمکھ تھا۔وہ بھارتیہ جن سنگھ کے بانی لیڈر بھی رہے۔سال 1977میں جب جنتا پارٹی کی حکومت بنی،تو انہیں مورارجی دیسائی کابینہ میں شامل کیا جا رہا تھا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر کہ 60 سال زیادہ عمر کے لوگ حکومت سے باہر رہ کر سماجی خدمت کا کام کریں، وزیر کا عہدہ ٹھکرا دیا تھا۔ وہ زندگی بھر دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تحت چلنے والے مختلف کاموں کی توسیع کا کام کرتے رہے۔ اٹل بہاری واجپئی حکومت نے انہیں راجیہ سبھا کے رکن کےلئے نامزد کیا تھا۔ مسٹر واجپئی کے دور اقتدار میں ہی مرکزی حکومت نے انہیں تعلیم، صحت اور گاؤں کو خود کفیل بنانے کے شعبہ میں قابل قدر تعاون کےئے پدم وبھیوشن سے بھی نوازا تھا۔ انہوں نے چترکوٹ کی گرامودے یونیورسٹی قائم کی اور خودمختاری پر مبنی گرام سوراج کا مثالی ماڈل پیش کیاتھا۔

بھوپین ہزاریکا شمال مشرق سےتعلق رکھتے تھے اور کئی صلاحیتوں کے مالک تھے، وہ نغمہ نگار، موسیقار اور گلوکار بھی تھے۔ اس کے علاوہ وہ اسمیا زبان کے شاعر، فلم ساز، مصنف اور آسام کی ثقافت اور نغموں کی اچھی معلومات رکھتے تھے۔ وہ ایسے زبردست فن کار تھے جو اپنے نغمے خود لکھتے تھے اور ان کی موسیقی بھی خود بناتےتھے۔انہیں جنوبی ایشیا کا بہترین ثقافتی سفیر مانا گیا۔انہوں نے شاعری،صحافت،گلوکاری، فلم سازی وغیرہ متعدد شعبوں میں کام کیا ہے۔ انہوں نے اپنی مادری زبان اسمیا کے علاوہ ہندی، بنگلہ سمیت کئی دیگر ہندوستانی زبانوں میں نغمے لکھے۔

ان کی پیدائش آسام کے تنسکیا ضلع کے سدیا میں ہوئی تھی۔ بھوپین ہزاریکا نے 1946میں بنارس ہندو یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد پڑھائی کےلئے بیرون ملک چلے گئے۔ نیویورک میں واقع کولمبیا یونیورسٹی سے انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہیں 1992 میں سنیما کے سب سے بڑے ایوارڈ داد صاحب پھالکے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں 2009 میں اسوم رتن اور اسی سال سنگیت ناٹک اکاڈمی ایوارڈ اور 2011 میں پدم بھوشن جیسے کئی اعزازوں سے نوازا گیا۔ ان کا انتقال پانچ نومبر 2011 کو ہوا تھا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close