اپنا دیشتازہ ترین خبریں

پاکستان کا نعرہ لگانے والے لوگ سرپھرے ہیں: فاروق عبداللہ

نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ کشمیر میں کچھ سرپھرے جموں وکشمیر کو پاکستان سے ملانے کی باتیں کررہے ہیں۔

فاروق عبداللہ جمعرات کو یہاں شیر کشمیر بھون میں پارٹی کے ایک کنونشن سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا ‘ہمارے یہاں ( کشمیر میں) بھی آوازیں ہیں۔ کوئی کہتا ہے آزادی۔ کوئی کہتا ہے کہ ہمیں پاکستان جانا ہے۔ کونسا پاکستان جاﺅ گے۔ جموں وکشمیر کبھی پاکستان کا نہیں ہوگا۔ یہ میں آج نہیں بلکہ بہت پہلے سے کہتا آیا ہوں۔ بلکہ میں نے جامع مسجد کے اسٹیج پر کہا ہے کہ ہم پاکستان میں نہیں جاسکتے۔ یہ سرپھرے ہیں، ان کو عقل آجائے گی مگر خدا جانے کہ انہیں کتنے ٹھوکر کھانے کے بعد یہ عقل آئے گی’۔

فاروق عبداللہ نے پاکستان پر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ‘ہمارا پڑوسی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔ روز ہمارے سرحدوں پر لڑائیاں ہوتی ہیں۔ مگر وہ حل نہیں ہے۔ حل صرف بات چیت سے ممکن ہے۔ بات چیت ہوگی جب وہ (پاکستان) دہشت گردی کو روکیں گے’۔ انہوں نے کہا ‘امن کے لئے بات چیت ضروری ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں مجھے تب تک واجپائی جی کے الفاظ یاد رہیں گے۔ واجپائی جی نے ایک بار ٹنگڈار میں تقریر کی اور پار والے (پاکستان زیر قبضہ کشمیر میں لوگ) سن رہے تھے۔ کہا دوست بدلے جاسکتے ہیں پڑوسی نہیں۔ اگر انہیں (پاکستان کو) سچ مچ اپنا ملک بچانا ہے تو انہیں اس ملک سے دوستی کرنی ہے جسے ہندوستان یا بھارت کہتے ہیں۔ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ نہ ہم یہ حصہ ان کو دے سکتے ہیں، نہ ان کے پاس دم ہے یہ حصہ حاصل کرنے کا۔ اس میں جھگڑا کیا ہے۔ ٹیبل پر بیٹھ جاﺅ۔ پاکستان کو بھی چاہے کہ وہ اپنے ملک میں دہشت گردی بند کرے’۔

فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرکز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے مہاجر کشمیری پنڈتوں کے ساتھ دھوکہ کیا۔ ان کا کہنا تھا ‘کوئی کہتا ہے کہ ہم جموں کو الگ ریاست بنائیں گے۔ ذرا بنائیں میں بھی دیکھا ہوں۔ آج تو دلی میں ان کی ہی حکومت ہے۔ پنڈتوں کو جھانسہ دیا گیا کہ ہم تمہیں گھر لے جائیں گے، مودی جی آپ آرہے ہو 3 فروری کو، مجھے بتاﺅ کہ کب پنڈتوں کو اپنے گھروں میں بسائیں گے۔ آپ نے تو ان کے ووٹ لے لئے’۔

نیشنل کانفرنس صدر نے جموں کے بھائی چارے کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ بھگوان رام پوری دنیا کے رام ہیں۔ ان کاکہنا تھا ‘آپ اپنا بھائی چارہ قائم رکھئے گا۔ جب کشمیر میں طوفان اٹھا (مسلح شورش شروع ہوئی) تو اس حصے میں رہنے والے لوگوں نے اپنے دروازے کھولے اور کشمیر سے آنے والے لوگوں کو جگہ دی۔ یہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ یہ لوگ رام مندر کی بات کرتے ہیں۔ میں کہتا کہ کیا رام صرف تمہارے رام ہیں۔ تم اپنی کتابیں دیکھ لو، اس میں لکھا ہے کہ رام پوری دنیا کے رام ہیں۔ وہ صرف ہندوﺅں کے رام نہیں ہیں۔ جس طرح ہم اللہ کو کہتے ہیں رب العالمین ، وہ صرف مسلمانوں کے رب نہیں ہیں، وہ سب کے رب ہیں’۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close