تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

’پاکستان میں ہندوؤں کو کوئی مذہبی تکلیف نہیں‘

مفتی مکرم نے CAA پر نظرثانی سمیت چاندنی چوک کی بند سڑک کھلوانے کا حکومت سے کیا مطالبہ

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
دہلی کی شاہی فتح پوری مسجد کے امام مولانا ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نے آج کہاکہ حکومت کو شہریت ترمیمی قانون پر نظرثانی کرنی چاہئے۔ کیونکہ سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف ہندوستان بھر میں بڑی تعداد میں خواتین احتجاجی مظاہروں میں شرکت کر رہی ہیں بلکہ یہ کہا جائے کہ ان دھرنوں کی قیادت خواتین کر رہی ہیں۔ ہندوستان سمیت ملک کے باہر بھی اس قانون کے خلاف آواز اٹھتی نظر آرہی ہے۔ ہر فرقہ اور ہر مذہب کے لوگ ان میں بڑی تعداد میں برادرانہ انداز میں شامل ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر مفتی مکرم آج شاہی فتح پوری مسجد میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کر رہے تھے۔

ڈاکٹر مفتی مکرم نے کہاکہ گزشتہ دنوں 144فراد پر مشتمل ایک وفد پاکستان سے ہری دوار میں آیا تھا اور یہ سب پاکستانی شہری ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک صحافی نے جب ان سے پوچھا کہ کیا آپ لوگوں کو پاکستان میں کوئی پریشانی ہے؟ تو انہوں نے کہا نہیں۔ ہم وہاں آرام سے مل جل کر رہتے ہیں۔ بلکہ اس کے بر عکس انہوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ ویزا کو آسان بنایا جائے، ایجنٹوں کے ذریعہ ویزا جاری کرانے کے سلسلے کو بند کیا جائے اور ویزا آن آرائیول دیا جائے۔ وہاں کسی بھی پریشانی یا مذہب کے نام پر پریشان کئے جانے سے انکار کیا اور سی اے اے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک سیاسی کھیل ہے ہمیں وہاں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہاں بھی قومی یک جہتی موجود ہے۔ مفتی مکرم نے کہاکہ ہندوستانی حکومت اس بات پر توجہ دے اور شاہین باغ سمیت ملک بھر کی خاتون مظاہرین کی آواز کو سنے۔

مفتی مکرم نے دہلی کے تاریخی چاندنی چوک میں برسوں سے چل رہے تزین کاری کے کام سے بند سڑک کو جلد شروع کرانے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ مفتی مکرم نے کہاکہ چاندنی چوک روڈ کے کام کو جلد پورا کیا جائے۔ چاندنی چوک دسمبر 2018 سے بند ہے ایک کلو میٹر کے راستہ کے بند ہونے سے ہزاروں لاکھوں لوگ پریشان ہیں۔ بوڑھے، بچے، عورتیں اسکول کے طلبہ، بیمار سب ہی بہت پریشان ہیں۔ یہاں ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی نہیں آ سکتیں، کام بہت سستی کے ساتھ ہو رہا ہے اسے ایک دو مہینے میں پورا کرایا جائے۔

انہوں نے امریکہ کے صدر ٹرمپ کے دورہ ہند کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپیل کی کہ صدر موصوف کو حقوق انسانی کی پاسداری کرنی چاہئے وہ عالمی لیڈر ہیں بلا تفریق انہیں سب کے ساتھ محبت اور انصاف کا معاملہ کرنا چاہئے۔ اسرائیل میں عام شہریوں، عورتوں اور بچوں پر جو مظالم ہو رہے ہیں ان کی مذمت ہونی چاہئے۔

مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمدخطاب میں کہا کہ تواضع اور انکساری اللہ تعالی کو پسند ہے غرور و تکبر سے شریعت میں منع کیا گیا ہے حضورؐ کی سیرت پاک کا مطالعہ بہت مفید ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close