تازہ ترین خبریںدلی نامہ

پانچ ہتھیاروں کی مدد سے جیتیں گے کورونا کے خلاف لڑائی: اروند کجریوال

مناسب بیڈ، ٹیسٹ و آئسولیشن، آکسی میٹرو آکسیجن کنسٹریٹر، پلازما تھیروپی، سروے اور اسکریننگ ہوں گے 5 ہتھیار ٭وزیر اعلی نے مانا کہ بیرون ممالک سے آئے 35 ہزار افراد کی وجہ سے دہلی میں پھیلا ہے کورونا

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
راجدھانی دہلی میں معاشرے میں تیزی پھیل رہے کورونا وائرس کیخلاف جنگ میں مرکزی اور ریاستی حکومت کے ساتھ آنے کے باوجود بھی دہلی میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہو رہا ہے۔ خود دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے آج پریس کانفرنس میں یہ اعتراف کیا کہ بیرون ممالک سے ہندوستان آنے والے 35 ہزار افراد کی وجہ سے دہلی میں کورونا پھیلا ہے۔

کورونا کے خلاف لڑی جا رہی جنگ کی حکمت عملی کا تزکرہ کرتے ہوئے آج وزیر اعلی اروند کجریوال نے کہاکہ ہم پانچ بڑے ہتھیاروں کی مدد سے کورونا کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ کورونا مریضوں کیلئے بیڈ کی مناسب تعداد، ٹیسٹ و آئسولیشن، آکسی میٹر اور آکسیجن کنسٹریٹر، پلازما تھیروپی، سروے اور اسکریننگ ہمارے پانچ ہتھیار ہیں، جن سے ہم دہلی میں کورونا کو یقینی شکست دیں گے۔

وزیر اعلی نے کرونا کے خلاف جاری لڑائی میں اٹھائے گئے اقدامات کے سلسلے میں کہاکہ ایمرجنسی میں ہوم آئسولیشن مریضوں کو آکسیجن مہیا کرنے کیلئے 4 ہزار آکسیجن کنسٹریٹر خریدے ہیں۔ آج سے دہلی میں بڑے پیمانے پر سیرولوجیکل سروے شروع کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ پتہ چل سکے گا کہ دہلی میں کورونا کس حد تک پھیلا ہے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ہمارا قدم قدم پر ساتھ دیا۔ ہمیں اینٹیجن کٹ کے ساتھ ٹیسٹ کرنے کی اجازت دی۔

کجریوال نے کہا کہ دہلی کورونا کے خلاف بہت سخت لڑائی لڑ رہی ہے۔ کورونا کے خلاف ہماری لڑائی مارچ ماہ میں شروع ہوئی تھی، جب پوری دنیا میں کورونا پھیل گیا تھا۔ مارچ میں تقریبا 35 ہزار افراد ان ممالک سے دہلی آئے تھے، جہاں کورونا زیادہ پھیلا ہوا تھا۔ ان کو ایئر پورٹ پر چیک کیا گیا، جن کو بخار تھا، انہیں اسپتال میں داخل کرایا اور باقی سب کو گھر بھیج دیا۔ نیز کچھ لوگوں کو کورنٹین کیا گیا تھا۔ اس وقت کورونا وائرس کے بارے میں معلومات بہت کم تھیں، جو لوگ اپنے گھر گئے ان سے کورونا ایک سے دوسرے تک پھیل گیا۔ ان دنوں ٹیسٹنگ کٹس نہ ہونے سے کوئی ٹیسٹ نہیں ہوا۔ اس کے بعد لاک ڈاؤن کیا گیا تو کرونا تھوڑا کم پھیلا۔ لیکن ان لاک ہونے پر کرونا کے معاملات توقع سے کہیں زیادہ بڑھ گئے اور جون کے پہلے ہفتے تک ہمیں دہلی میں بیڈ اور ٹیسٹ کی کمی ہونے لگی اور جب کچھ لوگوں کو بیڈ نہیں ملے تو اموات کے اعداد و شمار میں بھی اضافہ ہونے لگا۔

وزیر اعلی نے کہا کہ تب ہمارے پاس دو آپشن تھے، دہلی میں لاک ڈاؤن اور دوسرا کورونا سے لڑنے کا تھا۔ عوام سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ کورنا سے مل کر لڑیں گے اور پھر پورا منصوبہ بنایا گیا۔ کرونا کے ساتھ جنگ لڑنے کیلئے پانچ ہتھیار تیار کئے گئے ہیں جن سے ہم جنگ جیتیں گے۔ وزیر اعلی نے کہاکہ آج دہلی میں ساڑھے 13 ہزار کورونا بیڈ ہیں، نجی اور سرکاری اسپتالوں میں کہیں بھی بیڈ کی کمی نہیں ہے، لیکن پھر بھی ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے اور مزید بستروں اور ہر بیڈ پر آکسیجن کا انتظام کر رہے ہیں۔ ہمارے سامنے ٹیسٹ اور آئسولیشن کا چیلنج تھا۔ پہلے روزانہ 5 ہزار نمونوں کی جانچ کی جا رہی تھی۔ اب 20 نمونوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ گلی گلی میں چیک کر رہے ہیں کہ کون کورونا کا مریض ہے اور اسے آ ئسولیٹ کر دیتے ہیں۔

وزیر اعلی کجریوال نے کہا کورونا کو شکست دینے کا ایک اہم ہتھیار پلازما تھیروپی ہے۔ دہلی نے پورے ملک کو پلازما ایک راستہ دکھایا ہے۔ ڈرگ اینڈ کنٹرولر آف انڈیا نے مرکز اور دہلی حکومت کے اسپتالوں کے علاوہ نجی اسپتالوں میں پلازما تھیروپی کی منظوری دینا شروع کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آج سے دہلی میں سیرولوجیکل سروے شروع کیا جا رہا ہے۔ اس کے دوران 20 ہزار افراد کا سیرولوجیکل سروے کیا جائے گا۔ دہلی حکومت کی ٹیمیں گھر گھر سروے کر رہی ہیں۔ اس سروے سے معلوم ہوگا کہ دہلی میں کس سطح پر کورونا پھیلتا ہے۔ اس طرح کے مزید سروے اور اسکریننگ دہلی میں جاری رہیں گی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close