تازہ ترین خبریںدلی نامہ

پارلیمانی انتخابات 2019: دہلی میں 164 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ ای وی ایم میں بند

مسلم اکثریتی والے علاقوں میں ڈالے گئے جم کر ووٹ، مسلم خواتین بھی نہیں پیچھے، کیا حق رائے دہی کا استعمال

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
پارلیمانی انتخابات 2019 کے چھٹے مرحلے میں آج راجدھانی دہلی میں 7 لوک سبھا سیٹوں کےلئے پر امن ماحول میں ووٹ ڈالے گئے۔ کانگریس، بی جے پی، عام آدمی پارٹی، بی ایس بی اور مختلف پارٹیوں سمیت دہلی کی سات لوک سبھا سیٹوں پر 164 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ آج دہلی کے رائے دہندگان نے ای وی ایم میں بند کر دیا۔ جس کا فیصلہ 23 مئی کو ہوگا۔

صبح سات بجے سے 13819 پولنگ سینٹروں پر شروع ہوئی ووٹنگ میں شام 7 بجے تک تقریباً 56.11 فیصد ہی ووٹنگ ہو سکی۔ دہلی کی ساتوں لوک سبھا سیٹوں پر شمال مشرقی دہلی میں سب سے زیادہ تقرباً 58.8 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ جبکہ سب سے کم نئی دہلی میں محض 51.9 فیصد ہی ووٹنگ ہو سکی۔ حالانکہ دہلی میں کل ساتوں لوک سبھا حلقوں میں کل 14316453 ووٹر ہیں، جس میں شمال مشرقی دہلی میں 2289493 ووٹر ہیں ان میں خواتین کی تعداد 1037218 ہے۔ وہیں مشرقی دہلی بھی کم نہیں رہی اور وہاں 57.04 فیصد ووٹنگ ہوئی۔ یہاں کل ووٹر 2038270 ہے، جن میں خواتین کی تعداد 909306 ہے۔ وہیں چاندنی چوک حلقہ میں 56.06 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ یہاں کل ووٹر 1561828 ہے ان میں 713393خواتین ہیں۔ شمال مشرقی دہلی، مشرقی دہلی اور چاندنی چوک پارلیمانی حلقہ، یہ تینوں ہی پارلیمانی حلقہ مسلم اکثریتی علاقوں سے آباد ہیں۔ جہاں مسلم معاشرے کے مرد وخواتین نے ووٹ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اولین ترجیح کے ساتھ ووٹ ڈالا اور اس بات کو غلط ثابت کر دیا کہ رمضان میں مسلمان کم ووٹ ڈالیں گے۔ دہلی کے دیگر علاقوں میں شمال مغربی دہلی میں 53.05 فیصد ووٹنگ ہوئی، مغربی دہلی میں 55.08 فٰصد ووٹنگ ہوئی اور جنوبی دہلی میں 52.05 فیصد ووٹنگ ہوئی۔

دہلی میں پارلیمانی انتخابات میں خاص یہ رہا ہے مسلم معاشرے کے مرد و خواتین نے اپنی بیداری کا ثبوت دیا اور رمضان کے مہینے میں روزہ اور تیز دھوپ کی گرمی کی پرواہ کئے بغیر دہلی میں مسلم طبقے کے لوگوں نے بڑی تعدادا میں ووٹ ڈالے، ان میں مسلم خواتین نے گھروں سے نکل کر بڑی تعداد میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ دہلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں پرانی دہلی کے جامع مسجد، بلیماران، ترکمان گیٹ، باڑہ ہندو راﺅ، قریش نگر، نبی کریم سمیت جعفرآباد، چوہان بانگر، سیلم پور، موج پور، ویکم، پرانا سیلم پوری، خوریجی، مصطفی آباد، سندر نگری، وزیر آباد، چاند باغ، بھجن پورا، کھجوری، یمنا وہار، کردم پوری کبیر نگر وغیرہ میں مسلمانوں نے کثرت کے ساتھ اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

مسلمانوں میں ووٹ ڈالنے کا اتنا جوش نظر آیا کہ اکثر لوگ فجر کے بعد سے ہی سات بجے شروع ہونے والی ووٹنگ کا انتظار کر رہے تھے۔ صبح سات بجے سے ہی مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلم معاشرے کے لوگ اور پردہ نشین خواتین پولنگ سینٹروں پر نظر آنے لگے۔ حالانکہ شروع میں کچھ رفتار دھیمی تھی لیکن 9-10 بجتے بجتے پولنگ سینٹروں پر یہ بھیڑ بڑھتی چلی گئی۔ بڑی تعداد میں خواتین، بزرگ، نوجوان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے پہنچے۔ مسلم علاقوں میں واقع پولنگ سینٹروں کی بات کریں تو بڑی تعداد میں برقعہ والی پردہ نشین خواتین کی لمبی لمبی قطاریں پولنگ بوتھوں پر لگی تھیں۔ جہاں ایک جانب یہ پیغام دیا جا رہا تھا کہ رمضان کے مہینے میں مسلم اکثریتی علاقوں میں ووٹنگ فیصد کم رہے گا وہیں مسلم معاشرے نے اپنی بیداری کا ثبوت پیش کرتے ہوئے دھوپ، گرمی اور روزے کی پرواہ کئے بغیر دہلی کی سات لو ک سبھا سیٹوں میں مسلم اکثریتی والے پارلیمانی حلقے شمال مشرقی دہلی، مشرقی دہلی اور چاندنی چوک پارلیمانی حلقوں میں باقی دیگر چار سیٹوں سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے۔

بتاتے چلیں کہ دہلی میں ساتوں پارلیمانی حلقوں میں سہ رخی مقابلہ نظر آیا ہے۔ یہاں کانگریس، بی جے پی اور عام آدمی پارٹی پارٹی کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ رہا۔ چھٹے مرحلے کا شور ووٹنگ کے ساتھ ختم ہوگیا ہے جس کا فیصلہ 23مئی کو منظر عام پر آئے گا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close