تازہ ترین خبریںدلی نامہ

ٹکٹوں کی تقسیم پر کانگریس میں بغاوت

مسلم امیدوار کےلئے شعیب اقبال کے حامیوں کا کانگریس دفتر پر مظاہرہ

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
پارلیمانی انتخابات کےلئے ٹکٹوں کی تقسیم پر کانگریس میں بغاوت دکھائی دینے لگی ہے۔ گزشتہ روز کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر ناراض کانگریسیوں کے احتجاجی مظاہرہ کے بعد آ ج مٹیا محل اسمبلی سے رکن رہے شعیب اقبال کے حامیوں نے چاندنی چوک پارلیمانی حلقہ سے شعیب اقبال کو ٹکٹ نہ دیئے جانے سے ناراض ہوکر کانگریس کے صدر دفتر 24 اکبر روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

بتا دیں کہ راجکمار چوہان اور مہابل مشرا کا ٹکٹ کاٹے جانے کی بات سامنے آنے پر ان کے حامیوں نے کانگریس کے صدر راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ جس کے بعد آج کانگریس نے مہابل مشرا کے ٹکٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ وہیں یہ بھی بتاتے چلیں کہ دہلی کے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس میں شامل ہوئے شعیب اقبال حال ہی میں چاندنی چوک یا شمال مشرقی دہلی سے ایک مسلم امیدوار بنائے جانے کا مطالبہ کانگریس سے کر چکے ہیں۔ جس میں شعیب اقبال نے اپنے لیٹر ہیڈ پر ایک عرض داشت اپنے دستخط، سابق رکن اسمبلی حسن احمد اور چودھری متین احمد کے دستخط کے ساتھ کانگریس اعلی قیادت کو بھیجا تھا۔ اس کے ساتھ ہی شعیب اقبال چاندنی چوک سیٹ سے شیلا دکشت کو چاندنی چوک سے الیکشن لڑنے کی دعوت دے چکے ہیں۔ لیکن شیلا دکشت کو کانگریس نے جے پی اگروال کی جگہ شمال مشرقی دہلی سے امیدوار بنایا ہے اور جے پی اگروال کو چاندنی چوک سے امیدوار بنایا ہے۔

شعیب اقبال سمیت کسی بھی مسلم کو امیدوار نہ بنائے جانے سے ناراض سابق رکن اسمبلی شعیب اقبال کے حامیوں نے نئی دہلی کے اکبر روڈ پر واقع کانگریس کے صدر دفتر پر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں شعیب اقبال کی حمایت میں چاندنی چوک لوک سبھا سیٹ سے امید وار بنانے کا مطالبہ لکھی ہوئی تختیاں اٹھائے ہوئے جم کر نعرے بازی کی۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ کانگریس کو مان دیں گے، شعیب اقبال پر جان دیں گے۔ یہ نعرے اس بات کو واضح کر رہے تھے کہ شعیب اقبال کی لڑائی کانگریس سے نہیں بلکہ کانگریس کی جانب سے چاندنی چوک سے بنائے گئے امیدوار جے پی اگروال سے ہے۔ کیوں کہ شیلا دکشت کو چاندنی چوک سے ٹکٹ نہ دیئے جانے اور جے پی اگروال کو ٹکٹ دیئے جانے کی صورت میں شعیب اقبال خود چاندنی چوک سے پارلیمانی انتخاب لڑنے کی خواہش بھی اپنے ایک انٹرویو میں ظاہر کر چکے ہیں۔

یہ بات بھی سب پر پوری طرح ظاہر ہے کہ جے پرکاش اگروال اور شعیب اقبال ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہیں اور وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ چاندنی چوک لوک سبھا سیٹ سے جے پرکاش اگروال امیدوار ہوں۔ جیسا کہ ماضی کے تجربہ بھی رہا ہے کہ 1999میں جے پی اگروال کے مقابلے میں شعیب اقبال (جب وہ کا نگریس میں نہیں تھے) الیکشن لڑ چکے ہیں، اس وقت جے پی اگروال کی مخالفت میں خود کانگریسیوں نے گو شۂ عافیت بنا لیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں جے پرکاش اگروال کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور بی جے پی سے وجے گوئل یہ الیکشن جیت گئے تھے۔ اب بھی یہی قیاس لگایا جا رہا ہے ایک بار پھر شعیب اقبال جے پرکاش اگروال کے خلاف آزاد امیدوار کے طور پر نامزدگی کے آخری دن چاندنی چوک سے نامزدگی داخل کر سکتے ہیں۔
کانگریس دفتر پر منعقدہ احتجاجی مظاہرہ میں کانگریس کے جامع مسجد بلاک کے صدر زاہد بوس، دہلی گیٹ بلاک کے صدر شاہنواز حسین، اعظم سباغ، محترم خان، ننی قریشی، وسیع الدین وغیرہ سمیت دیگر افراد شامل تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close