اپنا دیشتازہ ترین خبریں

ویڈیو: مبینہ گئو رکشکوں کے ہاتھوں خاتون سمیت 3 مسلم نوجوانوں کی پٹائی، بھیڑ بنی تماشائی

مدھیہ پردیش کے ضلع سیونی میں ایک موب لنچنگ کا دردناک واقعہ پیش آیا ہے. جہاں ہندوتوا غنڈوں نے ایک خاتون سمیت تین مسلم نوجوانوں کو گائے کا گوشت لے جانے کے شبہ میں بے رحمی سے پٹائی کی اور ان سے ’جے شری رام‘ کے نعرے بھی لگوائے۔ جس کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے گئو رکشک ایک خاتون سمیت تین مسلمان نوجوانوں کو ایک درخت کے ساتھ ایک ایک کرکے باندھ کر لاٹھیوں سے ان کی پٹائی کرتے ہیں۔

بتا دیں کہ ایسا بتایا جا رہا ہے کہ ویڈیو 22 مئی کا ہے جب پورے ملک میں عام انتخاب کے نتیجوں کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس وقت شبھم بگھیل نے نتیجوں والے دن یعنی 23 مئی کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا تھا. اس میں حیرانی کی بات یہ ہے کہ 23 مئی کو شبھم نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا تھا اور اب جب کہ یہ وائرل ہو چکا ہے تو پولس کی نیند کھلی ہے۔ حالانکہ پولیس کے مطابق اس سلسلے میں ایک کیس درج کرکے سبھی پانچ ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حد تو تب ہو گئی جب لاٹھی اور ڈنڈوں سے ان مسلمانوں کی پٹائی ہو رہی تھی اور آس پاس کئی لوگ بھی جمع تھے۔ لیکن وہاں موجود سبھی لوگ تماشائی بنے اس پٹائی کو دیکھ رہے تھے اور یہاں تک کہ کسی نے پولس کو خبر کرنے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی۔ وائرل ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ نوجوانوں کو مبینہ گئو رکشک ‘جے شری رام’ کے نعرے بار بار لگانے کو کہتے ہیں اور ایک نوجوان کو ان کے ساتھ خاتون کی پٹائی کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اس ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ مدھیہ پردیش کے سیونی علاقے میں مبینہ گئو رکشکوں کے ہاتھوں ایک خاتون سمیت تین مسلمان نوجوانوں کی پٹائی سے میں خوف زدہ ہوں۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ‘مدھیہ پردیش میں گئو رکشکوں کے ہاتھوں بے قصور مسلمانوں کی پٹائی کو دیکھ کر میں خوف زدہ ہوں، امید ہے کہ وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کا دفتر ان غنڈوں کے خلاف فوری کارروائی کرے گا’۔

دوسری طرف اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’مودی کے ووٹروں کے ذریعہ پیدا کیے گئے وجیلنٹس اس طرح کا رویہ مسلمانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ نئے ہندوستان میں آپ کا استقبال ہے جو مشترک ہوگا اور جیسا کہ پی ایم نے اسے جمہوریت کا نقاب بتایا۔‘‘

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close