تازہ ترین خبریںکھیل کھلاڑی

ولیمسن ’پلیئر آف دی ٹورنامنٹ‘ اور ’اسٹوکس مین آف دی میچ‘

نیوزی لینڈ پہلی بار آئی سی سی ورلڈ کپ کا خطاب نہیں جیت پایا لیکن اس کے کپتان کین ولیمسن نے ورلڈکپ کے پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا خطاب جیت لیا۔

سانسیں روک دینے والے فائنل میں اتوار کو انگلینڈ کے ہاتھوں نیوزی لینڈ کی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ٹورنامنٹ میں 578 رن بنانے والے اس کے کپتان ولیمسن کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ قرار دیا گیا۔ ولیمسن کو یہ ایوارڈ کرکٹ آئیکن سچن تندولکر نے فراہم کیا۔ کیوی کپتان سے پہلے سات دیگر کھلاڑیوں کو یہ ایوارڈ مل چکا ہے۔ سال 1992 کے عالمی کپ میں نیوزی لینڈ کے مارٹن کرو، 1996 میں سری لنکا کے سنت جے سوریہ، 1999 میں جنوبی افریقہ کے لانس كلسنر، 2003 میں ہندستان کے سچن تندولکر، 2007 میں آسٹریلیا کے گلین میک گرا، 2011 میں ہندوستان کے یوراج سنگھ اور 2015 میں آسٹریلیا کے مشیل اسٹارک کو پلیئر آف دی ٹورنامنٹ منتخب کیا گیا تھا۔

نیوزی لینڈ کے کپتان ولیم کے علاوہ ہندوستان کے اوپنر روہت شرما اور آسٹریلیا کے اوپنر بلے باز ڈیوڈ وارنر بھی اس ایوارڈ کی دوڑ میں شامل تھے۔ لیکن ولیمسن کو ان کی ٹیم کے فائنل میں پہنچنے کا فائدہ ملا اور انہوں نے یہ خطاب حاصل کیا۔ اس سے پہلے ولیمسن نے فائنل میں اپنا پہلا رن بنانے کے ساتھ ساتھ نیا عالمی ریکارڈ بنا دیا۔ ولیمسن اس طرح ایک عالمی کپ میں سب سے زیادہ رن بنانے والے کپتان بن گئے ہیں۔ ولیمسن نے فائنل میں 30 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کے اس عالمی کپ میں 10 میچوں سے کل 578 رنز ہو گئے اور انہوں نے سابق سری لنکا کے کپتان مہیلا جے وردھنے کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ولیمسن کپتان کے طور پر فائنل سے پہلے ایک ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز کے معاملے میں جے وردھنے کی برابری پر تھے۔

دوسری طرف عالمی کپ فائنل میں سپر اوور بھی ٹائی ہو جانے کے بعد سب سے زیادہ باؤنڈری کی بنیاد پر انگلینڈ کو فاتح قرار دینے پر سابق کرکٹرز نے آئی سی سی کے اس ضابطے کو کافی سفاکانہ بتایا اور کئی کھلاڑیوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کو مشترکہ طور پر فاتح قرار دیا جانا چاہیے تھا۔

عالمی کپ کی تاریخ کے سب سے دلچسپ مقابلے میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو شکست دے کر پہلی بار فاتح بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ دونوں ٹیموں کے 50 اوور کے بعد 241 رن کا اسکور رہا تھا۔ اس کے بعد پہلی بار عالمی کپ میں سپر اوور کا سہارا لیا گیا جس میں دونوں ٹیموں نے 15-15 رن بنائے۔ آئی سی سی قوانین کے مطابق سپر اوور ٹائی رہنے پر وہی ٹیم فاتح بنتی ہے جس نے مقررہ 50 اوور کے دوران زیادہ باؤنڈری ماری ہوں۔ نیوزی لینڈ نے اپنی اننگز میں 16 باؤنڈری لگائی تھیں جبکہ انگلینڈ نے 24 باؤنڈری لگائی تھیں۔ انگلینڈ اس بنیاد پر فاتح بن گیا ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان اسٹیفن فلیمنگ نے اس پر صرف ایک لفظ میں اپنی رائے دی ۔۔ "سفاکانہ”

ہندستانی ٹیسٹ بلے باز چتیشور پجارا نے بھی کہا کہ نیوزی لینڈ کے لیے یہ ہار بدقسمتی رہی۔ انہوں نے کہاکہ مجھے لگتا ہے کہ اس مقابلے میں کوئی بھی ٹیم نہیں ہاری۔ دونوں کو فاتح ٹرافی دی جانی چاہیے تھی۔ آئی سی سی کو اپنے اس ضابطے کے بارے میں دوبارہ سوچنا چاہیے۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا اس لئے کوئی اس بارے میں سوچ نہیں پایا۔

فائنل میں مین آف دی میچ بنے بین اسٹوکس کے والد جیرارڈ اسٹوکس کا بھی خیال ہے کہ فاتح ٹرافی کو دونوں ٹیموں میں تقسیم کیا جانا چاہئے تھا۔ جیرارڈ نیوزی لینڈ کے سابق رگبی انٹرنیشنل کھلاڑی ہیں اور انہوں نے فائنل میں اپنے بیٹے کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا۔ بین اسٹوکس کی پیدائش کرائسٹ چرچ میں ہوئی تھی اور وہ 12 سال کی عمر تک نیوزی لینڈ میں رہے تھے جس کے بعد ان کا خاندان انگلینڈ چلا گیا تھا جہاں جیرارڈ کو رگبی کی کوچنگ کام ملا تھا۔

سابق ہندوستانی کرکٹر گوتم گمبھیر نے بھی اس ضابطے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اتنے بڑے ٹورنامنٹ کے فائنل کا فیصلہ اس بنیاد پر ہو سکتا ہے کہ کس نے زیادہ باؤنڈری لگائیں۔ مضحکہ خیز ضابطہ۔ ٹائی مان کر دونوں کو فاتح قرار دینا چاہیئے تھا۔ میں دونوں ٹیموں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوں نے اتنا زبردست فائنل کھیلا۔ میرے لئے دونوں فاتح ہیں کرکٹ آئیکن سچن تندولکر نے کہاکہ زبردست مقابلہ۔ پہلی سے لے کر 612 ویں گیند تک۔ مجھے نیوزی لینڈ کے لیے دکھ ہو رہا ہے جس نے جیتنے کے لئے انگلینڈ کی طرح سب کچھ کیا لیکن آخر میں چوک گئے۔

سابق ہندستانی کرکٹر وریندر سہواگ نے کہاکہ نیوزی لینڈ نے زبردست مقابلہ کیا لیکن اوور تھرو پر اسٹوکس کے بلے کا ڈفلیکشن اور انگلینڈ کو باؤنڈری ملنا میچ کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ نیوزی لینڈ کے لیے المناک جو قریب پہنچ کر بھی وہ خطاب سے دور رہے۔ لیکن انہیں خود پر فخر ہونا چاہیے۔ نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر اسکاٹ اسٹائرس نے اس ضابطے کو ایک مذاق بتایا۔ انگلینڈ کے سابق کرکٹر مائیکل وان نے فائنل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ٹیم ہارنا نہیں چاہتی تھی۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close