تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

وزیر اعظم میرے بیٹے ہیں، میں ان سے مل کر شہریت قانون پر بات کروں گی

پریس کلب آف اندیا میں منعقدہ پریس میٹ میں شاہین باغ کی معروف دادی بلقیس کا اظہار خیال

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
سی اے اے، این آر سی کی مخالفت میں دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کے پر امن مظاہرہ میں معروف ہوئی دادیوں میں بلقیس دادی کو امریکہ کی ٹائمس میگزین میں دنیا کی 100با اثر شخصیات میں شمار کئے جا نے پرمختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ تنظیموں اورسیاسی و سماجی شخصیات نے ان کومبارک باد پیش کی۔

اس موقع پر پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ پریس کا نفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے 84سالہ بلقیس دادی نے ’ٹائمس میگزین‘ کی 100با اثرشخصیات میں نام آنے پر تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ملک کے لوگوں کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ لڑائی اکیلے نہیں لڑی، بلکہ سب نے مل جل کر لڑی ہے ۔بلقیس دادی نے کہا کہ ہم نفرت میں نہیں محبت میں یقین رکھتے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ جو ہزوروں سال پرانی ہماری گنگا جمنی تہذیب ہے، اس کو باقی رکھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ مظاہرہ ایک مثال اور مسلم خواتین کی پہچان تھا، جو قریب 100دن پُر امن طریقے سے چلا اور سبھی طبقات کے لوگوں نے اس کو کا میاب بنا نے میں اہم کردار ادا کیا۔ایک سوال کے جواب میں بلقیس دادی نے کہاکہ وزیر اعظم میرے بیٹے ہیں اور میں ان سے ملوں گی نیز ان سے این آر سی و سی اے اے کو لیکر گفت وشنید بھی کروں گی۔

اس موقع پرپدم شری ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید نے کہاکہ مسلم مستورات کو بدنام کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے حقوق کیلئے کھڑی نہیں ہوتی، جبکہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلم عورتوں نے ہمیشہ سب سے پہلے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا محمد علی جوہر اور شوکت علی کی والدہ ماجدہ بی اماں پہلی مسلم مجاہدین آزادی تھیں، اسی طرح بیشار عورتوں نے ہندوستان کو ترقی یافتہ اور غلامی کی زنجیروں سے آزاد کرا نے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے بلقیس دادی کے جذبے کو سلام کرتے ہوئے کہاکہ رہتی دنیا کیلئے بلقیس باجی عظیم مثال ہیں، ان کی خدمات کوکسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر سیدین حمید نے کہاکہ شاہین باغ حقیقت میں شاہین تھا، جہاں خواتین نے جمہوریت کے تحت آواز اٹھائی اور ہندوستانی آئین وجمہوریت کے تحفظ کیلئے آواز اٹھائی، مگر ان کو مختلف طرح سے مسلم عورتوں کی شبیہ داغدار کرنے کی کوشش کی۔

انسانی حقوق کارکن عینی راجہ نے کہاکہ مسلم خواتین اپنے حقوق کیلئے جس طرح باہر نکلیں اس کو دیکھتے ہوئے حکومت کو ڈر لگنے لگا کہ آج جب یہ اپنی نسل کیلئے باہر نکلی ہیں تو آنے والے دنوں میں وہ اپنے حقوق کیلئے باہر نکلیں گی، اسی وجہ سے اس کو ختم کر نے کیلئے فاسی وادی طاقتوں نے دہلی میں ایک بڑا فساد برپا کیا۔ عینی راجہ نے کہاکہ ہم سبھی لوگ ان کے ساتھ ہیں، جو دھرنے میں شریک رہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بے گناہ لوگوں کو گرفتار کر کے ان کی آوازو ں کودبا نے کی کوشش کی جارہی ہے، جو قابل مذمت ہے۔اس موقع پر بھاشا سنگھ، ڈاکٹر پونم بترا، وانی سبرامنیم، ورٹیکا مانی، پروفیسر اپوروانند، ندیم خان ودیگر حقوق انسانی کے پاسبان سیاسی و سماجی کارکنان و لیڈران موجود تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close