آپ کی آوازتازہ ترین خبریں

’ورنہ تمام علم تو قرآن ہی میں تھا‘

کلیم الحفیظ...........................کنوینر انڈین مسلم انٹیلیکچولس فورم جامعہ نگر، نئی دہلی

قرآن مجید جس سے ہم سب واقف ہوتے ہوئے بھی ناواقف ہیں، گھر میں موجود ہوتے ہوئے بھی ہمیں اس کی موجودگی کا احساس نہیں، اس کی یاد یا تو ہمیں رمضان میں آتی ہے یا جب میت کی بخشش کے لئے تلاوت کی ضرورت پڑتی ہے۔ کبھی کبھی جِن اور بھوت بھگانے پر بھی بعض آیات کا وظیفہ کیا جاتا ہے۔ گویا اس وقت امت کے نزدیک قرآن کا استعمال دعا اور تعویذ سے زیادہ نہیں ہے۔

قرآن مجید کی تعلیم کے ساتھ بھی امت کا نہایت ظالمانہ رویہ ہے۔ یہ بات اگرچہ لائق شکر ہے کہ امت کی اکثریت اپنے بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم دینا چاہتی ہے مگر یہ بات نہایت افسوسناک ہے کہ قرآن کا ہر قاری سوائے ان افراد کے جنھوں نے عربی زبان کی تعلیم حاصل کی ہے اس کے معانی و مطالب سے نا آشنا ہے۔ لاکھوں مدارس، اربوں روپے کا خرچ، کروڑوں طلبہ زیر تعلیم اس کے باوجود بھی دور دور تک قرآن سمجھنے اور سمجھانے والا کوئی نہیں۔

قرآن کی اہمیت اور فضیلت پر گھنٹوں گھنٹوں وعظ اور تقریریں، لیکچر اور سمپوزیم مگر قرآن فہمی کا کوئی نظم نہیں، اللہ کی راہ میں وقت لگانے والے لاکھوں مخلص مسلمان مگر قرآن سے نابلد، غار حراء کی سیر کرنے والے ہر سال لاکھوں مسلمان مگر قرآن سے بے بہرہ، ہرکتاب کو معانی و مفہوم سے سمجھنے والی قوم اصل کتاب کے مطالب سے لاتعلق ہی نہیں بلکہ اس کی اکثریت معانی و مفہوم سے واقفیت کو گمراہی تصور کرتی ہے۔

قرآن مجید کے نزول کا مقصد یہ تھا کہ انسان دنیا کی زندگی کو اچھے، سہل اور خوبصورت طریقہ پر گزارے، اس میں جہاں انسانوں کے عقائد درست کرنے کی تعلیم تھی وہیں کائنات کے اسرار پر سے بھی پردہ اٹھایا گیا تھا۔ قرآن سے پہلے انسان کائنات کی ہر اس شئی کو دیوتا اور خدا مان رہا تھا جس سے اسے کسی قسم کا فائدہ ہو رہا تھا یا کسی قسم کے نقصان کا اندیشہ تھا، سورج، چاند، ستارے، دریا، پہاڑ، پیڑ اور پودھوں سے لیکر سانپ اور شیر جیسے موذی جانور تک کے آگے سر جھکایا جا رہا تھا۔

یہ انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی کو اپنا خدا، معبود اور دیوتا مان لیتا ہے تو اس کے بارے میں کھوج بین کو بھی گناہ تصور کرتا ہے۔ یہ قرآن کا معجزہ تھا کہ جس نے انسانوں کو بتایا کہ کائنات کی ہر شئی تمہاری دسترس میں ہے۔ اس نے انسانوں کو کائنات کی غلامی سے آزاد کرکے علم و تحقیق کے راستے پر لگا دیا۔ قرآن کی اسی تعلیم کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں نے علم و تحقیق کے میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ ایک ہزار سال تک ان کی ذہانت کا سکہ دنیا پر چلتا رہا، قرآن کی اسی روشنی سے فائدہ اٹھا کر مسلم سائنس دانوں نے انسانی زندگی کو آسان، محفوظ اور خوبصورت بنانے والی ادویات و آلات ایجاد کئے، اس علمی اور تحقیقی برتری نے ان کو ساری دنیا کا امام بنا دیا۔ قرآن کے نزول کے فوراً بعد سے ہی قرآن کی تلاوت کرنے والوں نے اگر ایک طرف عقائد و عبادات پرحدیث و فقہ کی کتابیں مرتب و مدون کیں تو دوسری طرف کیمیا، طبیعیات، ریاضی، فلسفہ، فلکیات اور طب پر ضخیم اور گراں قدر تحقیقی کتابیں تصنیف کیں۔

قرآن مجید کی آفاق و انفس اور کائنات میں غورو فکر اور تدبر و تفکر کی تعلیم کا ہی نتیجہ تھا کہ اسلامی تاریخ میں ہزاروں سائنس داں پیدا ہوئے، سینکڑوں ایجادات ہوئیں جس نے دنیا کے اندھیرے کو دور کر دیا۔ ان سائنس دانوں میں محمد الفرازی علم فلکیات (Astronomy) کے موجد بنے تو جابر بن حیان کیمسٹری کے باوا آدم کہلائے، الاصمعی نے حیوانات و نباتات پر تحقیقات کیں تو ابن الھیثم نے آنکھوں کے دریچے کھولے، الکندی نے ریاضی (Mathematics) کے سوالات حل کئے تو ابن سینا نے طب (Medical science) کی پرتیں کھولیں، ابن سینا وہ پہلا سائنٹسٹ ہے جس نے بتایا کہ روشنی کی رفتار بھی محدود ہے۔ ابوبکر زکریا رازی نے فلسفہ، کیمیا (chemistry) اور میڈیکل سائنس میں نام کمایا، ابوالقاسم زہراوی نے آپریشن کے دوسو سے زیادہ آلات بنائے جن کا آج بھی استعمال ہوتا ہے۔ الفارابی ارسطو کے بعد دوسرا بڑا فلسفی ہوا، عباس ابن فرناس نے رائٹ برادرس سے ایک ہزار سال پہلے گلائڈر بناکر اڑ کر دکھایا۔ الفرغانی کو اجرام فلکی (Astronomical object) اور المسعودی کو زمینیات(science Earth) میں مہارت حاصل ہوئی، محمد بن جابر البتانی نے بتایا کہ سال میں 365دن، پانچ گھنٹہ اور 24 سیکنڈ ہوتے ہیں، عمر خیام نے شمسی کلینڈر بنایا۔ میڈیکل ڈاکٹرس اور اطباء کے رجسٹریشن، امتحان اور پریکٹس کا اجازت نامہ کا رواج سب سے پہلے 943ء میں سنان بن ثابت نے شروع کیا۔ قطب نما، پیراشوٹ، آئینہ، گلائڈر، گھڑی، پن چکی، صابن، Pinhole camra اور فاﺅنٹین پین مسلمانوں کی تحقیقات کے ثمرات ہیں۔

بدقسمتی سے مسلمان سترہویں صدی کے بعد دین اور مذہب کے اسی جامد تصور میں کھو گئے جس سے قرآن اور محمد ﷺ نے انھیں نکالا تھا، علم کو دین اور دنیا میں تقسیم کردیا گیا، تحقیق کے دروازے مقفل کردیئے گئے، بزرگوں کے احترام میں اندھی عقیدت اور جامد تقلید نے امامت کے منصب سے گرا دیا۔ وہی قرآن جس کی آیات پر غور و فکر کرنے والے ساری دنیا پر چھا گئے تھے، اسی قرآن کو طاقوں کی زینت بنانے والے ساری دنیا کے غلام بن گئے۔ اسلامی تاریخ کے مطالعے اور جائزے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب جب مسلمانوں نے قرآن کی روشنی میں کائنات میں تحقیق و جستجو کا عمل جاری رکھا اور دنیائے انسانیت کی بھلائی کے لئے جان جوکھوں میں ڈال کر ایجادات و اختراعات کیں وہ دنیا میں عزت و اقتدار کے حقدار بنے رہے اور جیسے ہی انھوں نے یہ عمل چھوڑ دیا، تو وہ بھی حکومت و اقتدار سے بے دخل کردیئے گئے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسلمان ذلت و رسوائی کی پستی سے نکل کر آسمان کی بلندیوں پر پہنچنا چاہتے ہیں تو انھیں اپنے موجودہ نصاب تعلیم میں قرآن کو شامل کرنا ہوگا۔ قرآن کی تعلیم سے میری مراد یہ ہے کہ قرآن کا طالب علم اس کے معانی و مفہوم اور اسرار و رموز سے واقف ہوسکے تاکہ قرآن کی روشنی میں پھر سے تحقیق کائنات کا عمل جاری کیا جا سکے۔ یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ جو لوگ عالم انسانیت کے لئے نفع رساں ہوتے ہیں دنیا ان کو سر آنکھوں پر بٹھاتی ہے۔ ساتویں صدی کے ماہر فلکیات محمد الفرازی سے بیسویں صدی کے اے پی جے عبدالکلام تک کی تاریخ یہی بتاتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

فرصت کہاں تھی اتنی کہ ہم کھولتے کتاب
ورنہ تمام علم تو قرآن ہی میں تھا

(Writer: Kaleem Ul Hafeez………………………..E-mail: [email protected])

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close