تازہ ترین خبریںکھیل کھلاڑی

ورلڈ چمپئن بننے پر بولے مورگن، آئرش لک اور اللہ ہمارے ساتھ تھا

انگلینڈ کو 44 سال کے بعد عالمی فاتح بنانے والے کپتان ایون مورگن نے نیوزی لینڈ کے خلاف کانٹے کی ٹکر کے بعد ملی جیت کے بعد تسلیم کیا ہے کہ فائنل میں یقینا اللہ اور قسمت نے ان کا ساتھ دیا۔

انگلینڈ کو سپر اوور میں جاکر جیت حاصل ہوئی۔ میچ میں کئی لمحے ایسے رہے جہاں صاف لگا کہ قسمت ہی میزبان ٹیم کو جیت دلانے کی سازش کر رہی ہے۔ اگرچہ سپر اوور کی آخری گیند پر جاکر بالآخر انگلش ٹیم کو فتح نصیب ہوئی۔ کپتان مورگن نے جیت کے بعد کہا کہ ان کی ٹیم میں مختلف علاقوں اور مذاہب کے کھلاڑی ہیں اور یہ تنوع بھی ان کے بڑی کام آئی۔ کپتان مورگن آئرش نژاد ہیں جبکہ بین اسٹوکس کینٹا بیر، سپر اوور کے ہیرو جوفرا آرچر برج ٹاؤن سے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میچ کے بعد لیگ اسپنر عادل راشد نے ان سے کہا کہ اللہ ان کی ٹیم کے ساتھ تھا اور اس نے انگلینڈ کو جیت دلائی ہے۔

میچ کے بعد پریس کانفرنس میں مورگن نے کہاکہ میں نے عادل سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ اللہ یقینا ہمارے ساتھ تھا، تو میں نے کہا کہ آئرش لک ہمارے ساتھ تھا۔ ہماری ٹیم کی تنوع ہی اس کی اصل شناخت ہے۔ ٹیم میں مختلف نسل اور ثقافت کے كھلاڈري ہیں اور کچھ مختلف ممالک کے بھی ہیں۔ کئی بار ہم مذاق بھی بناتے ہیں اور اس میں کافی مزہ آتا ہے۔ کپتان نے بتایا کہ سپر اوور کے لئے بھی انگلش ٹیم بہت ہنستے ہوئے بغیر دباؤ کے تیار ہوئی تھی اور اس سے ٹیم کا اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ میں نے مسلسل اپنے کھلاڑیوں سے ہنستے رہنے کے لیے کہا تھا کیونکہ یہ ایسا وقت تھا جب ہم بہت دباؤ میں تھے۔ کئی ایسے موقع آئے جس نے ہمیں دباؤ میں ڈال دیا اور یہی وجہ تھی کہ میچ سپر اوور میں چلا گیا جس کا ہمیں ہر حال میں دفاع کرنا ہی تھا۔

مورگن نے کہاکہ میرے لئے کھلاڑیوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانا ضروری تھا تاکہ ان پر سے دباؤ کم ہو سکے اور انہوں نے بھی صورت حال کو بہت اچھی طرح سنبھالا۔ سپراوور میں گیند ڈال رہے آرچر نے اپنی گیند پر چھکا پڑنے کے باوجود ہڑبڑاہٹ نہیں دکھائی اور اپنے کیریئر کے پہلے بین الاقوامی سیزن میں بغیر دباؤ کے کھیلتے ہوئے ٹیم کو جیت دلائی، وہیں بین اسٹوکس نے اپنے بلے سے اہم کردار ادا کیا۔ اسٹوکس نے ناٹ آؤٹ 84 رنز کی اننگز کے بعد میچ کو ٹائی کرایا اور پھر سپر اوور میں انگلینڈ کے کل 15 میں آٹھ رن بنائے۔ انگلش کپتان نے کہاکہ بین ہمارے سپر ہیرو ہیں۔ انہوں نے غیر معمولی کھیل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ہماری ٹیم اور بلے بازی آرڈر کی قیادت کی۔ میں جانتا ہوں کہ جوس بٹلر کے ساتھ ان کی شراکت غیر معمولی تھی۔ لیکن نچلے آرڈر کے ساتھ ان کی بلے بازی کمال کی تھی۔

مین آف دی میچ ا سٹوکس کیلئے انہوں نے کہاکہ ٹیم کے ماحول اور جذبات کو اسٹوکس نے بہت اچھے طریقے سے سنبھالا۔ وہ کافی تجربہ کار ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جو بھی کوئی گھر پر بیٹھ کر میچ دیکھ رہا ہوگا وہ اگلا بین اسٹوکس بننے کی کوشش کرے گا۔ میں نے بین کو یہ بات کئی بار کہی ہے۔ کئی مواقع پر بین نے ذاتی طور پر ہمارے لیے جدوجہد کی ہے۔ ٹریننگ سے لے کر ٹیم کے سیزن میں انہوں نے ہماری قیادت کی ہے۔ وہ شاندار کرکٹر ہیں اور میں اس کارکردگی کے لئے ان کا شکرگزار ہوں۔

انگلینڈ کو پہلی عالمی فاتح بنا کر تاریخ رقم کرنے والے کپتان مورگن نے اپنی زندگی میں اس تاریخی فتح کے بعد تبدیلی کے متعلق واضح کیا کہ وہ اس کے باوجود پرسکون اور معمول کی زندگی ہی گزاریں گے اور ان کی زندگی میں اس سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ مجھے نہیں لگتا کہ اس جیت کے بعد بھی میری زندگی بدلے گی۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہی ہو کیونکہ میں اپنی زندگی کا مزہ لینا چاہتا ہوں۔ میں امن پسند انسان ہوں اور میں اس میں تبدیلی نہیں چاہتا۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close