تازہ ترین خبریںمحاسبہ

واہ کیا انتظام ہے پیارے، پِٹ رہے ہیں غریب بیچارے

محاسبہ…………….سید فیصل علی

پوری دنیا کورونا کے قہر کا شکار ہے، دنیا کا سب سے طاقتور ملک امریکہ قدرت کے عتاب کی زد میں ہے، وہاں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اسپین، اٹلی وغیرہ مغربی ملکوں سے لے کر برصغیر کی حالت بھی خستہ ہے، حالانکہ چین نے اس مرض پر بڑی حکمت عملی سے کسی حد تک کنڑول کرلیا ہے، مگر ستم تو یہ ہے کہ بھارت میں کوروناوائرس کے متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھتی ہی جا رہی ہے، اب تک کورونا سے متاثرین افراد کی تعداد 985 سے زائد ہوچکی ہے اور مرنے والوں کی تعداد 25 تک جا پہنچی ہے۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو بھارت میں کورونا کا مقابلہ کسی حکمت عملی کے بجائے بدحواسی کا منظرنامہ نظر آ رہا ہے۔ آج عالم یہ ہے کہ پورا بھارت بے سکونی کے عالم میں ہے، ہزاروں مزدور دہلی، گجرات اور ممبئی وغیرہ سے سڑکوں کے ذریعہ پیدل اپنے اپنے گھروں کو جا رہے ہیں، ظاہر ہے ان کے لئے بھوک سب سے بڑا مسئلہ ہے، جبکہ ’لاک ڈاؤن‘ کے درمیان غریبوں، مزدوروں کی خوراک کا بھی نظم ہونا چاہیے تھا، مگر ’لاک ڈاؤن‘ اس مقام پر بالکل فلاپ نظر آ رہا ہے، اس کے لئے خود حکومت ذمہ دار ہے، کیونکہ اس نے بالکل آخری وقت میں لاک ڈاؤن کا قدم اٹھایا ہے، یہ لاک ڈاؤن بھی ایک بدحواسی کا نتیجہ ہے، جس طرح نوٹ بندی کا قدم عجلت میں اٹھایا گیا تھا، اسی طرح لاک ڈاؤن کا قدم بھی عجلت میں اٹھایا گیا ہے۔ پہلے نوٹ بندی ہوئی تھی تو لوگ سڑکوں پر تھے، آج لاک ڈاؤن ہے تو لوگ گھروں میں بند ہیں، جبکہ حکومت نے راحت کاری کے لئے ایک لاکھ 70 ہزارکروڑ کا پیکج جاری کیا ہے، مگر جس طرح راحت کاری ہونی چاہیے تھی، وہ نہیں ہو پا رہی ہے۔

’لاک ڈاؤن‘ کو پانچ دن گزر چکے ہیں، جس میں سب سے زیادہ پریشانی اور بے بسی مزدور طبقے کی دیکھی جا رہی ہے، یہ لوگ بھوک، پیاس اور جگہوں کی قلت کی وجہ سے ہزاروں کلو میٹر پیدل چل کر یوپی، بہار، مدھیہ پردیش وغیرہ کے علاقوں میں جا رہے ہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ سڑکوں کے ذریعہ اپنے اپنے گھروں کو جاتے ہوئے ان مزدوروں پر نہ سرکار کی توجہ ہے اور نہ سماج کی ہمدردی ہے، مزدوروں کا یہ سفر موت کا سفر بنتا جا رہا ہے، اب تک چار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ تین زخمی ہیں، مگر ان کے گھروں کے لئے جانے کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ یہ لوگ کورونا کے شکار ہونے کے بجائے بھوک پیاس کے زیادہ شکارہوں گے۔

ستم تو یہ بھی ہے کہ بہار گورنمنٹ اس معاملے میں کان میں تیل ڈال کر سوئی ہوئی ہے۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ لاکھوں بہار کے مزدور مہاراشٹر، بنگلو، گجرات اور دہلی وغیرہ میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کو لانے کا انتظام بہار سرکار کی جانب سے ہونا چاہیے تھا، مگر لانا تو دور ان کی غذا کے لئے بھی کوئی مناسب نظم نہیں ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ جب کوئی آسمانی آفت آتی ہے تو انسانیت زندہ ہو جاتی ہے، بلاتفریق مذہب وملت سب ایک ہو جاتے ہیں، مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اس قدرتی عذاب کے دوران انسانیت بھی ختم ہو چکی ہے، سماج سے لے کر سرکار تک سب اپنے اپنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بہار کے سیمانچل علاقے میں پانچ ہزار سے زائد مزدور افراتفری کے عالم میں اپنے علاقوں میں پہنچے تو گاؤں والوں نے ہی انہیں گاؤں میں داخل نہیں ہونے دیا، نتیجہ یہ ہے کہ وہ ادھر ادھر کے اسکولوں، دھرم شالوں وغیرہ میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔

کورونا کی قہر سمانی کے درمیان انسانیت کی یہ بے حسی کیا رنگ لائے گی یہ تو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، لیکن ایسے موقع پر سرکار کو پوری جنگی سطح پر میدان میں اترنا چاہیے، پولیس کے ذریعہ لوگوں کی پٹائی کرکے گھروں میں گھدیڑنے کے بجائے غذائی صورتحال کو درست کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اب اس میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن کی میعاد بڑھ بھی سکتی ہے۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ مظلوم طبقہ جو سڑکوں پر اپنی زندگی بچانے کے لئے سفر کر رہا ہے، اس پر توجہ دے، جہاں جہاں سے یہ گزریں وہاں کے مقامی انتظامیہ کا تو یہ بھی فرض ہے کہ وہ ان کی میڈیکل جانچ کراکے اسے گاؤں میں ہی ٹھہرالیں اور ان کی غذا کا انتظام کریں۔

پانچ دنوں سے لاک ڈاؤن جاری ہے اور ان پانچ دنوں میں ہی عام لوگوں کی زندگی اجیراً ہوگئی ہے۔ خاص کر بہار، اترپردیش اور مدھیہ پردیش کے لاکھوں کامگار بنگلور، ممبئی، سورت، پونے اور دہلی وغیرہ میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کی واپسی کا فوری نظم ہونا چاہیے، اگر غیرملکیوں کے لئے ہوائی جہاز بھیجا جا سکتا ہے تو اپنے ہی لوگوں کو جو ملک میں ہی پھنسے ہوئے ہیں، خاص کر مہاراشٹر اور ممبئی میں تو ان لوگوں کو بھی لانے کا نظم ہونا چاہیے، کیونکہ لگتا ہے کہ جتنے لوگ کورونا سے نہیں مریں گے، اس سے کہیں زیادہ لوگ بھوک، پیاس اور غذا کی قلت کی وجہ سے مرجائیں گے۔ تازی ترین اطلاع تو یہ بھی ہے کہ یوپی سرکار اپنے شہریوں کو دہلی وغیرہ سے لانے کے لئے آنندوہار سے بسیں شروع کر رہی ہے، لیکن دہلی میں بہار کے لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے کہ وہ کس حال میں ہیں، کیا بہار کی نتیش سرکار یہاں کے عوام کو ان کے گھروں تک پہنچانے کے لئے اس طرح کا کوئی انتظام نہیں کرسکتی ہے؟ نتیش کمار نے 100کروڑ کا اعلان تو کر دیا ہے،لیکن وہ خرچ کہاں ہو رہا ہے اس پر بھی سوالیہ نشان ہے؟

بہرحال کورونا سے عوام کو بچانے کے لئے جہاں سرکار کی پوری ذمہ داری ہے، وہیں سماج کی بھی کم ذمہ داری نہیں ہے۔ احتیاط اور عوامی دوری سے ہی کورونا کو ہرایا جا سکتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ملت نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اجتماعی نماز سے گریز کیا ہے اور وہ اپنے اپنے گھروں میں نماز ادا کر رہے ہیں، لیکن وقت کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی سماجی ذمہ داریوں کو بھی نبھاتے ہوئے کورونا کا مقابلہ کریں۔ انسانیت اور سماجی خدمات ویسے بھی آفت کے دور میں وقت کی ضرورت بن جاتی ہے۔ میرے پاس بہت سارے فون آرہے ہیں، وہ مدد کی اپیل کر رہے ہیں، جہاں تک ممکن ہو رہا ہے میں کرنے کی سعی کر رہا ہوں، لیکن اصل کام تو حکومت خاص کر بہار حکومت کا ہے۔ آج لاکھوں لوگ سڑکوں پر ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کرکے اپنے اپنے گھروں کی طرف جا رہے ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بے کسوں کے تحفظ کا نظم کرے، ان کی میڈیکل جانچ کرکے ان کی اقامت کا بھی بندوبست کرے، خواہ وہ کسی بھی ریاست کے باشندے کیوں نہ ہوں، کیونکہ یوپی کے راستے سے گزرتے ہوئے بہار کے لوگوں کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے، بلکہ مقامی انتظامیہ لوکل لوگوں کی طرف توجہ دے رہے ہیں، حالانکہ انسانی خدمات میں تفریق نہیں برتی جانی چاہیے۔ بقول طالب رامپوری:

واہ کیا انتظام ہے پیارے
پِٹ رہے ہیں غریب بیچارے

([email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close