اترپردیشتازہ ترین خبریں

وارانسی: ایس پی نے بدلا اپنا امیدوار، مودی اور برخاست بی ایس ایف جوان آمنے سامنے

نامزدگی کے آخری مرحلے میں اپنے حیران کن فیصلے کے تحت سماج وادی پارٹی نے وارانسی پارلیمانی حلقے سے پارٹی کی امیدوار شالنی یادو کو تبدیل کرکے نامزدگی کے آخری مرحلے میں بی ایس ایف سے برخاست جوان تیز بہارد یادو کو وزیراعظم مودی کے خلاف انتخابی میدان میں اتارنے کا اعلان کیا ہے۔

کانگریس کی جانب سے پرینکا گاندھی کو انتخابی میدان میں اتارنے کے انکار کے بعد سماجوادی پارٹی نے بی ایس پی جوان کو انتخابی میدان میں اتار کر وارانسی میں انتخاب کو جوان بمقابلہ چوکیدار بنا دیا ہے۔ پیر کو سماج وادی امیدوار کے طور پر پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتےہوئے تیز بہادر یادو نے کہا سماج وادی پارٹی کے ایجنڈے ہمارے ایجنڈے ہیں اور اب میں نے سماج وادی پارٹی سے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ ہم لوگ کسانوں اور نوجواں کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔

تیز بہار دو یادو کو 2017 میں بی ایس ایف کو پروسے جارہے کھانے کی خراب کوالٹی کے بارے میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے پاداش میں بی ایس ایف سے برخاست کردیا گیا تھا۔ اب وہ وارانسی سے وزیر اعظم مودی کے کے خلاف ایس پی۔ بی ایس پی کے مشترکہ امیدوار ہوں گے۔ تیز بہادر نے نامزدگی کے آخری مرحلےمیں ایس پی کے نشان پر وارانسی سے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔ سماجوادی پارٹی ذرائع کے مطابق پارٹی کی پہلے سے اعلان کردہ امیدوار وپیر کو ہی پرچہ نامزدگی داخل کرنے والی شالنی یادو نے اپنا پرچہ نامزدگی واپس لے لیا ہے۔ جبکہ وزیراعظم نریندرمودی نے پہلے ہی 26 اپریل کو اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔

کسی دیگر بی جے پی وزیر کے بجائے وزیراعظم کے خلاف الیکشن لڑنے کے فیصلے کے بارے میں پوچھے جانے پر بی ایس پی جوان کا کہنا تھا ’’جنوری کے مہینے میں میرا بیٹا نہیں رہا۔ اب میرے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ میرے پاس صرف ایک راستہ ہے کہ میں پارلیمنٹ پہنچوں اور سیکورٹی اہلکار کی آواز بلند کروں۔ اسی وجہ سے میں نے وزیراعظم مودی کے خلاف انتخابی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنے ایکشن پلان سے آگاہ کرتے ہوئے مسٹریادو نے دعوی کیا کہ تقریبا 10 ہزار سیکورٹی اہلکار کی ان کو حمایت حاصل ہے۔ ’’ میرے پاس الیکشن لڑنے کے لئے پیسے نہیں ہیں اور اب میرے پاس روزگار بھی نہیں ہے۔ عوام تک پہنچنے کا واحد ذریعہ براہ راست ان کے دورازے پر دستک دینا ہے۔ ہم یہ کریں گے۔ ہم لوگوں کے پاس جائیں گے اور مودی جی کی حقیقت کے بارے میں بتائیں گے ہم عوام کو حکومت کے ذریعہ جوانوں کے فلاح کے لئے کئے جارہے کاموں کے بارے میں بھی بتائیں گے۔ ہمیں دس ہزار سیکورٹی اہلکار کی حمایت حاصل ہے ساتھ ہی ہمیں کچھ سماجی تنظیمیں بھی تعاون کررہی ہیں۔ جب ان سے فوج کے کارناموں کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کئے جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا’’ سیکورٹی فورسیز کو سیاست میں نہیں لانا چاہئے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ آج سیکورٹی فورسیز کو سیاست میں کھینچا جارہا ہے۔

کچھ دن قبل تیج بہادر نے کہا تھا کہ جب 2014 میں مودی حکومت آئی تھی تو لوگوں کو امیدیں تھیں کہ بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا۔ اسی امید کے تحت میں نے پی ایم او آفس، وزارت داخلہ، ڈی جی بی ایس ایف اور حقوق انسانی کے پاس متعدد بار خط لکھ کر ہمارے شعبے میں ہونے والے بدعنوانی کے بارے میں آگاہ کرکے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن کسی قسم کا ایکشن لینے کے بجائے انتظامیہ نے ہمیں ہی ہراساں کرنا شروع کردیا۔ بدقسمتی سے مجھے میری نوکری سے برخواست کردیا گیا۔ اس اور فیصلے نے اس بات کو واضح کردیا کہ وزیر اعظم کے ہاتھ بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ ایک جانب وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ بدعنوانی کے خلاف لڑ رہے ہیں تووہیں دوسری جانب جو لوگ بدعنوانی کے خلاف لڑ رہے ہیں ان کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ تیج بہادو نے اپنی برخاستگی کو کورٹ میں بھی چیلنج کیا ہے جوکہ ابھی ٹرائل کے اسٹیج میں ہے۔ آپ کی جانکاری کے لئے بتا دیں کہ اترپردیش کے وارانسی میں آخری مرحلے میں 19 مئی کو انتخاب ہوگا۔ جہاں وہ نریندر مودی کو چیلنج دینے کے لئے تیار ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close