اپنا دیشتازہ ترین خبریں

وادی کشمیر میں ملی ٹینسی کے خاتمے کیلئے جنگجوﺅں کے ساتھ مذاکرات ضروری: محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر اور سابقہ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے وادی کشمیر میں جنگجوﺅں کے ساتھ مذاکرات کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ملی ٹینسی کے خاتمے کے لئے بات چیت ضروری ہے۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جنگجوﺅں سے قبل پاکستان اور کشمیری مزاحمتی قیادت سے بات چیت ہونی چاہیے۔ محترمہ مفتی نے یہ باتیں منگل کو یہاں پارٹی ورکروں سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہیں۔

انہوں نے کہا ‘ملی ٹینسی کے خاتمے کے لئے بات چیت ضروری ہے۔ پاکستان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے۔ حریت پسندوں اور اس کے بعد جب ماحول ٹھیک ہوجائے گا تو ملی ٹینٹوں کے ساتھ بھی بات چیت ہونی چاہیے تاکہ بندوق اور تصادموں کا سلسلہ ختم ہو’۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اہلیان جموں وکشمیر پی ڈی پی سے ناراض ہوسکتے ہیں، مگر وہ پی ڈی پی سے نفرت نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا ‘ہماری جماعت ایک تحریک ہے۔ یہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بنی ہے۔ یہ جماعت اقتدار کے لئے نہیں بنی ہے۔ پی ڈی پی کی اہمیت کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ ہوسکتا ہے کہ لوگ ہم سے ناراض ہوں کہ ہم نے بی جے پی کے ساتھ حکومت کیوں بنائی۔ مگر لوگ خدانخواستہ ہم سے نفرت نہیں کرتے۔ آج نہیں تو کل نفرت ختم ہوجائے گی’۔

جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں مہلوک جنگجوﺅں کے اہل خانہ سے ملاقات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں محترمہ مفتی نے کہا ‘محبوبہ مفتی پہلی بار کسی جنگجو کے گھر پر نہیں گئیں۔ جب میں اپوزیشن میں تھیں تب بھی جاتی تھیں۔ عمر صاحب کے وقت میں مژھل فرضی جھڑپ ہوئی تھی، وہ وہاں نہیں گئے، میں وہاں چلی گئیں۔ شوپیاں میں دو عورتوں کی عصمت ریزی کا واقعہ پیش آیا تو محبوبہ مفتی وہاں گئیں۔ کوئی پولیس والا مارا گیا تو میں وہاں گئیں۔ ابھی میں حال ہی میں پتی پورہ اور صفانگری گئیں۔ وہاں جنگجوﺅں کے کنبوں کو سیکورٹی فورسز ہراساں کررہی تھی۔ انہوں نے مجھے اپنے گھر بلایا تھا۔ میرے وہاں جانے سے ان کو تھوڑی راحت نصیب ہوئی’۔

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close