تازہ ترین خبریںمسلم دنیا

واجپئی کے دورحکومت میں کشمیر مسئلہ کے حل کے بہت قریب تھے ہند۔پاک:عمران خان

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان اٹل بہاری واجپئی اور فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے دوران کشمیر مسئلہ کے حل کے ’بہت قریب‘ پہنچ گئے تھے۔

مسٹر عمران خان نے امریکی کانگریس کی طرف سے تھینک ٹینک ’یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس‘ میں منگل کو ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’’ہندوستان کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی اور پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کشمیر مسئلہ کے حل کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے اس مسئلہ پر زیادہ تفصیلات نہ فراہم نہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔‘‘ مسٹر عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان تنازعہ کی وجہ ہے۔‘‘

مسٹر عمران خان نے کہا ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے ہندوستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔ بدقسمتی سے جب بھی ہم نے آپسی تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی اور جب بھی ہندوستان کے ساتھ تعلقات صحیح سمت میں بڑھنے لگے تبھی کشمیر میں کچھ نہ کچھ واقعہ ہوگئے جس کی وجہ سے ہم واپس وہیں پہنچ گئے جہاں سے چلے تھے۔‘‘

پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ بدعنوانی کو ختم کرنے اور مضبوط اداروں کی تعمیر کےعلاوہ پاکستان کی پہلی ترجیح اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا تعلقات بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے علاقے میں استحکام ہونا چاہئے۔ غریبی کم کرنے کا سب سے اچھا طریقہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ تجارت شروع کریں۔‘‘ مسٹر عمران خان نے حال ہی میں ساتویں مرتبہ گرفتار کئے گئے ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ اور جماعۃ الدعوۃ کے سربراہ حافظ محمد سعید سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کو ٹالتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے حق میں ہے۔ ’ہم اپنے ملک میں کسی بھی مسلح دہشت گرد گروپ کو چلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

مسٹر عمران خان نے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد پاکستان اس لئے درمیان میں آگیا کیونکہ پاکستان اور کشمیر میں سرگرم گروپ جیش محمد نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’پاکستان میں کئی دہشت گرد گروپ سرگرم ہیں۔ اب پاکستان انہیں ختم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ اگر سلامتی فورس ہمارے ساتھ نہیں ہوتے تو ہم ان دہشت گرد گروپوں سے نہیں نمٹ سکتے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close