اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مودی حکومت نے مانا نوٹ بندی کا فیصلہ تھا غلط، کیش کی قلت سے کسانوں کی ٹوٹی کمر

2016 میں مودی حکومت نے نوٹ بندی کا فیصلہ کیا تھا، جس پرآج بھی ملک میں مسلسل بحث جاری ہے. اپوزیشن اس فیصلے کو بد قسمتی قرار دیتی آ رہی ہے لیکن حکومت اس فیصلے کو فائدہ مند بتا رہی ہے. لیکن مرکزی وزارت زراعت کی طرف سے ایک رپورٹ میں اس کی حقیقت سامنے آ گئی ہے. جس میں کہا گیا ہے کہ نوٹ بندی سے کسانوں کو کافی نقصان ہوا ہے

مالیاتی وزارت سے منسلک مالیاتی وزارت کی مستقل کمیٹی کے اجلاس میں وزارت زراعت نے یہ اعتراف کیا ہے کہ نقد کی کمی کی وجہ سے لاکھوں کسانوں نے ربی موسم میں بوائی کے لئے بیجوں اور کھادوں کی خریداری نہیں کر سکے. جسکا ان پر کافی برا اثر پڑا. زراعت وزارت نے نوٹ بندی کے اثر پر ایک رپورٹ بھی پارلیمانی کمیٹی کو پیش کی ہے. وزارت زراعت نے کمیٹی کو بتایا کہ جب نوٹ بندی نافذ ہوئی، اس وقت کسان یا تو اپنی خریف کی پیداوار بیچ رہے تھے یا پھر ربی فصلوں کی بوائی کر رہے تھے. ایسے وقت میں کسانوں کو نقد رقم کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس وقت نقد کی قلت کی وجہ سے لاکھوں کسان بیج اور کھاد نہیں خرید سکے.

دوسری طرف کانگریس صدر راہل گاندھی نے مودی حکومت کو نشانے پر لیتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’’نوٹ بندی نے کروڑوں کسانوں کی زندگی تباہ کر دی، ان کے پاس بیج-کھاد خریدنے کے لئے کافی رقم نہیں ہے، لیکن آج بھی مودی جی ہمارے کسانوں کی بدقسمتی کا مذاق اڑاتے ہیں۔ اب ان کی وزارت زراعت کا بھی کہنا ہے کہ نوٹ بندی سے کسانوں کی کمر ٹوٹ گئی‘‘.

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close