اپنا دیشتازہ ترین خبریں

نواں انتخابات: بوفورس کے ’گولے‘ سے کانگریس ڈھیر، اتحادی پارٹیوں کی حکومت کا آغاز

بوفورس گھوٹالے کے الزاموں کے سایہ میں سال 1989 میں ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نہ صرف کمزور ہوئی بلکہ ایک بار پھر اقتدار سے باہر ہو گئی تھی اور مرکز میں مختلف پارٹیوں کی اتحادی حکومت بننے اور اسے باہر سے حمایت دینے کی نئی روایت شروع ہوئی۔

اس انتخاب کے بعد ایک نئی سیاسی فارمولیشن تیار ہوئی جس میں وشوناتھ پرتاپ سنگھ کی قیادت میں مرکز میں اتحادی حکومت بنی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور بائیں بازو کی پارٹیوں نے اسے باہر سے حمایت دی لیکن باہمی اختلاف کی وجہ سے یہ حکومت زیادہ دن نہیں چل سکی اور دو سال میں ہی لوک سبھا انتخابات کرانا پڑا۔

لوک سبھا کے نویں انتخابات میں کانگریس نے تقریبا 40 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے تاہم اسے 197 نشستیں ہی مل پائی تھیں. اس کو بہار میں گہرا جھٹکا لگا تھا جبکہ اتر پردیش میں وہ 15 سیٹوں پر سمٹ گئی تھی. مدھیہ پردیش، پنجاب، مغربی بنگال اور اڑیسہ میں بھی اس کی حالت اچھی نہیں رہی. اس الیکشن تک لوگوں میں سیاسی عزائم کافی بڑھ گئے تھے اور سیاسی پارٹیوں کی گویا ایک باڑھ سی آگئی تھی۔ گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں زیادہ تر علاقے میں بڑی تعداد میں امیدوار میدان میں اترے۔ ہریانہ کی ایک سیٹ پر تو 122 امیدوار انتخابات لڑے جس کی وجہ سے بہت سے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close