آپ کی آواز

نزدیکیاں مشکلات کا سبب بنتی ہیں

غورو فکر.............بشریٰ اِرم

شوہر نے بیوی سے کہا میں چاہتا ہوں تم اپنی نئی نئی تصویریں فیس بک اور واٹس ایپ پر شیر کرتی رہا کرو تاکہ مجھے ان تصویروں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا رہے کہ میں تمہارے پاس ہوں، تمہارے ساتھ ہوں، تمہاری خوبصورت باہوں کے حصار میں ہوں اور اس خوبصورت احساس کی وجہ سے پردیس میں گزرنے والے میرے یہ دن آسانی کے ساتھ گزر جائیں، اکیلاپن اور تنہائی مجھ سے میلوں دور رہیں، مجھے چھو بھی نہ پائیں اور زندگی خوشگوار معلوم ہو۔ شادی کو چند ہفتے ہی گزرے تھے اسلئے بیوی نے شوہر کو اپنی محبت اور اپنی فرمابرداری کا ثبوت دینے کیلئے اسکا حکم سر آنکھوں پر لیا، اس نے اپنا روز کا معمول بنا لیا وہ سجتی سنورتی، خوبصورت تصویریں کھینچتی اور شوہر کے حکم کے مطابق شوہر کی ذہنی تسکین کیلئے اپنی تصویریں واٹس ایپ اور فیس بک پر شیئر کیا کرتی، رفتہ رفتہ اسکی تصویروں پر لائیک اور کمینٹ کی تعداد بڑھتی گئیں اور ایک گروپ سے دوسرے واٹس ایپ گروپ پر تصویریں گردش کرنے لگیں ایک دن ایسا بھی آیا جب اسکی خوبصورت تصویریں مختلف مردوں کے ساتھ مختلف پیجز اور نیٹ کے دوسرے ذرائع جیسے انسٹاگرام، ٹویٹر وغیرہ پر کثرت سے دیکھی جانے لگیں، جب تصویریں کثرت کے ساتھ گردش کرنے لگیں تو ایک دن شوہر کو بھی اسکی خبر لگی، یعنی کے شوہر کی نظر میں بھی یہ تصویریں آہی گئیں۔

مرد حضرات کا معاملہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ انہیں دوسری غیر عورتوں کی تصویریں دیکھنا ان سے گفتگو کرنا تو بہت پسند ہوتا ہے، مگر خود سے تعلق رکھنے والی کسی بھی عورت کی ایسی حرکت انکے لئے عزت اور وقار کا مسئلہ پیدا کرتی ہے، خاص طور سے جب یہ نازیبا حرکت اسکی ہمسفر، اسکی شریک حیات کرے، حالانکہ زیر نظر معاملے میں بیوی نے جس حکم کی تعمیل کی تھی وہ شوہر کا ہی عطا کردہ تھا۔ مگر چونکہ جیسا کہ روز اول سے یہ ثابت ہے کہ مرد حضرات بہت غیرت مند ہوتے ہیں اور جب وہ کسی رشتے میں شوہر کی شکل میں ہوں تو انکی غیرت کا اندازہ لگانا انتہائی غیر معمولی بات ہے، لہذا یہاں پر بھی شوہر نے غیرت مندی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے بیوی سے یہ کہہ کر علیحدگی اختیار کر لی کہ وہ ایک عزت دار شخص ہے اور اسے گوارہ نہیں کہ وہ ایک ایسی عورت کے ساتھ زندگی بسر کرے، جس کی تصویر ہر دوسرے دن ایک نئے شخص کے ساتھ نظر آتی ہے۔

گزشتہ سال عید کے موقع پر جھارکھنڈ کے ضلع سنگھ بھوم میں پیش آئے حادثے نے اس وقت سب کی خوشیاں پھیکی کر دیں جب فیس بک فرینڈ سے ملنے تین لڑکیان بغیر گھر والوں کو مطلع کئے گھر سے ایک موٹی رقم چرا کر میلوں دور جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی پہنچ گئیں، لیکن وہاں پہنچ کر ان لڑکیوں نے دھوکے کا سامنا کیا کیونکہ جس دوست کی محبت انہیں رانچی کھینچ لائی تھی، اس نے خود آنا گوارہ نہ کرکے کسی اور شخص کو انہیں لینے کے لئے بھیج دیا تھا۔ کولکاتہ میں بھی ہوئے ایک واقعہ نے سب کی نظریں اس وقت اپنی جانب مرکوز کر لیں جب ایک بچی چھپتے چھپاتے اپنے فیس بک فرینڈ سے ملنے اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق دہلی جانے کیلئے ٹرین میں بیٹھ گئی۔

دراصل نیٹ کے ایجاد اور اسکے استعمال نے لوگوں کی نزدیکیوں میں اس قدر اضافہ کر دیا ہے کہ دنیا کے ایک کنارے پر بسا شخص دوسرے کنارے پر مقیم شخص کی زندگی کا کب خاص حصہ بن جائے اور وہ اسکے لئے جان خطرے میں ڈالنے پر آمادہ ہو جائے، اس کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں ہے، فیس بک، انسٹاگرام، ٹویٹر، واٹس ایپ، میسینجر کے ذریعے لوگ گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں مگر سامنے بیٹھے شخص سے دو چار منٹ کی ملاقات میں ہی بے زاری کا اظہار کرنے لگتے ہیں، یہ وہ جگہ ہے جو ایک بزرگ کی بچے تک، جوان کی بوڑھے تک، لڑکے کی لڑکی تک، آدمی کی عورت تک پہنچ کو بغیر کسی دشواری کے پورا کرتا ہے۔ سوشل میڈیا نے چیزوں کو بہت آسان کیا ہے، اگر آپ کے پاس ہنر ہے تو پھر آپ بڑی آسانی سے اپنے ہنر کو دنیا کے کسی بھی شخص کے پاس پہنچا سکتے ہیں، جانے کتنے لوگ ہیںجنہیں اپنی پریشانیوں کا حل آسانی کے ساتھ گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے حاصل ہو جاتا ہے اور وہ خوار ہونے سے بچ جاتے ہیں، سوشل میڈیا پیسے کمانے کا آسان ذریعہ ہے۔ لیکن یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ سوشل میڈیا نے بے حیائی کو بھی بہت عام کیا ہے، سوشل میڈیا کی مہربانی کی وجہ سے اب تک فون پر ہونے والی ایک مرد اور ایک عورت کی فحش گفتگو ویڈیو کالز پر ہوتی ہیں وہ چیزیں جو ٹیلی ویژن پر آدھی رات گئے دکھائی جاتی تھیں اب ہر وقت آنکھوں کے سامنے گردش کرتی ہوئی نظر آتی ہیں، ٹیلی ویژن کی رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے، اب ایک ایسا شخص جس نے تصور نہ کیا ہو کہ اسکی تصویریں بھی کبھی دیکھی جا سکتی ہیں، اپنی اس خواہش کو شرمندہ تعبیر کرنے میں کسی دشواری کا سامنا نہیں کرتا، اس طرح کی خواہش کو حقیقی شکل دینے میں ہماری خواتین بھی پیش پیش ہیں، تصویروں کے اپلوڈنگ میں خواتین نے ہر فرق، ہر دائرے کو مٹا دیا ہے۔ دنیا کی روایت رہی ہے کہ وہ چیزیں جو گناہ کے زمرے میں شامل ہوں عام ہو جائیں تو انسان اسے گناہ نہیں سمجھتا، ٹھیک اسی روایت کی پیروی کرتے ہوئے مسلم خواتین بھی میدان میں کود پڑی ہیں اور اصول اسلام کو بالائے طاق رکھ کر دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش میں مبتلا ہیں کہ ہم پر دقیانوسی کا الزام لگانے والے دیکھ لیں کے ہم بھی انکے قدموں سے قدم ملاکر ترقی یافتہ زمانے کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں وہ ترقی یافتہ زمانے کی دوڑ جو عورت اور مرد کے بنیادی فرق کو اس طرح فنا کر دیتی ہے کہ جیسے خالق کائنات نے اسے کبھی وجود ہی نہیں دیا تھا۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو اپنے نفس کی غلامی میں آسانی سے قید ہو جاتا ہے، اسی کی مثال ہے ٹک ٹاک اور نیٹ کے دوسرے ذرائع پر اپلوڈ فحش ویڈیوز کی کثرت کہ وہ مناظر جو فلموں میں اسلئے ڈالے جاتے تھے کے فلمیں کامیاب ہو سکیں لیکن آج یہ ویڈیوز لوگوں کی ضرورت بن کر زندگی میں اس طرح شامل ہو چکے ہیں جیسے زندگی کی بنیادی ضرورتیں، جس کے بغیر زندگی کا گزارہ ممکن نہیں اور اب اسکی وجہ سے انسان اپنی زندگی کی اس دہلیز پر کھڑا نظر ا ٓرہا ہے جہاں سے واپسی کے سارے راستے اسے بند نظر آرہے ہیں۔

عورت کے لفظی معنی ہیں پردہ، چھپی ہوئی چیز، چھپا کر رکھی جانے والی چیز، حفاطت سے رکھی جانے والی چیز، قیمتی چیز، اسلئے ضروری ہے کہ عورت اپنی عزت و وقار کی حفاظت کیلئے پردے کا اہتمام کرے، وہ پردہ جس کا حکم اسلام دیتا ہے، جو نہ صرف اعضاء کو ڈھانپتا ہے، بلکہ خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتا ہے اور جنت کا حقدار بناتا ہے، پردے کے معنی صرف یہ نہیں کہ ہم نے نقاب لگایا اور اپنا فرض ادا کر دیا بلکہ پردے میں بلا ضرورت کسی غیر مرد سے گفتگو نہ کرنا بھی شامل ہے پردے میں فیس بک واٹس ایپ اور نیٹ کے دیگر ذرائع پر نمائش کیلئے فوٹو، ویڈیوز اپلوڈ نہ کرنا بھی شامل ہے۔خالق کائنات سے دعا ہے کہ وہ امت مسلمہ کو دین پر چلنے اور زندگی کو دوسروں کیلئے خوبصورت نمونہ بنانے کی توفیق عطا کرے تاکہ دنیا یہ دیکھ پائے کہ اسلام کے قیمتی اصول بربادی کے دہانے پر کھڑے معاشرے میں بھی انسان کو کس طرح محفوظ رکھتے ہیں۔

(Writer: Bushra Iram……………………………..E-mail: [email protected])

ٹیگز
اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close