بہار- جھارکھنڈتازہ ترین خبریں

نائب صدرجمہوریہ کی پٹنہ یونیورسٹی کو مرکزی یونیورسٹی کا درجہ دلانے کی یقین دہانی

نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے آج یقین دہانی کرائی کہ وہ پٹنہ یونیورسیٹی کو مرکزی یونیورسٹی کا درجہ دلانے کے طویل عرصے سے کئے جارہے مطالبے کو پورا کرانے کیلئے ہرممکن کوشش کریں گے۔

مسٹر نائیڈو نے یہاں پٹنہ یونیورسٹی کی سینٹرل لائبری کی صدی تقریب کا افتتاح کرنے کے بعد کہاکہ ملک کی ساتویں پرانی پٹنہ یونیورسیٹی کو مرکزی یونیورسٹی کا درجہ دلانے کا مطالبہ طویل عرصے سے ہورہا ہے لیکن سبھی کو معلوم ہے کہ وہ ابھی آئینی عہدہ پرہیں اور معاملہ سیدھے ان کے دائرے میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہاکہ اس کے باوجود وہ مرکزی حکومت کے افسران کو بلا کر بات چیت کریں گے کہ کیسے پٹنہ یونیورسٹی کو مزید سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں تاکہ یہ پہلے سے بہتر مقام کے طور پر فروغ پاسکے۔

انہوں نے کہاکہ اس کے ساتھ ہی وہ افسران سے پٹنہ یونیورسیٹی کو مرکزی یونیورسیٹی کا درجہ دلانے کے ممکنات پر بھی بات چیت کریں گے اور اس معاملے میں ان کا پورا تعاون ہوگا۔نائب صدر جمہوریہ نے کہاکہ زمانہ قدیم سے ہی بہار دنیا میں اپنی معیاری تعلیم کے لئے جانا جاتاہے۔ یہاں کی نالندہ یونیورسٹی نے سائنس وٹیکنالوجی، تعلیم، اور سماجی تحریکات سمیت کئی شعبوں میں قوم کو قابل قدر تعاون پیش کیا ہے۔ مسٹر نائیڈو نے کہاکہ پٹنہ یونیورسٹی اپنی یوم تاسیس کے وقت سے ہی نہ صرف بہار بلکہ ملک اور دنیا کے ماہرین تعلیم کیلئے توجہ کا مرکز رہا ہے۔ لوک نائک جے پرکاش نارائن نے 1970 کی دہائی کے وسط میں اسی یونیورسٹی سے طلبائتحریک کی شروعات کی تھی۔

انہوں نے کہاکہ مغربی بنگال کے پہلے وزیراعلیٰ بدھان چندر رائے، سماجی لیڈر جے پرکاش نارائن، انو گرہ نارائن سنہا، بہار کے موجودہ وزیراعلیٰ نتیش کمار، نائب وزیراعلیٰ سشیل کمار مودی اور مرکزی وزیرقانون اسی یونیورسٹی کی دین ہیں۔ نائب صدر جمہوریہ نے کہاکہ طلبائتحریک کے وقت جب مسٹر نتیش کمار اور مسٹر سشیل کمار مودی جیسے لیڈر پٹنہ یونیورسٹی کے طالب علم کے طور پر متحرک تھے تب وہ لوک نائک کی اپیل پر آندھرا یونیورسٹی طلبائیونین کے صدر کی حیثیت سے تحریک میں شامل ہوئے تھے

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close