تازہ ترین خبریںدلی نامہ

’میں جامع مسجد پر ماتھا ٹیکنے آیا ہوں‘

جامع مسجد کی سڑھیوں سے بلند ہوئے آزادی اور انقلاب کے نعرے ٭بعد نماز جمعہ کالے قانون کے خلاف احتجاج

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف دہلی کی شاہی جامع مسجد پر بعد نماز جمعہ احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ یہاں نماز سے قبل بھیم آرمی کے چیف چندر شیکھر آزاد کے پہنچنے سے پرانی دہلی کے بھاری تعداد میں لوگ جامع مسجد پر جمع ہوگئے۔ آزاد کی موجودگی میں ہزاروں افراد نے کالے قانون اور وزیر اعظم نریندر مودی و وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف جم کر نعرے بازی بھی کی۔ انقلاب اور آزادی کے نعرے جامع مسجد علاقہ کی فضاؤں میں گونجنے لگے۔ ایک جانب جامع مسجد سے شاہی امام احمد بخاری کی جانب سے سی اے اے، این آر سی، این پی آر کے خلاف جاری مظاہروں کی حمایت کرنے سے جہاں لوگوں میں کچھ جوش پیدا ہوا تھا وہیں بھیم آرمی چیف کے جامع مسجد پہنچنے سے لوگوں کا جوش دوگنا ہو گیا۔ جامع مسجد کی سیڑھیوں پر ہزاروں لوگوں نے ہاتھوں میں بھیم آرمی کے پوسٹر، سی اے اے، این آر سی کے خلاف پوسٹر اور ہاتھوں میں ترنگا اٹھائے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

جیل سے رہائی کے بعد وکیلوں کی ٹیم اور بھیم آرمی کے لوگوں کے ساتھ جامع مسجد پہنچے بھیم آرمی چیف آزاد نے بعد نماز جمعہ پہلے جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر آئین کا پریمبل پڑھا اور اس کے بعد مرکزی حکومت کو جم کر نشانہ بناتے ہوئے لوگوں سے پر امن تحریک جاری رکھنے کی اپیل کی۔ آئین کی کتاب کو ہاتھوں پر بلند کئے جامع مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑے آزاد نے سی اے اے، این آر سی کو کالا قانون بتایا۔ انہوں نے آئین کے پریمبل کا حوالہ دیتے ہوئے قانون واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ عدالت سے مشروط رہائی پر چندر شیکھر آزاد نے کہا کہ وہ کورٹ کے احکامات کو فالو کر رہے ہیں، ان کو دہلی چھوڑ نے کا 24 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے، وہ جامع مسجد پر ماتھا ٹیکنے آئے ہیں، وہ یہاں سے گرو دوارے جائیں گے اور اس کے بعد چرچ بھی جائیں گے۔ اس کے بعد دہلی چھوڑ دیں گے۔ بعد میں آگے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ بھیم آرمی چیف نے سی اے اے، این آر سی کو آئین کی روح پر حملہ بتایا۔ اسے کالا قان بتاتے ہوئے آزاد نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر کے لکھے آئین کی کتاب میرے ہاتھ میں ہے، اس کے پریمبل میں واضح تحریر ہے کہ یہ ملک جمہوریت کی بنیاد پر ہے اور کوئی بھی قانون ایک مذہب کی بنیاد پر نہیں بنایا جا سکتا۔

واضح رہے کہ بھیم آرمی چیف چندر شیکھر آزاد کو یہیں جامع مسجد سے گرفتار کرکے 14دن کیلئے جیل بھیج دیا گیا تھا، جس کے بعد عدالت نے مشروط ضمانت پر آزاد کو رہا کیا ہے، جس میں انہیں 24 گھنٹے میں نہ صرف دہلی چھوڑنی ہے بلکہ وہ ایک ماہ تک جب تک دہلی میں اسمبلی الیکشن ہیں وہ دہلی میں نہیں آ سکیں گے، اس کے ساتھ ہی وہ شاہین باغ مظاہرے میں بھی شریک نہیں ہو سکتے۔

جامع مسجد پر ہوئے احتجاج میں جہاں بڑی تعداد میں مرد و خواتین جمع تھے وہیں کسی بھی ناخوش گوار واقعہ سے نبٹنے کیلئے بھاری تعداد میں دہلی پولیس اور پیرا ملٹری فورس کے جوان تعینات تھے، خود اعلی افسران بھی موقع پر موجود تھے۔ بھیم آرمی کے چیف چندر شیکھر آزاد کے متوقع طور پر اچانک جامع مسجد پہنچنے سے پولیس میں بھی کھلبلی مچ گئی کہ کہیں یہاں کوئی واقعہ پیش نہ آئے لیکن امن پسند افراد نے صرف حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، جبکہ چندر شیکھر نے آئین کا پریمبل پرھ کر لوگوں سے پر امن طریقے سے اس تحریک کو جاری رکھنے کی اپیل کی۔

قابل ذکرہے کہ آج ہزاروں افراد نے روزہ رکھا تھا، جامع مسجد میں روزہ افطار کا انتظام جامع مسجد موٹر پارٹس مارکیٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے کیا گیا ہے۔ بھیم آرمی چیف کے چلے جانے کے بعد بھی سیکڑوں افراد وہیں جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر احتجاج کرتے رہے۔ یہ بھی بتا دیں کہ یہاں جنت فاروقی نامی لڑکی کے ساتھ سیکڑوں مرد و خواتین روزانہ احتجاج کر رہے ہیں، جو آج بھی جاری رہا۔ یہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سیت وابستہ افراد شامل ہو رہے ہیں۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close