تازہ ترین خبریںدلی این سی آر

میرے والد کو پولیس نے مسلمان ہونے کی بنیاد پر پیٹا: محمد رضوان

پولیس حراست میں موت پر محمد رمضان کے اہل خانہ نے انصاف کا کیا مطالبہ، خاطی پولیس اہلکاروں کو دی جائے سخت سزا

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
راجستھان میں محمد رمضان کی پولیس حراست میں ہوئی موت پر اہل خانہ نے پولیس پر تعصب کا الزام لگاتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ دہلی کے پریس کلب میں نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹ آرگنائزیشنز کے زیر اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس میں مرحوم رمضان کے بیٹے محمد رضوان نے اپنے ساتھ ہوئے ظلم کو میڈیا کے سامنے بیان کرتے ہو ئے کہا کہ میرے والد محمد رمضان کو مسلمان ہونے کی بنا پر پولیس حراست میں مارا پیٹا گیا جس سے ان کی موت واقع ہو گئی۔

انھوں نے کہا کہ میرے والد کی طبیعت خراب ہونے پر ان کو کوٹہ کے میڈیکل کالج کے قیدی وارڈ لایا گیا، لیکن ہمیں ملنے نہیں دیا گیا۔ جس پر ہماری وہاں کہا سنی بھی ہوئی، ہم نے اس کی شکایت اسپتال انتظامیہ سے کر دی۔ اس بنیاد پر جس پر وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے رات میں میرے والد کو بری طرح پیٹا جس سے ان کی طبیعت مزید خراب ہو گئی۔ اس کے بعد پولیس والوں نے انہیں جے پور کے ایم ایس ایم اسپتال میں داخل کرایا جہاں سے ہم نے والد محمد رمضان سے بات کی، انہوں نے ہمیں اپنے ساتھ ہوئے واقعہ کے بارے میں تفصیل سے بتایا جس کی ہم نے ویڈیو ریکارڈ بھی کی تھی۔ اگلے روز ڈاکٹروں نے انہیں دوسرے ڈپارٹمنٹ میں ڈسچارج کرنے کا لیٹر دیا، وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ڈسچارج لیٹر ملنے پر انہیں دوسرے ڈپارٹمنٹ میں داخل کرانے کے بجائے ایمبولنس میں ڈال کر واپس کوٹہ لے گئے۔ اس کی شکایت ہم نے فوری انسانی حقوق کمیشن اور ڈی جی پی سے کی۔ ڈی جی پی نے خود اس بات کو مانا کہ ایسے صورتحال میں پولیس اہلکاروں کو انہیں ایم ایس ایم اسپتال سے واپس نہیں لے جانا چاہئے تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ہمیں اطلاع ملی کہ والد محمد رمضان کا انتقال ہو گیا۔ انہوں ںے الزام لگایاکہ پولیس کی وجہ سے ہمارے والد کی موت ہوئی ہے، جس کےلئے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہئے۔

دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروا نند نے کہا کہ عدالتوں میں انصاف کے لئے ہونے والی تاخیر اور پولیس کے ذریعہ متاثرین کو ہراساں کرنے کے عمل کو روکنے کےلئے تبدیلی کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ محمد رمضان کو پولیس حراست میں مار دیا گیا اور خاطی پولیس والوں کے خلاف ایف آئی آر کے نام پر 176 لگائی گئی ہے۔ جبکہ یہ معاملہ سیدھے طور پر قتل کا ہے اور خاطی پولیس افسروں کے خلاف دفعہ 302کے تحت مقدمہ درج کیا جانا چاہئے۔پروفیسر اپوروا نند نے کہا کہ پچھلے پانچ سال سے ایک خاص طبقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ محمد رمضان کے معاملہ میں پولیس اہلکار ہی نہیں بلکہ راجستھان سرکار بھی ذمہ دار ہے۔ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ حکومت فوری اپنی غلطی کی تصحیح کرے اور خاطی پولیس افسروں کو سخت سزائیں دلائے۔

سپریم کورٹ کے وکیل شری جی بھاوسر نے کہا کہ راجستھان میں محمد رمضان کے ساتھ جو واقعہ رونما ہوا ہے وہ بے حد تکلیف دہ ہے، ماب لنچنگ کے ساتھ پولیس حراست میں ایک خاص فرقہ کو نشانہ بنایاجانا حکومت کے ساتھ افسروں کے کردار پر بھی سوال کھڑے کرتا ہے۔ سماجی کارکن ندیم خان نے کہا کہ پولیس حراست میں موت کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے، وہاں کی پولیس پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ ماب لنچنگ کے معاملوں میں بھی راجستھان پولیس پر مظلومین کا ساتھ نہ دے کر ملزمین کی پشت پناہی کرنے کا الزام لگتا رہا ہے۔ اسی طرح پولیس حراست میں اموات کے کئی معاملے سامنے آئے ہیں جن پر آج تک متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔

پر ویز احمد نے کہا کہ راجستھان میں پہلے بی جے پی کی سرکار تھی مگر اب کانگریس کی حکومت ہے لیکن پھر بھی وہاں کے حالات جوں کے توں ہیں۔ سرکاری مشینری بی جے پی کے ایجنڈے پر کام کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close