اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کا سیاسی بحران برقرار، شیوسینا نے ایم ایل ایز کو ہوٹل میں کیا منتقل

گزشتہ دوہفتے قبل اسمبلی الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد سے مہاراشٹر میں جاری سیاسی بحران کے ختم ہونے کے آثار نظرنہیں آرہے ہیں، کیونکہ شیوسینا نے بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ اتحادی پارٹی نومنتخب اراکین اسمبلی کو خریدنے کے لیے ’منی پاور‘ کا استعمال کررہی ہے اور یہ اس کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔

نتین گڈکری نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں جلد حکومت تشکیل دی جائے گی اور انہوں نے حکومت بنانے کے معاملہ میں آرایس ایس اور بھاگوت کے رول سے انکار کیا ہے، البتہ کہاکہ وہ دوبارہ مہاراشٹر کی سیاست میں نہیں آنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کو ریاست میں اقلیتی حکومت تشکیل دینے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ یہ بات سنیئر پارٹی لیڈر سدھیر منگٹیوار نے کہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادھوٹھاکرے مہاراشٹر میں شیوسینا بی جے پی کے’ گائیڈ‘ ہیں۔ اس دوران مہاراشٹر میں سیاسی بحران کے دوران بی جے پی کے ایک وفد نے راج بھون پہنچ کر گورنر سے ملاقات کی ہے۔ تقریباً 30 سال سے ایک دوسرے کی اتحادی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور شیوسینا کے درمیان انتخابی نتائج آنے کے بعد اقتدار کے لیے کھینچ تان جاری ہے۔

شیوسینا ریاست میں 50-50 کی بنیاد پراقتدار میں شراکت داری چاہتی ہے۔اور دونوں کو ڈھائی ڈھائی سال کے لیے وزیراعلیٰ کا عہدہ ملے۔ شیوسینا کا کہنا ہے کہ دونوں میں اسمبلی الیکشن سے قبل ہی ففٹی۔ 50 پر سمجھوتہ ہوگیا تھا، وہیں بی جے پی نے اس فارمولے کو مسترد کر دیا ہے۔

شیوسینا کے ترجمان مراٹھی اخبار سامنا میں کے اداریہ میں بی جے پی کو نشانہ بنایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے عوام چاہتے ہیں کہ ادھوٹھاکرے کی قیادت میں مہاراشٹر میں شیوسینا کا وزیراعلیٰ عہدہ سنبھال لے اور ساتھ ہی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بی جے پی سرکارکی تشکیل کے سلسلے میں پیسہ کا استعمال کر رہی ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کے لیڈران جمعرات کو ریاستی گورنر سے ملاقات کرنے راج بھون پہنچے ہیں۔

دریں اثناء سنجے راﺅت نے جن کی پارٹی وزیراعلیٰ کے عہدہ پر بضد ہے، کہا ہے کہ شیوسینا کے سربراہ ادھوٹھاکرے کو بی جے پی کی جانب سے فی الحال کو تجویز نہیں موصول ہوئی ہے۔ ریاستی اسمبلی کی مدت آئندہ دو روز میں ختم ہونے والی ہے، جبکہ آئندہ ہفتے نومنتخب ایم ایل ایز کی حلف برداری کے لیے خصوصی اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔ امید ہے کہ رات دیر گئے تک دونوں پارٹیوں کے درمیان حکومت کی تشکیل پر سمجھوتہ ہو جائے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close