اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مہاراشٹر: کئی اضلاع سیلاب کی زد میں، 16 افراد فوت

مہاراشٹر کے کولہاپور، سانگلی، ستارہ، اضلاع میں ابھی تک 16 افراد کی فوت ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، سیلاب سے متاثرہ تقریباً دیڑھ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

اس درمیان سیلاب متاثرین کو لے جانے والی بوٹ کے پلٹنے سے اس میں سوار 14 افراد کے ہلاک ہونے کی دردناک خبر موصول ہوئی ہے۔ سانگلی ضلع کے ہلوس تعلقہ کے برہمنہال گاؤں میں یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق برہمنہال یہاں سیلاب میں پھنسے 30 افراد کو باہر نکالتے وقت بوٹ کے پلٹ جانے سے یہ حادثہ رونما ہوا ہے۔ ان میں سے 14 افراد کی نعشیں مل گئی ہیں، جبکہ مزید 16لوگوں کی تلاش شدت سے جاری ہے۔

واضح رہے کہ یہ کام این ڈی آر ایف کی جانب سے نہیں بلکہ مقامی نوجوان کررہے ہیں۔ گرام پنچایت کی بوٹ سے بچانے کا کام جاری ہے مگر جان بچانے والی جکیٹ کی عدم موجودگی کے سبب لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ مسلسل تین روز سے جاری شدید بارش کے سبب کرشنا ندی خطرے سے اوپر بہہ رہی ہے، بدھ کے روز شام تک سانگلی میونسپل کارپوریشن کے احاطہ تک پہنچ گیا تھا۔

گزشتہ روز سے کرشنا، کوینا ندیوں کے پانی نے اپنی چپٹ میں لے لیا ہے، جس میں ہزاروں مکانات، جانور پھنس گئے ہیں۔شہروں میںگھروں، دکانوں، مندروں میں پانی گھس گیا ہے، سانگلی کے ساتھ ہی ضلع کے والوا، میرج، پلوس اور شیرالہ تعلقہ جات کے ندی کنارے آباد گاؤں بھی سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ ریاستی وزیر اعلی دیویندر فرڈنویس نے متاثرہ علاقوںکے دورے کا منصوبہ بنایا ہے، اس دوران اطلاع ملی ہے کہ ریاستی وزیراعلی سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے ہیں، وہ اپنے دورے میں کولہاپور، میرج، سانگلی وغیرہ بھی جائیں گے۔

دریں اثناءراشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان نواب ملک نے وزیراعلیٰ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہیں، وہ آج یہاں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔ریاست کے کولہاپور، سانگلی، ساتارا، وسندھو درگ وغیرہ اضلاع سیلاب سے جوجھ رہے ہیں۔ دس اضلاع میں سیلابی کیفیت ہونے کے باوجود وزیراعلیٰ انتخابی مہم میں مصروف تھے جو انتہائی غیرذمہ داری کی علامت ہے۔

نواب ملک نے کہا کہ گزشتہ دس دنوں سے سیلاب زدہ علاقوں کے بیشتر گاوں کا رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ بہت سے مقامات پرغذائی قلت پیدا ہوچکی ہے۔ اپوزیشن اپنی ذمہ داریوںکواداکررہا ہے۔ ہمارے ممبران پارلیمنٹ و ممبرانِ اسمبلی اپنی ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرہ لوگوں کی مدد کے لئے دیں گے۔ نواب ملک نے اس موقع پر یہ اطلاع بھی دی کہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کی جانب سے کل (آج) ادویات، بسکٹ ودیگرلازمیاتِ زندگی کی اشیاء کے ساتھ ایک ٹرک کرانتی میدان سے روانہ ہوگا جبکہ اسلام پور میں 72 ہزارسیلاب متاثرین کے رہنے کا انتظام پارٹی کی جانب سے کیا گیا ہے۔

مہاراشٹر کانگریس نے کولہاپور، سانگلی، ستارہ اضلاع میں سیلاب کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے فوج کو طلب کامطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے صدربالاصاحب تھوراٹ نے کہا کہ ان علاقوںمیں صورتحال کو سنگین قراردیا اور کہا کہ این ڈی آرایف ،ایس ڈی آرایف اور ریاستی انتظامیہ کے ہاتھوں سے نکال چکا ہ، اس لیے فوج کو ان علاقوں میں تعینات کیا جائے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close