اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مہاراشٹر: نئی حکومت میں مسلم چہرے ہو سکتے ہیں شامل

کانگریس اور این سی پی کے علاوہ سماجوادی پارٹی اور ایم آئی ایم کے ممبران کو مل سکتی ہے وزارت

مہاراشٹر میں شیوسینا، این سی پی اور کانگریس حکومت کی تشکیل چند دنوں میں عمل میں آنے والی ہے اسی دوران سابقہ دیویندر فڈنویس کی قیادت والی حکومت کے متضاد تشکیل دی جانے والی مہاراشٹر حکومت میں مسلم نمائندوں کی شمولیت بھی متوقع ہے اور اس پر بھی تینوں پارٹیوں کے لیڈران میں گفت و شنید جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق سابقہ حکومت میں کسی بھی مسلم نمائندے کو وزارت میں شامل نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی بی جے پی اور شیوسینا کا کوئی مسلم رکن اسمبلی تھا لیکن تشکیل دی جانے والی نئی حکومت میں تینوں پارٹیوں میں مسئم نمائندے شامل ہیں جس میں شیوسینا کے واحد مسلم رکن اسمبلی عبدالستار نبی شیخ، کانگریس سے امین پٹیل، اسلم شیخ، ذیشان صدیقی، راشٹروادی کانگریس سے نواب ملک، حسن مشرف کے علاوہ مجلس اتحاد المسلمین کے دو اراکین اسمبلی مفتی محمد اسماعیل، فاروق شاہ اور سماجوادی پارٹی کے ابو عاصم اعظمی اور رئیس شیخ ہیں۔

ریاست کی وزارت میں اقلیتوں کی وزارت بھی شامل ہے اور توقع کیا جا رہا ہے کہ اس وزارت کی سربراہی کسی مسلم نمائندے کو ہی دی جائے گی۔ ذرائع نے کہا ہے کہ شیوسینا نے بھی مسلم نمائندوں کو وزارت میں شامل کرنے کیلئے ہری جھنڈی دکھلائی ہے لیکن خود اپنی پارٹی کے مسلم رکن اسمبلی عبدالستار نبی شیخ کے علاوہ وہ دیگر سیاسی پارٹیوں سے ایسے چہرے چاہہ رہی ہے جو مراٹھی سے واقف ہوں اور انہیں مراٹھی بول چال آتی ہو۔

مہاراشٹر سے کانگریس رکن پارلیمنٹ حسین دلوائی کی راجیہ سبھا رکنیت چند ماہ میں ختم ہو جائے گی انہوں نے باندرا کے مضافات سے اسمبلی کا ٹکٹ بھی مانگا تھا لیکن کانگریس اعلی کمان نے ان کی ٹکٹ دینے کی درخواست کو نا منظور کرتے ہوئے ان سے کہا تھا کہ اسمبلی انتخابات میں وہ پارٹی کیلئے کام کریں۔

حال ہی میں جب شیوسینا، کانگریس اور راشٹروادی کانگریس پارٹی کے متحدہ محاذ کی تشکیل کی بات چیت چل رہی تھی تب حسین دلوائی نے ابتدائی ایام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے شیوسینا کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کانگریس کے ساتھ آ جائے اور اس کیلئے انہوں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو اپنی جانب سے ایک خط بھی لکھا تھا کہ کانگریس اس وقت شیوسینا کی حکومت بنانے میں اس کا تعاون کرے۔

خود شیوسینا ترجمان و راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے ان کی تعریف کی تھی اور انہیں ایک ترقی پسند مسلمان بتلاتے ہوئے کہا تھا کہ حسین دلوائی کانگریس پارٹی میں ضرور ہیں لیکن وہ مراٹھی مانس ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حسین دلوائی کو بھی اس وزارت میں شامل کیا جا سکتا ہے اور انہیں قانون ساز کونسل کی رکنیت دی جا سکتی ہے۔

چونکہ شیوسینا نے مسلم نمائندے کی شمولیت پر مراٹھی کی واقفیت کو لازمی قرار دیا ہے اسی لیئے کانگریس کی ایک مسلم خاتون رکن کونسل ایڈوکیٹ حسنہ بانو خلیفے کا نام بھی چرچا میں ہے ۔اور یہ کہا جا رہا ہے کہ حسنہ بانو خلیفے کا تعلق ریاست کے ساحلی مقام کوکن سے ہے جو شیوسینا کا گڑھ بھی مانا جاتا ہے ۔لہذا ان کا نام وزارت کیلئے پیش کیا جا سکتا ہے اور اس پر شیوسینا کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

ایک خبر کے مطابق متوقع حکومت میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے رکن اسمبلی نواب ملک کی شمولیت تو تقریبا طے ہے اسی طرح سے تینوں پارٹیوں کو تعاون دینے والی سماجوادی پارٹی سے بھی ایک نام پر غور کیا جا رہا ہے اور ابو عاصم اعظمی کو اقلیتی وزارت دینے کی بات چیت چل رہی ہے۔ حالانکہ کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ ابو عاصم اعظمی خود وزارت تسلیم نہ کر کے وہاں پر اپنا نمائندہ رئیس شیخ کو موقع دیں گے اور خود اپنے حلقہ کی ترقی پر توجہ دیں گے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close