اپنا دیشتازہ ترین خبریں

مہاراشٹر: راتوں رات بدلے سیاسی منظر نامے پر ایک نظر

مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات کے لئے 21 اکتوبر کو پولنگ ہوئی تھی۔ انتخابی نتائج 24 اکتوبر کو آئے۔ ہریانہ میں حکومت کی تشکیل ہو گئی، لیکن مہاراشٹر میں نتائج آنے کے قریب 29 دن بعد (22 نومبر) تک حکومت بنانے کو لے کر تصویر واضح نہیں ہو سکی تھی۔ جمعہ دیر رات سے لے کر ہفتے کی صبح (23 نومبر) تک سیاسی منظر نامہ بہت تیزی سے تبدیل ہوا۔ بی جے پی پارٹی اراکین کے لیڈر دیویندر فڑنویس نے این سی پی پارٹی اراکین کے لیڈر اجیت پوار کی حمایت سے حکومت بنا لی۔ فڑ نویس نے وزیر اعلی اور اجیت پوار نے نائب وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا۔

جمعہ کی رات سے ہفتے کی صبح تک لمحہ بہ لمحۃ ایسے بدلے حالات:
1. حکومت بنانے کے لئے شیوسینا، این سی پی اور کانگریس نے جمعہ کی شام ساڑھے چھ بجے پہلی مشترکہ میٹنگ کی۔ اجلاس کے بعد این سی پی سربراہ شرد پوار نے کہا کہ وزیر اعلی کے عہدے کے لئے ادھو ٹھاکرے کے نام پر اتفاق ہے۔
2. بی جے پی پارٹی اراکین کے لیڈر فڑنویس نے جمعہ کی رات تقریبا نو بجے گورنر سے مل کر حکومت بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ فڑنویس نے اس کے بعد اجیت پوار سے رابطہ کیا۔ اس وقت این سی پی، شیوسینا اور کانگریس کی میٹنگ چل رہی تھی۔ اجیت پوار اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ اپنا موبائل سوئچ آف کر دیا۔
3. بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری بھوپندر یادو نئی دہلی سے رات قریب 11 بجے ممبئی پہنچے۔
4. بی جے پی اور این سی پی کے لیڈر آدھی رات 12 بجے گورنر ہاؤس پہنچے۔ حکومت بنانے کا دعوی پیش کیا۔ حلف برداری کے لئے ہفتے کے روز صبح کا وقت طے ہوا۔
5. اجیت پوار نے رات ایک بجے این سی پی ممبران اسمبلی کے ساتھ ملاقات کی۔ میٹنگ تقریبا ایک گھنٹے جاری رہی۔ اس کے بعد ممبران اسمبلی کی حمایت کا خط گورنر کو پیش کیا گیا۔
6. صبح 5.45 بجے کے قریب صدر راج ہٹانے کا حکم جاری ہوا
7. صبح قریب آٹھ بجے حلف برداری کا عمل مکمل ہو گیا اور فڑ نویس ایک بار پھر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بن کر سامنے آ گئے۔

اسمبلی کی جماعتی حیثیت:
کل نشستیں: 288، اکثریت: 145 ایم ایل اے
بی جے پی: 105، این سی پی: 54، شیوسینا: 56، کانگریس: 44، آزاد امیدوار: 13، دیگر: 16.
یاد رہے کہ 13 میں سے چھ آزاد ممبر اسمبلی پہلے ہی بی جے پی کی حمایت کر چکے ہیں۔

کب کیا ہوا:
21 اکتوبر – مہاراشٹر کی 288 سیٹوں پر پولنگ۔
24 اکتوبر – اسمبلی انتخابات کے نتائج آئے۔
25 اکتوبر – وزیر اعلی کے عہدے کو لے کر بی جے پی اور شیوسینا میں تنازعہ شروع۔ شیوسینا وزیر اعلی کے عہدے پر اڑی.
04 نومبر – این سی پی سربراہ شرد پوار دہلی میں کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کی۔
12 نومبر – کسی بھی پارٹی یا اتحاد کے حکومت نہ بنا پانے کی پوزیشن میں گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے صدر راج کی سفارش کی۔
اور پھر 23 نومبر کی صبح بس ایک رات میں سیاسی نامہ ایسا تبدیل ہوا کہ فڑنویس وزیر اعلیٰ بن گئے۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close