تازہ ترین خبریںدلی نامہ

مکہ مکرمہ میں ناقص انتظامات سے عازمین حج پریشان

ہندوستانی حج مشن کی لاپروائی، نہیں لے رہے عازمین کی خیر خبر، مسائل حل کرنے کو تیار نہیں کوئی، دہلی سے گئے ہوئے خادم الحجاج ندارد، معلّم کا پتہ نہیں، خراب ٹرانسپورٹ سسٹم، بسوں کیلئے دو دو گھنٹے کرنا پڑ رہا ہے عازمین کو انتظار، بلڈنگ میں آگ لگنے پر بھی نہیں لی گئی ہندوستانی حج مشن کی جانب سے کوئی خیر خبر،

نئی دہلی (انور حسین جعفری)
مرکزی وزارت اقلیتی امور یا سی جی آئی جدہ بھلے ہی حج مشن 2019 کے مبارک سفر پر روانہ ہوئے ہندوستانی حاجیوں کو مبینہ بہتر سہولتیں فراہم کرنے کے دعوے کر رہے ہوں، لیکن سچائی اس کے بر عکس سامنے آ رہی ہے۔ دہلی امبارکیشن پوائنٹ سے سفر حج پر گئے عازمین کو زبردست مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن مکہ مکرمہ میں ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہے۔ عازمین حج کی شکایت ہے کہ معلّم یا ان کے نمائندوں کا تو پتہ ہی نہیں ہے، لیکن دہلی سے عازمین کے ساتھ گئے ہوئے خادم الحجاج بھی ندارد ہیں۔ ان خادم الحجاج کی شکلیں بھی ابھی تک دہلی کے عازمین حج نے نہیں دیکھی ہیں۔ جبکہ ہندوستانی حج مشن کی بھی ناقص کارگردگی سامنے آ رہی ہے، ان کی جانب سے بھی دہلی کے حاجیوں کی کوئی خیر خبر تک نہیں لی جا رہی ہے۔ یہاں تک گزشتہ منگل کو مکہ مکرمہ عزیزیہ کے مکتب نمبر 53 کی ایک عمارت نمبر 298 کے پہلے دن تیسرے فلور اور اگلے دن چوتھے فلور پر ا ٓگ لگنے کے بعد بھی ہندوستانی حج مشن کی جانب سے ان کی خبر تک نہیں لی گئی اور نہ ہی یہاں ٹھہرے عازمین کے ساتھ ا ٓئے خادم الحجاج نے ان کی کوئی خیر خبر لی۔ عازمین کی شکایت ہے کہ ہندوستانی حکومت، سی جی آئی اور حج کمیٹی آف انڈیا کی لا پروائی کے سبب عازمین کو خراب ٹرانسپورٹ نظام کا سامنا ہے۔ عزیزیہ میں ان کی رہائش کئی کلو میٹر دور دی گئی ہے اور وہاں سے ان کو حرم کیلئے سیدھا بس نہیں دی گئی، ان کو دو دو بسیں بدلنی پڑتی ہیں، جن کیلئے کئی کئی گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔

دہلی سے گئے ہوئے کئی عازمین حج نے ’رو زنامہ سچ کی آواز‘ سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے شکایت کی کہ خراب ٹرانسپورٹ نظام سے وہ بیحد پریشان ہیں۔ دہلی کے عازم ’فیروز‘ کور نمبر DLF1986 ہے نے کہاکہ بسوں کیلئے کئی کئی گھنٹے کھڑے ہونا پڑتا ہے، بزرگوں اور خواتین کا برا حال ہے، عزیزیہ میں تقریباً 8 کلو میٹر دور رہائش دی گئی اور وہاں سے ڈائرکٹ بس بھی حرم کیلئے نہیں دی گئی ہے دو بسیں تبدیل کرنا پڑتی ہیں۔ جن کا گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ساتھ آئے خادم الحجاج کی ہم نے شکل تک نہیں دیکھی وہ غائب ہیں۔ جبکہ وہیں پاکستان اور دیگر ممالک کے عازمین کیلئے نہ صرف سیدھا بس سروس ہے بلکہ ان کے خادم الحجاج وہاں لائن لگوا کر عازمین کو طریقے سے بسوں میں سوار کراتے ہیں۔ عزیزیہ کے مکتب نمبر 53 کی بلڈنگ نمبر 302 میں ٹھہرے دہلی کے ہی گلفام احمد، کور نمبر DLF-1673-2 اور اسی عمارت میں ٹھہرے ان کے دوسرے 15-10 ساتھی جن کے کور نمبر 1666،1605 اور 1649 وغیرہ نے شکایت کی کہ یہاں ٹرانسپورٹ کی تو سب سے بڑی پریشانی ہے ہی اس کے علاوہ مزید پریشانیاں یہ ہیں کہ یہاں کوئی ان کی بات سننے والایا مدد کر نے والا نہیں ہے۔

”زبیر“نامی ان کے خادم الحجاج کا پتہ نہیں ہے اور نہ ہی اس نے ہماری کوئی خیر خبر لی ہے۔ یہاں عمارت میں واشنگ مشین نہیں ہے، 5 کمروں پر ایک فرج دیا ہوا ہے جبکہ اکثر عمارتوں میں ہر کمرے میں ایک فرج ہے اور واشنگ مشین ہے۔ اشوکا ہوٹل کے مینجمنٹ کے رٹائرڈ اظہار خان کور نمبر DLF1672 نے شکایت کی کہ ٹرانسپورٹ کا سسٹم بیحد خراب ہے، دو بسیں بدلنی پڑتی ہیں، جن کا گھنٹو ں انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ بس بھی بہت دور اتارتی ہے جہاں سے حرم تک پیدل جانا پڑتا ہے۔ مدینہ کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ وہاں بھی کئی کلو میٹر دور ٹھہرایا گیا تھا۔ مکہ مکرمہ عزیزیہ عمارت میں لگی آگ میں اپنی جان پر کھیل کر کئی ہندوستانیوں جان بچانے والے دہلی کے مصطفی آباد کے محمد عارف کور نمبر DLF1753-2 نے شکایت کی کہ بسوں کی بری حالت گھنٹوں انتظار کے بعد بس ملتی ہے، جس میں بھیڑ بکریوں کی طرح بس میں ٹھونس ٹھونس کر بھرا جاتا ہے، جبکہ خادم الحجاج یا ہندوستانی حج مشن کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستانی حکومت کی جانب سے حج مشن کیلئے سرکاری عملہ، میڈیکل اسٹاف، حج کمیٹی کا اسٹاف ڈیپوٹیشن پر جاتے ہیں، ان کے ساتھ ہی سرکار کے مختلف ڈپارٹمنٹ سے ہر 200 عازمین پر 1خادم الحجاج سرکاری خرچ پر سعودی عرب روانہ کیا جا سکے تاکہ وہ ہندوستانی عازمین کی مدد کر سکے۔ اس کیلئے ان کو حکومت کی جانب سے اجرت بھی دی جاتی ہے، لیکن ہمیشہ ہوتا اس کے بر عکس ہے، سرکاری محکموں کے یہ خادم الحجاج یہاں حج خدمات بھی اجرت لینے کے باوجود سرکاری نوکری کی طرح کرتے ہیں اور سعودی عرب کی زمین پر قدم رکھتے ہی ’غائب‘ ہو جاتے ہیں۔ جس کے سبب عازمین حج کو زبردست پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دہلی سے حج 2019 کے سفر پر گئے متعدد عازمین حج کا مرکزی وزارت اقلیتی امور سے سوال ہے کہ خادم الحجاج اور ڈیپوٹیشن پر سعودی عرب پہنچا سرکاری عملہ کہاں ہے؟۔

اور دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close